بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 33°C
Friday, 17 July 2026 | پاکستان: 3 صفر 1448

آبادی کا بحران: فیصلہ کن اقدامات کا وقت

Friday, 17 July, 2026

پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کو درپیش سب سے بڑے ترقیاتی چیلنجز میں سے ایک بن چکی ہے۔ اگرچہ مہنگائی، سیاسی عدم استحکام اور موسمیاتی تبدیلی قومی مباحثے پر حاوی ہیں، لیکن آبادی میں بے تحاشا اضافہ خاموشی سے معاشی ترقی کو سست، عوامی خدمات کو کمزور اور پائیدار ترقی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ 25 کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا آبادی والا ملک ہے، جبکہ ہر سال تقریبا 50 لاکھ افراد اس آبادی میں شامل ہو رہے ہیں۔ اگر اس رجحان پر موثر اور مستقل پالیسیوں کے ذریعے قابو نہ پایا گیا تو ملک کے وسائل، بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولیات پر دبا مزید بڑھتا جائے گا۔
پاکستان کی شرحِ پیدائش جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔ ملک میں فی ایک ہزار افراد پر تقریبا 26 بچوں کی پیدائش ہوتی ہے، جبکہ بھارت میں یہ شرح تقریبا 16، بنگلہ دیش میں 17، نیپال میں 18، ایران میں 13 اور چین میں صرف 6 سے 7 ہے۔ اسی طرح پاکستان میں ایک خاتون اوسطا 3.3 بچوں کو جنم دیتی ہے، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ شرح تقریبا 2.0، ایران میں 1.7 اور چین میں 1.1 سے بھی کم رہ گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کی آبادی اپنے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی نے تعلیم اور صحت کے شعبوں پر غیر معمولی دبا ڈال دیا ہے۔ پاکستان میں فی ایک ہزار افراد پر تقریبا 1.05 ڈاکٹر دستیاب ہیں، جبکہ ایران میں یہ تعداد 1.8 اور چین میں 2.5 ہے۔ نرسوں کی صورتحال بھی تشویشناک ہے، جہاں پاکستان میں فی ایک ہزار افراد پر 0.8 سے بھی کم نرسیں موجود ہیں، جبکہ ایران میں 2.7 اور چین میں 3.8 نرسیں فی ہزار افراد دستیاب ہیں۔ تعلیمی شعبہ بھی شدید دبا کا شکار ہے۔ پاکستان میں فی ایک ہزار افراد پر اوسطا 2.3 اساتذہ ہیں، جس کے باعث ہر سال سکولوں میں داخل ہونے والے لاکھوں بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔شرحِ خواندگی کے لحاظ سے بھی پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک سے پیچھے ہے۔ پاکستان کی شرحِ خواندگی تقریبا 62 فیصد ہے، جبکہ بھارت میں 77 فیصد، بنگلہ دیش میں 75 فیصد، ایران میں 89 فیصد اور چین میں تقریبا 97 فیصد ہے۔ تعلیم میں یہ فرق نہ صرف معاشی پیداوار کو متاثر کرتا ہے بلکہ خواتین کے بااختیار ہونے، روزگار کے مواقع اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق شعور کو بھی محدود کرتا ہے۔رہائش کا بحران بھی آبادی میں اضافے کا ایک بڑا نتیجہ ہے۔ پاکستان کو اس وقت ایک کروڑ سے زائد مکانات کی کمی کا سامنا ہے۔ اگرچہ دیہی علاقوں میں بہت سے خاندان اپنے ذاتی گھروں میں رہتے ہیں، لیکن آبادی میں مسلسل اضافے اور شہروں کی طرف ہجرت کے باعث مناسب رہائش کی دستیابی کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس صورتحال نے بڑے شہروں میں کچی آبادیوں، ہجوم، ٹریفک، آلودگی اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل کو جنم دیا ہے۔پاکستان کی تقریبا 61 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں جبکہ 39 فیصد شہری علاقوں میں رہتی ہے۔ کراچی، لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی اور پشاور جیسے بڑے شہر روزگار، تعلیم اور علاج کی غرض سے آنے والے لاکھوں افراد کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔ تاہم شہری منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کی رفتار آبادی کے اضافے کے مطابق نہیں بڑھ سکی، جس کے نتیجے میں پانی کی قلت، نکاسی آب کے مسائل، ٹریفک جام، فضائی آلودگی اور غیر منصوبہ بند آبادیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔پاکستان میں آبادی میں تیزی سے اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ دیہی علاقوں میں خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات تک محدود رسائی، خواتین کی کم شرحِ خواندگی، کم عمری کی شادیاں، غربت، بڑے خاندان کو ترجیح دینے والے سماجی رویے، مانع حمل ذرائع سے متعلق غلط فہمیاں اور آبادی سے متعلق حکومتی پالیسیوں پر موثر عملدرآمد نہ ہونا اہم عوامل ہیں۔ اس کے علاوہ تولیدی صحت اور ذمہ دارانہ والدین کے بارے میں عوامی آگاہی کا فقدان بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔پاکستان اس چیلنج پر قابو پا سکتا ہے، بشرطیکہ آبادی کو قومی ترقی کے ایجنڈے کا مرکزی حصہ بنایا جائے۔ رضاکارانہ خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات ہر شہری تک پہنچائی جائیں، خصوصا بنیادی صحت کے مراکز کے ذریعے۔ لڑکیوں کی تعلیم میں سرمایہ کاری کو اولین ترجیح دی جائے کیونکہ تعلیم یافتہ خواتین عموما دیر سے شادی کرتی ہیں، صحت مند خاندان قائم کرتی ہیں اور کم بچوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ علما، اساتذہ، ڈاکٹرز، میڈیا اور سول سوسائٹی کو مل کر ذمہ دارانہ والدین اور متوازن خاندانی نظام کے فروغ کے لیے آگاہی مہم چلانی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت، روزگار، سستی رہائش اور پائیدار شہری منصوبہ بندی میں سرمایہ کاری کو بھی بڑھانا ناگزیر ہے۔پاکستان کی نوجوان آبادی ایک عظیم قومی اثاثہ ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اسے معیاری تعلیم، بہتر صحت اور باعزت روزگار فراہم کیا جائے۔ بصورت دیگر یہی آبادی معاشی ترقی کے لیے ایک بڑا بوجھ بن سکتی ہے۔ پائیدار ترقی، غربت میں کمی اور قومی خوشحالی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آبادی میں اضافے اور دستیاب وسائل کے درمیان توازن قائم کیا جائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ آبادی کے مسئلے کو قومی ترجیح بنایا جائے اور مستقبل کی نسلوں کے بہتر پاکستان کیلئے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *