بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 29°C
Wednesday, 15 July 2026 | پاکستان: 1 صفر 1448

خواتین کی ترقی بارے اوآئی سی وزارتی کانفرنس

Wednesday, 15 July, 2026

اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم کی خواتین کے امور پر نویں وزارتی کانفرنس کا کامیاب انعقاد اور اس کے بعد تنظیم کی سربراہی کا پاکستان کو منتقل ہونا بلاشبہ ایک تاریخی سفارتی کامیابی ہے ۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ کی جانب سے کانفرنس کے دوران اور اختتام پر کیے گئے اعلانات اور بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان مسلم دنیا میں خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے ایک قائدانہ کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔ تاہم جہاں یہ منصب پاکستان کیلئے ایک بہت بڑا بین الاقوامی اعزاز ہے، وہاں یہ ایک کٹھن اور اہم ترین ذمہ داری بھی ہے، جس کے تحت پاکستان کو نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ خود اپنے ملک کے اندر بھی مسلم خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی ترقی کیلئے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔کانفرنس کے دوران رکن ممالک کی جانب سے متفقہ طور پر منظور کی گئی سفارشات اور مشاورت اس بات کی غماز ہیں کہ مسلم امہ میں اب یہ احساس پختہ ہو چکا ہے کہ نصف آبادی (خواتین)کو پسماندہ رکھ کر کوئی بھی معاشرہ ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔ جیسا کہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے اپنے خطاب میں درست نشاندہی کی کہ خواتین کو بااختیار بنانا نہ صرف جدید دور کا تقاضا ہے بلکہ یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات اور ہماری اجتماعی سماجی ذمہ داری کا حصہ بھی ہے۔ اسلام نے چودہ سو سال قبل خواتین کو وہ حقوق دیے تھے جن کا تصور مغربی دنیا میں چند صدیاں قبل تک ناپید تھا۔ معاشی خود مختاری، وراثت میں حصہ، تعلیم کا حق اور سماجی وقار اسلام کی اساس ہیں، لیکن بدقسمتی سے مسلم دنیا کے کئی خطوں میں ثقافتی رسوم و رواج اور غلط تشریحات کی وجہ سے خواتین کو ان کے حقیقی اسلامی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے اس عزم کا اعادہ خوش آئند ہے کہ اب مسلم دنیا ان روایتی بیڑیوں کو توڑنے کے لیے سنجیدہ ہے۔اس کانفرنس کا سب سے اہم پہلو معاشی اور تکنیکی میدان میں خواتین کی شمولیت ہے۔ موجودہ دور ڈیجیٹل انقلاب کا دور ہے جہاں معیشت کا دارومدار روایتی ذرائع کے بجائے ٹیکنالوجی پر منتقل ہو چکا ہے۔ اس تناظر میں وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ کا یہ کہنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ خواتین کو محض ٹیکنالوجی حاصل کرنے یا اس کا استعمال کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ انہیں ٹیکنالوجی تخلیق کرنے، کاروباری منصوبے شروع کرنے اور ڈیجیٹل معیشت کی قیادت کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلم ممالک میں خواتین کی ایک بڑی تعداد اعلی تعلیم تو حاصل کر لیتی ہے لیکن عملی میدان یا افرادی قوت کا حصہ نہیں بن پاتی۔ اس خلیج کو پاٹنے کے لیے ضروری ہے کہ او آئی سی کے رکن ممالک آپس میں ایسے معاہدے اور نیٹ ورکس قائم کریں جو مسلم خواتین کو اسٹارٹ اپس، سائنس، ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے شعبوں میں آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کریں۔سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا یہ عزم کہ پاکستان تمام رکن ریاستوں کے تعاون سے مسلم خواتین کی ترقی کے لیے فعال کردار ادا کرے گا، ایک خوش آئند اشارہ ہے لیکن اس منصب اور صدارت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ پاکستان خود کو ایک “رول ماڈل” کے طور پر پیش کرے۔ پاکستان میں خواتین کی آبادی کل آبادی کا تقریبا نصف ہے، مگر معاشی میدان میں ان کی شمولیت کی شرح خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں اب بھی تسلی بخش نہیں ہے۔ خواتین پر تشدد، کم عمری کی شادیاں، تعلیم تک ناقص رسائی، اور وراثت سے محرومی جیسے چیلنجز آج بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔ جب تک ہم اپنے ملک کے اندر قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروا کے خواتین کو ایک محفوظ اور سازگار ماحول فراہم نہیں کریں گے، تب تک عالمی سطح پر ہماری قیادت محض بیانات تک محدود رہے گی۔ صدارت ملنے کے بعد اب پاکستان پر دوہری ذمہ داری ہے؛ اسے داخلی محاذ پر بھی اصلاحات کو تیز کرنا ہوگا اور بین الاقوامی سطح پر مسلم دنیا کی رہنمائی بھی کرنی ہوگی۔خواتین کو بااختیار بنانے کا عمل محض کسی ایک وزارت یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کیلئے ریاست، علمائے کرام، میڈیا اور سول سوسائٹی کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے نصاب، سماجی رویوں اور خاندانی نظام میں ایسی تبدیلیاں لانی ہوں گی جو بچیوں کو خواب دیکھنے اور انہیں پورا کرنے کا حوصلہ دیں۔ او آئی سی کی اس کانفرنس کا اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ ماضی میں بھی ایسی کئی کانفرنسیں ہوئیں اور اعلامیے جاری کیے گئے، لیکن ان پر عمل درآمد کی رفتار سست رہی۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی صدارت کے دوران ایک واضح، قابلِ عمل اور وقت کے تعین کے ساتھ “ایکشن پلان” تیار کرے جس کی مانیٹرنگ باقاعدگی سے کی جائے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ او آئی سی کی نویں وزارتی کانفرنس کا اعلامیہ مسلم خواتین کی تقدیر بدلنے کا ایک بہترین موقع پیش کرتا ہے۔ پاکستان کو اس سفارتی کامیابی کو غنیمت جانتے ہوئے مسلم دنیا میں ایک ترقی پسند، پرامن اور متحرک ملک کے طور پر ابھرنا چاہیے۔ مسلم امہ کی ترقی خواتین کی ترقی سے مشروط ہے۔ اگر ہم نے اس موقع کا درست استعمال کیا اور سفارتی کوششوں کو عملی جامہ پہنایا، تو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم دنیا کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو کر امتِ مسلمہ کو زوال سے نکالنے میں اپنا تاریخی کردار ادا کر سکیں گی۔ حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس عزم کو حقیقت میں بدلنے کیلئے فوری طور پر او آئی سی کے رکن ممالک کے ساتھ ملکر ایک مانیٹرنگ سیل قائم کرے تاکہ کانفرنس کے دوران کیے گئے وعدے فائلوں کی نذر ہونے کے بجائے زمین پر سچ ثابت ہو سکیں۔
وزیراعظم شہبازشریف کادورہ قطر
پاکستان اور قطر کے تعلقات محض روایتی سفارتکاری تک محدود نہیں، بلکہ ان کی جڑیں مشترکہ عقیدے، تہذیب اور باہمی احترام کے مضبوط رشتوں میں پیوست ہیں۔ حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف کا ایک روزہ دورہِ دوحہ اور قطر کی قیادت سے تعزیت کا ملاپ اسی گہرے اور برادرانہ تعلق کا عکاس ہے۔ وزیراعظم نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کر کے ان کے والد اور سابق امیرِ قطر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کے انتقال پر حکومتِ پاکستان اور عوام کی جانب سے جس دلی دکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا، وہ دونوں ملکوں کے درمیان موجود مضبوط جذباتی رشتے کی ترجمانی کرتا ہے ۔ فادر امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی: ایک تاریخ ساز شخصیت شیخ حمد بن خلیفہ الثانی محض قطر کے سابق حکمران ہی نہیں تھے، بلکہ وہ جدید قطر کے معمار سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے دورِ حکومت میں قطر نے نہ صرف معاشی طور پر بے پناہ ترقی کی بلکہ عالمی سفارتکاری، ثالثی اور کھیلوں کے میدان میں بھی ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ انہوں نے پاکستان اور قطر کے درمیان اقتصادی اور تذویراتی تعاون کی مضبوط بنیادیں رکھیں۔ ان کے انتقال پر پاکستانی قیادت کا اس سطح پر اظہارِ تعزیت کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم قطر کی تعمیر و ترقی اور دونوں ممالک کے روابط کو مضبوط بنانے میں ان کے تاریخی کردار کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔ غیر معمولی سفارتی پیغام اس دورے کی سب سے اہم بات وفد کی تشکیل ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ مسلم لیگ(ن)کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ جیسی اہم سیاسی اور حکومتی شخصیات کی موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان اس افسوسناک موقع پر قطری قیادت کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔ یہ محض ایک رسمی سفارتی دورہ نہیں تھا بلکہ اس میں دونوں برادر ممالک کے قائدین کے درمیان ذاتی اور خاندانی سطح پر موجود پائیدار تعلقات کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ نواز شریف کی موجودگی سفارتی حلقوں میں ایک مضبوط پیغام بھیجتی ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی قیادت قطر کے ساتھ مضبوط شراکت داری پر متفق ہے۔پاک قطر تعلقات کا معاشی و تذویراتی تناظرسفارتکاری میں دکھ اور سکھ کے لمحات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا مستقبل کے تعلقات کو مزید پائیدار بناتا ہے۔ یہ مختصر دورہ ثابت کرتا ہے کہ جب بھی برادر اسلامی ممالک پر کوئی کٹھن وقت آتا ہے تو پاکستان ہمیشہ ایک مخلص دوست کی طرح آگے بڑھ کر اپنا کندھا پیش کرتا ہے۔ قطر کی قیادت نے جس گرمجوشی اور احترام کے ساتھ پاکستانی وفد کا استقبال کیا، وہ اس بات کی گواہی ہے کہ قطری حکومت بھی پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتی ہے ۔ یہ تعزیتی دورہ جہاں ایک طرف اسلامی یکجہتی اور اخلاقی فرض کا نمونہ ہے، وہاں دوسری طرف یہ پاک قطر سفارتی اور برادرانہ تعلقات کے ایک نئے اور مضبوط دور کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوگا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *