بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Friday, 26 June 2026 | پاکستان: 11 محرم 1448

آئین کا احترام اور پاسداری

Friday, 26 June, 2026

5 جولائی 1977 پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دن تھا۔ اس روز جنرل محمد ضیا الحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹتے ہوئے ملک میں مارشل لا نافذ کیا اور 1973 کے آئین کو معطل کر دیا۔ یہ واقعہ صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھا بلکہ اس نے پاکستان کے آئینی ، جمہوری اور ریاستی نظام پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ آج جب ہم پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کی بات کرتے ہیں تو یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کسی بھی ملک کی مضبوطی کا انحصار اس کے آئین کے احترام اور قانون کی بالادستی پر ہوتا ہے۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ آئین کسی بھی ریاست کا بنیادی اور اعلیٰ ترین قانونی دستاویز ہوتا ہے۔ یہ صرف چند صفحات پر مشتمل تحریر نہیں بلکہ قوم اور ریاست کے درمیان ایک مقدس معاہدہ ہوتا ہے جو شہریوں کے حقوق، ریاست کے فرائض ، اداروں کے اختیارات اور حکومت کے طریقہ کار کا تعین کرتا ہے۔پاکستان کا 1973 کا آئین بھی اسی مقصد کے تحت تشکیل دیا گیا تھا۔پاکستان نے قیام کے بعد متعدد سیاسی اور آئینی نشیب و فراز دیکھے ہیں اور مختلف ادوار میں جمہوری حکومتوں کا خاتمہ ہوا، آئین معطل کیا گیا اور غیر آئینی اقدامات کے ذریعے اقتدار سنبھالا گیااور ان تمام تجربات نے یہ ثابت کیا کہ آئین سے انحراف ملک کو استحکام کے بجائے مزید مشکلات، سیاسی انتشار اور ادارہ جاتی کمزوریوں کی طرف لے جاتا ہے۔ 5 جولائی 1977 کے بعد نافذ ہونے والے مارشل لا نے پاکستان کی سیاست، معیشت اور سماجی ڈھانچے پر دور رس اثرات مرتب کیے۔ اگرچہ ہر دور کے اپنے حامی اور ناقد موجود ہوتے ہیں لیکن ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آئین کی معطلی نے جمہوری تسلسل کو نقصان پہنچایا۔ 1973کے آئین کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کو کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس متفقہ کے خالق ذوالفقار علی بھٹو شہید کو بھی مارشل لا نافذ کرنیوالے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیا الحق نے موت کی نیند سلا دیا۔آئین کا احترام دراصل ریاست کے تمام اداروں کے احترام کا نام ہے۔ جب آئین موجود ہو تو مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ اپنی اپنی آئینی حدود میں کام کرتی ہیں۔ اس سے اختیارات کا توازن برقرار رہتا ہے اور کسی بھی ادارے یا فرد کو غیر معمولی اختیارات حاصل نہیں ہوتے۔ آئین ہی وہ دستاویز ہے جو عوام کو اظہار رائے کی آزادی، مذہبی آزادی، منصفانہ سماعت، تعلیم اور دیگر بنیادی حقوق کی ضمانت فراہم کرتی ہے اور اس سلسلے میںپاکستان کے عوام نے ہمیشہ جمہوریت اور آئینی حکمرانی کی حمایت کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملک میں جمہوری عمل کی بحالی کیلئے مختلف ادوار میں جدوجہد کی گئی۔ وکلا تحریک، سیاسی جماعتوں کی کوششیں اور سول سوسائٹی کی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی قوم آئین کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے۔ آج بھی جب ملک کو مختلف سیاسی، معاشی اور سماجی چیلنجز کا سامنا ہے تو ان کا حل صرف اور صرف آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تلاش کیا جا سکتا ہے۔آئین کی پاسداری صرف حکمرانوں اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا بھی فرض ہے۔ ایک باشعور قوم اپنے آئین کا احترام کرتی ہے، قانون کی پابندی کرتی ہے اور قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیتی ہے۔ جب شہری اپنے حقوق کیساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ ہوں تو ملک میں امن، استحکام اور ترقی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں ۔ تعلیمی اداروں میں آئین کی تعلیم کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوان نسل کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آئین کیا ہے، اس کی اہمیت کیا ہے اور یہ ان کی زندگیوں پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر نوجوان آئینی شعور سے آراستہ ہوں گے تو وہ مستقبل میں بہتر شہری، ذمہ دار رہنما اور قانون پسند معاشرے کے معمار بن سکیں گے۔ ایک باشعور اور باخبر معاشرہ ہی جمہوری اقدار کی حفاظت کر سکتا ہے ۔پاکستان کو آج جن مسائل کا سامنا ہے، ان میں سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات، گورننس کے مسائل اور سماجی چیلنجز شامل ہیں ۔ ان تمام مسائل کے حل کیلئے ضروری ہے کہ تمام سیاسی قوتیں، ریاستی ادارے اور عوام آئین کی بالادستی پر متفق ہوں۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے لیکن ان اختلافات کو آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے حل کرنا ہی قومی مفاد میں ہوتا ہے اس سلسلہ میں قائداعظم محمد علی جناح نے ایک ایسی ریاست کا خواب دیکھا تھا جہاں قانون کی حکمرانی ہو، انصاف سب کیلئے یکساں ہو اور ریاست کے تمام معاملات اصولوں کے مطابق چلائے جائیں۔ یہ خواب اسی وقت حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے جب آئین کو ریاستی نظام کی بنیاد تسلیم کیا جائے اور اس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھا جائے۔آئین کی معطلی، غیر آئینی اقدامات اور جمہوری عمل میں رکاوٹوں کے نتائج قوم کے سامنے ہیں۔ اگر پاکستان کو ترقی یافتہ، مستحکم اور خوشحال ممالک کی صف میں شامل کرنا ہے تو آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور جمہوری تسلسل کو ہر حال میں برقرار رکھنا ہوگا۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ آئین کسی ایک جماعت، حکومت یا ادارے کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ اثاثہ ہے۔ اس کا احترام دراصل پاکستان کے احترام کے مترادف ہے ۔ آئین کی پاسداری ہی قومی اتحاد، سیاسی استحکام ، معاشی ترقی اور عوامی خوشحالی کی ضامن ہے۔ایک مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ ہم سب آئین کی حرمت، قانون کی بالادستی اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کا عہد کریں تاکہ آنیوالی نسلوں کو ایک بہتر، مستحکم اور روشن پاکستان دیا جا سکے۔” آئین کی بالادستی ہی ریاست کی مضبوطی، جمہوریت کی بقا اور قوم کی کامیابی کی بنیاد ہے۔”

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *