پاکستان کانویں او آئی سی وزارتی کا نفرنس برائے خواتین کی صدارت سنبھالنا یقینا خوش آئند ہے ۔ مزکورہ پیش رفت کو پاکستان کی مسلم دنیا میں اہمیت اور قائدانہ کردار کے واضح ثبو ت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اقوا م عالم میں اقوام متحد ہ کے بعد او آئی سی سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے اہم یہ بھی ہے کہ تاریخ میں پہلی بار وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی میزبانی پاکستان کے حصہ میں آئی ہے، اس سے قبل یہ اعزاز مصر کے حصہ میں آیا تھا ، مذکورہ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد او آئی سی کے رکن ممالک کی خواتین کو بااختیار بنانا ، سماجی ، سیاسی ،اقتصادی اور پیشہ وارانہ شمولیت میں اضافہ کرنا ہے ، یوں کہا جاسکتا ہے کہ مذکورہ کانفرنس کے زریعہ عالمی سطح پر مسلم خواتین کی مشکلا ت اور مسائل کو اجاگر کیا گیا ، کانفرنس میں افغان خواتین کی مشکلات اور مصائب کا خاص طور پر زکر آیا ۔ کانفرنس کے شرکا نے اس نقطہ پر بھی زور دیا کہ مسلمان ملکوں کی خواتین کی مشکلات اور مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کا راستہ اختیار کیا جائے، اس نقطہ کو بھی اجاگر کیا گیا کہ ترقی یافتہ مسلم ممالک اور ترقی پذیر ممالک میں ایسا میکزم تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو سرعت کے ساتھ غریب اور ترقی کے اثرات سیمحروم رہنے والی مسلمان خواتین کی مشکلات کا ازالہ کرسکے ، ایک نقطہ جس پرشرکا عمومی طور پر متفق نظر آئے وہ یہ تھا کہ کیسے مسلم خواتین کی شرح خواندگی میں اضافہ کیا جائے، کانفرس میں خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا ، اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا کہ مسلم خواتین کا بااختیار بنائے بغیر تعمیر وترقی کا کوئی بھی خوا ب شرمند ہ تعبیر نہ ہوگا، ترقی پذیر مسلمان ملکوں میں چند ایسے بھی ہیں جہاں خواتین کو صحت کی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں، اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ ماں اور بچے کی صحت پر توجہ دیئے بغیر خوشحال معاشرے کی موجودگی کا دعوی بے بیناد ہے ، اس پس منظر میں اسلامی تعاون تنظمیم کی خواتین سے متعلق نویں وزارتی کانفرنس کے اعلامیہ کو تازہ ہوا کو جھونکا قرار دیا جاسکتا ہے ، اختتامی اعلامیہ میں رکن ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ اپنے ہاں خواتین اور بچیوں کی زندگیوں میں حقیقی اور قابل عمل بہتری لانے کے لیے ٹھوس اقدمات کریں، اعلامیہ میں برملا طور پر اس حقیقت کا بھی اعتراف کیا گیا کہ خواتین کی سیاسی ، معاشی اور عوامی زندگی میں شرکت کو یقینی بنانے کے لیے مسلم ممالک کو عملی اقداما ت اٹھانے ہونگے ، یعنی خواتین کیشب و روز بہتر بنانے کے لیے لازم ہے کہ پالیسی سازی اور ادارہ جاتی سطح کو مضبو ط بنایا جائے، حقیقی پیش رفت کے حصول کے لیے خواتین کی شرح تعلیم میں ہنگامی بنیادوں پر اضافہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔ عصر حاضر میں فنی تربیت کی ا ہمیت اور افادیت سے انکار ممکن نہیں، کانفرنس میں اس پر بھی اتفا ق راے پایا گیا کہ خواتین کی قیادت میں قائم چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبا روں میں سرمایہ، جدت ترازی اور تجارتی مواقع تک بہتر رسائی ممکن بنائی جائے۔ شرکارکانفرنس نے اس نقطہ پر بھی متفق نظر آئے کہ خواتین کی سائنس ، ٹیکنالوجی ، مصنوعی زہانت اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئے دیگر شعبوں میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی ، اس ضمن میں لازم ہے کہ دہی علاقوں کی خواتین کو سستی ڈیجٹیل سہولیات تک رسائی دے کر مردوں اور عورتوں میں ترقی کے ثمرات سمیٹنے میں تفریق کو کم سے کم کیا جائے، کا نفرنس میں رکن ممالک اور او آئی سی کے ترقیاتی شراکت داروں کو دعوت دی گی کہ وہ خواتین کے تربیتی پروگراموں ، رہنمائی ، مہارتوں کے تبادلے اور بہترین تجربات کی شراکت کے زریعہ خواتین کی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ مسلم خواتین اور بچیوں کے خلا ف اسلامو فوبیا ، آن لائن بدسلوکی ، ہراسانی اور جدید طریقوں سے ہراساں کرنے کے سدباب کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ۔شرکا کا نفرنس اس نقطہ پر متفق نظر آئے کہ مسلم دنیا میں جب تک شرح خواندگی میں اضافہ نہیں ہوگا بیشتر مسائل کے حل کی امید کرنا غیر حقیقت پسندانہ ہوگا، کانفرنس کے اعلامیہ میں مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں خواتین اور بچیوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ ان علاقوں میں رہنے والی صنف ناز ک کو بنیاد ی انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کے علاوہ سیاسی ، تعلیمی اور سماج سطح پر رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے او آئی سی کے اسٹنٹ سیکرٹری جنرل سفیر ڈاکٹر طارق علی بخیت کا خطاب بھی فکر انگیز تھا، ان کے بعقول یہ حوصلہ افزا ہے کہ او آئی سی کے رکن ممالک خواتین کی ترقی کو مسلم امہ کی خوشحالی کا بنیادی ستون سمجھتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھاکہ اس ضمن میں منظور ہونے والی قرارداد پر مثالی اتفاق رائے جہاں بہتر مستقبل کی نوید ہے وہی اس پہلو پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ مسائل کے حل کے لیے محض قرادادیں کافی نہیں بلکہ ٹھوس نتائج کے لیے مشترکہ اور ٹھوس کاوشوں کی ضرورت ہے ، کانفرنس کے اعلامیہ میں وزیر اعظم شبہازشریف اور حکومت پاکستان کی بھرپور میزبانی اور کلیدی کردار کو بھی سراہا گیا ۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں