کلکتہ کے نیتاجی سبش چندر بوس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر واقع 136 سال پرانی بنکرا مسجد (گوری پور جامع مسجد) میں داخلے اور نماز کی ادائیگی پر پابندی، حفاظتی خدشات، اور رن وے کی توسیع کا تنازع جاری ہے۔ حکام نے سکیورٹی اور رن وے کے قریب ہونے کا عذر پیش کیا، جبکہ مقامی کمیٹی نے بغیر نوٹس بند کرنے پر احتجاج کیا۔یہ 136 سال پرانی (تقریباً 1890ء سے قائم) مسجد ایئرپورٹ بننے سے بھی پہلے سے وہاں موجود بتائی جاتی ہے۔ ایئرپورٹ حکام اور سول ایوی ایشن کے مطابق، مسجد ایئرپورٹ کے دوسرے رن وے کے بہت قریب (صرف 165 میٹر کے فاصلے پر) واقع ہے جو کہ مقررہ 240 میٹر کم از کم فاصلے سے کم ہے، جس کی وجہ سے رن وے کے استعمال اور جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ 11 جولائی 2026ء سے حکام نے سکیورٹی خدشات اور رن وے کے قریب بیرونی افراد کے داخلے پر کڑی پابندی عائد کرتے ہوئے مسجد میں باجماعت نماز اور داخلہ معطل کر دیا۔ مسجد کی انتظامیہ اور کمیٹی نے بغیر کسی پیشگی نوٹس کے اچانک تالا لگانے اور نماز روکنے کے خلاف سخت احتجاج کیا اور پولیس اسٹیشن میں باضابطہ شکایت درج کروائی۔جمعیت علمائے ہند (مغربی بنگال) کے صدر صدیقی اللہ چوہدری کی اپیل پر مقامی مسلمانوں نے پرامن احتجاج کیا۔ اس کے علاوہ، ریاست کے رہنماؤں اور حکام نے قومی سلامتی اور ایئرپورٹ کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیا۔ صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ایئرپورٹ اور بنکرا کے آس پاس کے علاقوں میں سخت سکیورٹی فورسز تعینات کی گئیں اور دفعہ 144 / ضابطہ کے تحت پابندیاں نافذ کی گئیںبھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر
وارانسی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانچ مساجد کو مسمار کردیا گیا ہے۔بھارتی حکام نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی حکومت کی جانب سے سڑک کو کشادہ کرنے اور شہری ترقیاتی منصوبے کے تحت کی گئی جبکہ علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے۔حکام نے کہا ہے کہ مساجد منصوبہ بندی کے راستے میں آ رہی تھیں اور قانونی کارروائی اور پیشگی نوٹس کے بعد انہدام کیا گیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق پانچ مساجد کی انتظامیہ نے منصوبے کے تحت کارروائی میں تعاون بھی کیا جبکہ چھٹی مسجد سے متعلق معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔دوسری جانب مقامی مسلم تنظیموں اور بعض سماجی کارکنوں نے اس اقدام پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخی اور مذہبی اہمیت رکھنے والی مساجد کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور حکومت کو متبادل راستے تلاش کرنے چاہیے تھے۔ انہوں نے اس کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا۔بھارت میں ایک اور تاریخی مسجد مندر قرار، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے نے ہلچل مچادی ۔ مدھیہ پردیش کے شہر دھار میں واقع بھوج شالا کمپلیکس کئی دہائیوں سے ہندو اور مسلم برادری کے درمیان تنازع کا مرکز رہا ہے۔ بھارت کی مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ایک اہم اور متنازع فیصلے میں تاریخی ‘کمال مولہ مسجد’ کو ہندو دیوی کا مندر قرار دے دیا، جس کے بعد علاقے میں سیاسی اور مذہبی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ مدھیہ پردیش کے شہر دھار میں واقع بھوج شالا کمپلیکس کئی دہائیوں سے ہندو اور مسلم برادری کے درمیان تنازع کا مرکز رہا ہے۔ مسلمان اس مقام کو کمال مولہ مسجد قرار دیتے ہیں جبکہ ہندو تنظیمیں دعویٰ کرتی رہی ہیں کہ مسجد ایک قدیم مندر کی جگہ پر قائم کی گئی تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ مقام دراصل ہندو دیوی واگ دیوی سے منسوب مندر ہے، جس کے بعد ہندوؤں کو وہاں عبادت کی اجازت دے دی گئی۔ فیصلے کے بعد بڑی تعداد میں ہندو کارکن بھگوا
جھنڈے لے کر مقام پر پہنچ گئے اور مذہبی رسومات ادا کیں جبکہ عارضی مورتی بھی نصب کی گئی۔دوسری جانب مسلم کمیونٹی نے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اس کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔ مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی نسلوں سے اس مسجد میں عبادت کرتے آئے ہیں اور عدالت کا فیصلہ ان کے مذہبی حقوق کے خلاف ہے۔78 سالہ موذن محمد رفیق جو گزشتہ 50 برس سے مسجد میں اذان دیتے رہے ہیں نے کہا کہ ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایک دن ہماری مسجد ہم سے چھین لی جائے گی۔ عدالت نے آثارِ قدیمہ کے بھارتی ادارے ASI کی سروے رپورٹ کو بنیاد بنایا، تاہم کئی ماہرین تاریخ اور قانونی ماہرین نے اس سروے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ معروف مؤرخین کا کہنا ہے کہ سیاسی دباؤ کے تحت تاریخی مقامات کی مذہبی حیثیت تبدیل کی جارہی ہے۔بھارتی رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ بابری مسجد کیس کے بعد شروع ہونے والے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے اور اس سے بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔یاد رہے کہ 1992 میں بابری مسجد کی شہادت اور بعد ازاں رام مندر کی تعمیر کے بعد بھارت میں کئی تاریخی مساجد کے حوالے سے اسی نوعیت کے دعوے سامنے آچکے ہیں، جن میں گیان واپی مسجد اور شاہی عیدگاہ مسجد کے مقدمات بھی شامل ہیں۔ یہ مقام دھار شہر میں واقع ہے اور بھوج شالا کمپلیکس کے نام سے جانا جاتا ہے، جو کئی دہائیوں سے ملکیتی اور مذہبی تنازع کا شکار رہا ہے،مسلم برادری یہاں عرصہ دراز تک جمعہ کی نماز ادا کرتی رہی ہے جبکہ 2003 کے ایک معاہدے کے تحت ہندوؤں کو منگل کے روز مخصوص عبادت کی اجازت دی گئی تھی۔ حالیہ عدالتی فیصلے نے اس صورتحال کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔فیصلے کے بعد بھوج شالا کمپلیکس میں ہندو تنظیموں نے زعفرانی جھنڈے لہرا دیے اور دیوی کی عارضی مورتی رکھ کر مذہبی رسومات ادا کیں۔ اس موقع پر علاقے میں سخت سیکیورٹی تعینات رہی۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں