پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی تاریخ بے شمار قربانیوں سے عبارت ہے۔ اس سرزمین کے قیام سے لے کر آج تک لاکھوں لوگوں نے اس ملک کی سلامتی، آزادی، خودمختاری اور استحکام کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ کسی نے ہجرت کے دوران اپنا گھر چھوڑا، کسی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جان دی، کسی نے سرحدوں پر دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور کسی نے ملک کے اندر امن قائم رکھنے کی کوشش میں اپنی زندگی قربان کر دی۔ پاکستان کی تاریخ کا ہر باب اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ یہ ملک صرف نقشے پر کھینچی گئی ایک لکیر کا نام نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی قربانیوں، دعاں، محنت اور محبت سے وجود میں آنے والی ایک ریاست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی قومی ادارے، خصوصا افواج پاکستان اور شہدا کی قربانیوں کے بارے میں کوئی ایسا بیان سامنے آتا ہے جس سے عوامی جذبات مجروح ہوں تو اس پر بحث ہونا فطری امر ہے۔ حالیہ دنوں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے منسوب ایک بیان کے بعد ملک میں سیاسی اور عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ مختلف حکومتی رہنماں نے اس بات پر اعتراض کیا کہ فوجی جوانوں کی قربانیوں کو تنخواہ یا مالی مفاد سے جوڑنا شہدا کی قربانیوں کی عظمت کو کم کرنے کے مترادف ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اسی تناظر میں کہا کہ کسی فوجی کی وطن کے لیے جان کی قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا شہدا اور ان کے خاندانوں کے جذبات کو مجروح کرتا ہے۔ یہاں سب سے پہلے یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں حکومت، سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں اور پالیسیوں پر تنقید کا حق موجود ہے۔ یہ حق آئینی اور جمہوری نظام کی بنیادی روح ہے۔ کسی بھی قومی ادارے کو تنقید سے بالاتر قرار دینا جمہوری اصولوں کے مطابق نہیں، لیکن تنقید اور توہین میں فرق ہوتا ہے، اختلافِ رائے اور دل آزاری میں فرق ہوتا ہے، پالیسی پر سوال اٹھانے اور شہدا کی قربانیوں کو متنازع بنانے میں فرق ہوتا ہے۔ ایک ذمہ دار سیاست دان، خصوصا ایک مذہبی رہنما، سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان حدود کو سمجھتے ہوئے اپنے الفاظ کا انتخاب کرے۔ مولانا فضل الرحمن ایک سینئر سیاست دان ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے ملکی سیاست میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور مذہبی حلقوں میں بھی ان کا ایک اہم مقام ہے۔ ان کے الفاظ کو عام سیاسی کارکن کے الفاظ کی طرح نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ایسے رہنما کی گفتگو ملک کے ایک بڑے طبقے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ احتیاط کی توقع کی جاتی ہے۔ جب کوئی عام شخص غصے یا جذبات میں کوئی نامناسب جملہ کہتا ہے تو شاید اس کا اثر محدود ہو، لیکن جب ایک معروف سیاسی اور مذہبی رہنما قومی سلامتی، فوج اور شہدا کے حوالے سے گفتگو کرتا ہے تو اس کے الفاظ ملک بھر میں بحث کا موضوع بن جاتے ہیں۔ فوجی جوانوں کی قربانی کو صرف تنخواہ کے ساتھ جوڑنا ایک بنیادی حقیقت کو نظرانداز کرنا ہے۔ کوئی بھی انسان صرف تنخواہ کے لیے اپنی جان قربان نہیں کرتا۔ ملازمت کے بدلے تنخواہ ایک معاشی معاملہ ہے، لیکن شہادت ایک ایسی قربانی ہے جس کی قیمت دنیا کی کوئی دولت ادا نہیں کر سکتی۔ ایک سپاہی جب سرحد پر کھڑا ہوتا ہے، جب دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں حصہ لیتا ہے، جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ اگلا لمحہ اس کی زندگی کا آخری لمحہ ہو سکتا ہے، تو اس وقت اس کے سامنے صرف تنخواہ کا تصور نہیں ہوتا۔ اس کے سامنے اس کا وطن، اس کا فرض، اس کے ساتھی، اس کا خاندان اور وہ ذمہ داری ہوتی ہے جسے وہ قبول کر چکا ہوتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ میں صرف فوجی جوان ہی نہیں بلکہ پولیس اہلکار، ایف سی، رینجرز، دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکار اور عام شہری بھی شہید ہوئے ہیں۔ آج بھی ملک کے مختلف علاقوں میں امن کے لیے جانیں قربان کی جا رہی ہیں۔ ان شہدا کے خاندان اپنے پیاروں کے بچھڑنے کا ایسا دکھ برداشت کر رہے ہیں جس کا اندازہ ان لوگوں کو نہیں ہو سکتا جو صرف سیاسی جلسوں میں تقریریں کرتے ہیں۔ ایک ماں کا بیٹا، ایک بیوی کا شوہر، ایک بچے کا باپ اور ایک بہن کا بھائی جب وطن کے لیے جان قربان کرتا ہے تو اس قربانی کو کسی مالی پیمانے پر نہیں تولا جا سکتا۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ سیاست دانوں کو قومی اداروں اور شہدا کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کتنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ سیاست میں اختلاف ہونا چاہیے، حکومت پر تنقید ہونی چاہیے، پالیسیوں پر سوال اٹھنے چاہییں، دفاعی بجٹ پر بحث ہو سکتی ہے، اداروں کی کارکردگی پر بات ہو سکتی ہے، لیکن شہدا کی قربانیوں کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنا کسی بھی صورت مناسب نہیں۔ سیاسی جماعتیں آتی جاتی رہتی ہیں، حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، اقتدار کے ایوانوں میں چہرے تبدیل ہوتے رہتے ہیں، مگر شہدا کی قربانیاں ہمیشہ قومی تاریخ کا حصہ رہتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سیاسی اختلاف اکثر ذاتی دشمنی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایک جماعت دوسری جماعت کو ملک دشمن قرار دینے لگتی ہے، ایک سیاسی رہنما دوسرے کے حامیوں پر غداری کے الزامات عائد کرتا ہے اور قومی اداروں کو بھی سیاسی بحث کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ سیاست ملک کو مضبوط نہیں کرتا بلکہ معاشرے میں تقسیم پیدا کرتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، لیکن قومی سلامتی اور شہدا کے معاملے میں زبان اور رویے کی ذمہ داری سب پر عائد ہوتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا تعلق ایک ایسے مذہبی طبقے سے ہے جس سے عوام دینی اور اخلاقی رہنمائی کی توقع رکھتے ہیں۔ مذہبی رہنماں کے الفاظ کا اثر عام سیاسی رہنماں سے کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ جب ایک مذہبی رہنما شہادت، قربانی اور وطن کے دفاع کے حوالے سے گفتگو کرتا ہے تو عوام اسے خاص اہمیت دیتے ہیں۔ اسی لیے مذہبی رہنماں کو چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی اختلافات کو مذہبی جذبات اور قومی اداروں کے احترام سے الگ رکھیں۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن شہدا کے مقام اور ان کے خاندانوں کے جذبات اپنی جگہ ہیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ ریاستی ادارے تنقید سے بالاتر نہیں۔ کسی بھی ادارے میں اگر کوئی غلطی ہو، کوئی پالیسی قابلِ اعتراض ہو یا کسی معاملے میں اصلاح کی ضرورت ہو تو اس پر دلیل اور شواہد کے ساتھ بات ہونی چاہیے۔ لیکن کسی ادارے کی پالیسی پر تنقید اور پورے ادارے کے جوانوں کی قربانیوں کو مشکوک بنانا دو الگ چیزیں ہیں۔ ایک ذمہ دار معاشرہ ان دونوں میں فرق کرنا جانتا ہے۔ یہاں حکومت اور سیاسی جماعتوں کیلئے بھی ایک اہم سبق موجود ہے۔ قومی اداروں کے احترام کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر حکومت کسی سیاسی رہنما کے بیان پر تنقید کرتی ہے تو اسے بھی چاہیے کہ اس معاملے کو غیر ضروری سیاسی محاذ آرائی میں تبدیل نہ کرے۔ شہدا کا احترام کسی ایک جماعت یا حکومت کی ملکیت نہیں۔ یہ پوری قوم کا مشترکہ جذبہ ہے۔ اگر کوئی بیان نامناسب ہے تو اس پر اصولی اور مدلل ردعمل دیا جائے، لیکن قومی اتحاد کو مزید نقصان پہنچانے والی بیان بازی سے گریز کیا جائے۔ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
(……جاری ہے)





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں