بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 31.6°C
Friday, 17 July 2026 | پاکستان: 3 صفر 1448

دیرینہ تنازعات کا پر امن حل عالمی امن کی ضمانت

Friday, 17 July, 2026

نائب وزیر اعظم ووزیر خارجہ سنیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے امیدواروں بیکا گرینسپن اور سینیگال کے سابق صدر میکی سال سے الگ الگ ملاقاتوں کے دوران اقوام متحدہ کے منشور’ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے احترام کیلئے پاکستان کے عیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاہے جموں وکشمیر اور فلسطین سمیت تمام دیرینہ تنازعات کا منصفانہ اور پر امن حل ہی پائیدار عالمی امن کی ضمانت ہے انہوں نے عالمی ترقیاتی ایجنڈے کے حصول اور ابھرتے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اقوام متحدہ کے موثر کردار اور مضبوط کثیر الجہتی نظام کی ضرورت بھی زور دیا ہے پہلی جنگ عظیم کے بعد دنیا میں امن و امان کو فروغ دینے کے لیے لیگ آف نیشنز وجود میں آئی تھی لیکن اقوام عالم کی بہت سی قبریں آپس میں تقسیم کرنے کے بعد اس نے بڑے آرام اور سکون کے ساتھ جنیوا میں دم توڑ دیا دوسری جنگ عظیم کے بعد سان فرانسکو امریکہ میں 25 اپریل 1945 سے 26 جون 1945 تک منعقدہ پچاس ملکوں کے نمائندوں کی ایک کانفرنس میں ایک بین الاقوامی ادارے کے قیام پر غور اور اس کا منشور یا چارٹر مرتب کیا گیا بعد ازاں 24 اکتوبر 1945 کو اقوام متحدہ معرض وجود میں آئی اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق دنیا بھر میں امن اور سلامتی قائم رکھناکسی ایسے جھگڑے یا موضوع کی تفشیش کرنا جو بین الاقوامی نزاع پیدا کر سکتا ہو’بین الاقوامی تنازعوں کو سلجھانے کے بارے میں منصوبے تیار کرنا سلامتی کونسل کے فرائض اور اختیارات میں شامل ہے سلامتی کونسل کی کارروائی ہمیشہ جاری رہتی ہے دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر معرض وجود میں آنے والی اقوام متحدہ کی تشکیل کا بنیادی مقصد آنے والی نسلوں کو جنگ کی لعنت سے محفوظ رکھنا تھا مگر 24 اکتوبر 1945 کو اپنے قیام سے لے کر اب تک 80 برسوں میں ڈھائی سو سے زائد جنگیں ہوچکی ہیں ادارے کے قیام کا دوسرا بڑا مقصد اقتصادی اور سماجی ترقی بھی لانا تھا-تاہم ایک بات اپنی جگہ اب بھی موجود ہے اور وہ یہ کہ اقوام متحدہ کے قیام سے قبل دنیا دو عالمی جنگیں دیکھ چکی تھی جن میں کروڑوں انسان ہلاک ہوئے تھے۔ اگرچہ اس دوران دنیا ایک سرد جنگ میں مسلسل مبتلا رہی ہے اقوام کے قیام کے بعد تیسری عالمی جنگ تاحال نہیں ہوئی ہے ابھی یہ یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا ہے کہ آیا تیسری عالمی جنگ اقوام متحدہ کی وجہ سے نہیں ہوئی ہے یا اس کے نہ ہونے کی وجہ ایٹم بم کی تباہی کا باہمی خوف ہے، یا یہ دونوں عوامل کارفرما ہیں یا کوئی اور وجہ ہے عالمی برادری دنیا کو جوہری جنگ کے خطرات سے بچانے اور تنازعات کا پر امن طریقے سے سدباب کرنے کی خواہش مند ہے تو پھر اسے فوری طور پر ان تنازعات کی جانب بھرپور توجہ دینا ہوگی جو کسی بھی وقت چنگاری سے شعلوں میں تبدیل ہوکر پوری دنیا کے امن کو تہہ وبالا کر سکتے ہیں دنیا بھر میں حل نہ ہونے والے تنازعات اور متنازعہ خطوں کو حل کرنے کی ایک طویل فہرست موجود ہے لیکن 1947 سے لے کر اب تک کشمیر انڈیا اور پاکستان کے درمیان 4 جنگوں کا سبب بن چکا ہے اور اب اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ دونوں ملکوں کے جوہری ہتھیاروں کی وجہ سے تنازعہ کشمیر کسی بھی وقت ایک تباہ کن جنگ کو بھڑکا سکتاہے جو پوری دنیا کے امن کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے دوسری جانب مشرق وسطی میں فلسطین کا تنازع آج بھی ایک سلگتی ہوئی آگ ہے جس میں نکلنے والی چنگاریاں اب شعلہ بن کر کسی بھی وقت پوری دنیا کے امن کو تہہ وبالا کرنے کو تیار ہیں اقوام متحدہ نے سنہ 1948 میں اسرائیل ریاست کے قیام کے لیے قرادادیں منظور کی تھیں لیکن انھیں قراردادوں میں مقامی فلسطینی عربوں کا حق بھی تسلیم کیا گیا تھا اور ان کی اپنے آبائی گھروں میں واپسی کے حق کو بھی تسلیم کیا گیا تھا جس پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے اقوام متحدہ کی تنازعہ فلسطین اور کشمیر کے حل میں ناکامی کی بنیادی ذمہ داری سلامتی کونسل پر عائد ہوتی ہے جس کے پانچ مستقل ارکان کے پاس ویٹو پاور موجود ہے اور وہ اس طاقت کا استعمال عدل کے بجائے اپنے ریاستی مفادات کی حفاظت کے لئے استعمال کرتے ہیں کشمیری اور فلسطینی 76 سال سے زائد عرصے سے عالمی برادری اور انصاف اور انسانی حقوق کے علمبردار اداروں کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ شاید ان کے مسائل کا کوئی حل نکل سکے، ان پر ہونے والے مظالم بند ہو جائیں، دنیا نے ان کے حوالے سے جو قراردادیں منظور کر رکھی ہیں شاید ان پر عملدرآمد کرایا جائے اور ان خطوں کو ان کا جائز اور بنیادی حق دیا جائے مگر سات دہائیاں گزر جانے کے باوجود آج تک ایسا ممکن نہیں ہوسکا اور نہ ہی مستقبل قریب میں عالمی برادری سے کوئی ایسی امید کی جاسکتی ہے اقوام متحدہ کے فیصلے اس کی قراردادیں سفارشات سب کچھ اسرائیل اور بھارت ہوا میں اڑا رہے ہیں دونوں مقبوضہ خطوں میں ان کی ریاستی دہشت گردی بڑھتی جارہی ہے اور دنیا تماشائی بنی ہوئی ہے اقوام متحدہ کے داغدار بین الاقوامی امیج کو بہتر بنانے کی کنجی پانچ مستقل ارکان کے ہاتھ میں ہے اب بھی وقت ہے عالمی طاقتیں اپنی سمت کو درست اور سیاسی قوت ارادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے تصادموں اور مفادات کو الگ کرتے ہوئے تنازعہ فلسطین’ کشمیر کے حل کی جانب پیش رفت ‘ دنیا اور غیر مستحکم علاقوں اور خانہ جنگیوں میں مصیبت زدہ اقوام کا احساس اور دوسرے ممالک اور اقوام متحدہ کے ساتھ قدم بقدم بحرانوں کا خاتمہ کریں اور ایک روشن مستقل کے نقیب بنیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *