بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 30.7°C
Saturday, 04 July 2026 | پاکستان: 20 محرم 1448

آبادی اور وسائل کو متوازن بنانے کی ضرورت

Saturday, 4 July, 2026

کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی آبادی اور وسائل کے درمیان قائم متوازن تعلق ہوتا ہے۔ جب آبادی کی رفتار معیشت، تعلیم، صحت، روزگار، پانی، توانائی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی سے زیادہ تیز ہو جائے تو ترقی کے ثمرات وسیع ہونے کے بجائے محدود ہونے لگتے ہیں۔ یہ وہ بنیادی حقیقت ہے جس پر وزیراعظم نے حالیہ اجلاس میں زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے آبادی اور وسائل کے درمیان توازن قائم کرنا ناگزیر ہے۔ تیزی سے بڑھتی آبادی قومی وسائل پر دبا بڑھا رہی ہے یہ مسئلہ صرف حکومتی تشویش نہیں بلکہ عالمی معاشی تجربات بھی اسی حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی کی سالانہ شرح نمو تقریبا دو فیصد کے قریب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر سال لاکھوں نئے شہری خوراک، تعلیم، صحت، رہائش، روزگار اور دیگر بنیادی سہولتوں کے طلبگار بن جاتے ہیں۔ دوسری جانب ملکی معیشت اگرچہ بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے مگر یہ رفتار اتنی نہیں کہ آبادی میں مسلسل اضافے کے معاشی اثرات کو مکمل طور پر جذب کر سکے۔ نتیجتاً فی کس آمدنی میں نمایاں بہتری نہیں آتی اور عام آدمی کی زندگی میں خوشحالی کے آثار محدود رہتے ہیں۔ قومی ترقی کا اصل پیمانہ فی کس آمدنی میں اضافہ ہے۔ جب معیشت کی رفتار آبادی کے اضافے سے نمایاں طور پر زیادہ ہو تو غربت میں کمی آتی ہے، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں، سرمایہ کاری بڑھتی ہے اور معیارِ زندگی بلند ہوتا ہے۔ لیکن اگر قومی پیداوار اور آبادی تقریبا ایک ہی رفتار سے بڑھیں تو اضافی پیداوار کا بڑا حصہ صرف نئی آبادی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں صرف ہو جاتا ہے۔ یوں ترقی کا ثمر عام شہری تک نہیں پہنچ پاتا اور تعلیم، صحت، رہائش اور روزگار جیسے شعبوں پر دبائو مسلسل بڑھتا رہتا ہے۔پاکستان کو درپیش معاشی مشکلات اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، محدود صنعتی ترقی اور کم پیداواری صلاحیت نے لاکھوں خاندانوں کی قوتِ خرید کو متاثر کیا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں صرف آمدنی میں اضافے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اگر آبادی بھی اسی رفتار سے بڑھتی رہے تو غربت اور معاشی عدم مساوات کے خاتمے کی رفتار سست رہے گی۔ اس معاشی دائرے سے نکلنے کے لیے ایسی جامع حکمت عملی درکار ہے جس میں آبادی اور وسائل دونوں کو یکساں اہمیت دی جائے۔تاہم اس تصویر کا ایک روشن پہلو بھی ہے۔ پاکستان کی تقریبا دو تہائی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں معیاری تعلیم، فنی تربیت، جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مہارت، صحت مند ماحول اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے اپنی نوجوان آبادی کو بوجھ کے بجائے ڈیموگرافک ڈویڈنڈ میں تبدیل کیا اور چند دہائیوں میں مضبوط معیشتوں کی صف میں جگہ بنا لی۔ اس کے برعکس اگر نوجوان آبادی غیر تعلیم یافتہ، غیر ہنر مند اور بے روزگار رہے تو قومی وسائل پر اضافی بوجھ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ پاکستان کو صرف آبادی میں کمی نہیں، آبادی کے موثر انتظام کی ضرورت ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی، خواتین کی تعلیم، ماں اور بچے کی بہتر صحت، بچیوں کی اعلی تعلیم، خواتین کی معاشی شمولیت، عوامی آگاہی اور بنیادی صحت کی سہولتوں کی فراہمی وہ عوامل ہیں جنہوں نے دنیا کے متعدد ممالک میں آبادی کی رفتار کو متوازن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافہ، زرعی اصلاحات، مثر ٹیکس نظام، سرمایہ کاری کے فروغ، سستی توانائی، جدید ٹیکنالوجی، پانی کے دانشمندانہ استعمال اور انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کے ذریعے قومی وسائل میں بھی مسلسل اضافہ کرنا ہوگا۔ صرف آبادی کو ہدف بنانا مسئلے کا مکمل حل نہیں، وسائل کی رفتار کو بھی اسی تناسب سے آگے بڑھانا ضروری ہے۔ آبادی میں اضافہ موجودہ رفتار سے جاری رہا جبکہ روزگار، خوراک، پانی، توانائی، تعلیم اور صحت کی سہولتیں اسی نسبت سے نہ بڑھ سکیں تو بے روزگاری، غربت، شہری آبادی کا بے ہنگم پھیلا، رہائشی بحران، ماحولیاتی آلودگی، پانی کی قلت، زرعی زمینوں پر دبا اور سماجی بے چینی جیسے مسائل مزید سنگین ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر آبادی میں متوازن اضافہ ہو اور معیشت اس سے کہیں زیادہ رفتار سے ترقی کرے تو فی کس آمدنی بڑھے گی، متوسط طبقہ مضبوط ہوگا، غربت میں کمی آئے گی اور ریاست کے پاس عوامی فلاح، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے پر زیادہ سرمایہ کاری کے وسائل میسر آئیں گے۔ پاکستان کو آج نعروں سے زیادہ ایک متوازن قومی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ آبادی ہماری طاقت ہے کیساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے ۔ اگر اسے تعلیم، ہنر، صحت اور روزگار سے جوڑ دیا جائے تو نوجوان پاکستان کی ترقی کا سب سے مضبوط ستون بن سکتے ہیں۔ لیکن اگر آبادی اور وسائل کے درمیان خلیج بڑھتی رہی تو معاشی ترقی کے اہداف ہمیشہ ادھورے رہیں گے۔اسی تناظر میں وزیراعظم کی جانب سے نیشنل پاپولیشن کونسل کا افتتاحی اجلاس جلد بلانے کی ہدایت اہم پیش رفت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی بہتری سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ایسی مربوط پالیسی اختیار کی جائے جس میں وسائل کے پھیلائو اور انسانی سرمایہ دونوں کو یکساں اہمیت دی جائے۔ پائیدار ترقی کا راز آبادی کو محدود کرنے میں نہیں آبادی اور وسائل کے درمیان ایسا متوازن رشتہ قائم کرنے میں ہے جو ہر پاکستانی کو بہتر معیارِ زندگی، باعزت روزگار اور محفوظ مستقبل کی ضمانت دے سکے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *