کبھی کبھی حکومت کا ایک فیصلہ صرف قیمتیں نہیں بدلتا بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی کا پورا حساب بدل دیتا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں ایک روپے کا اضافہ سرکاری اعلامیے میں شاید ایک معمولی عدد ہو مگر یہی ایک روپیہ جب سبزی کی ٹوکری، رکشے کے کرائے، فیکٹری کی لاگت، کسان کے کھیت اور ایک تنخواہ دار ملازم کے ماہانہ بجٹ سے گزرتا ہے تو صرف اخراجات نہیں بڑھتے، زندگی کا توازن بھی بدل جاتاہے،اب جبکہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو روزانہ کی بنیاد پر عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے ہم آہنگ کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے، سوال صرف یہ نہیں کہ کل پٹرول کتنے روپے فی لیٹر ہوگا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک عام پاکستانی کی زندگی بھی روز بدلتی قیمتوں کے ساتھ خود کو ڈھال سکے گی۔ معیشت صرف شرحِ نمو، افراطِ زر یا زرمبادلہ کے ذخائر کا نام نہیں بلکہ اعتماد کا دوسرا نام ہے۔ ایک تنخواہ دار ملازم مہینے کے آغاز میں اپنے بچوں کی فیس، گھر کے کرائے، بجلی اور گیس کے بل، سفری اخراجات اور راشن کا بجٹ بناتا ہے ۔ اگر اسے ہر صبح یہ خدشہ رہے کہ ایندھن کی قیمت بدل سکتی ہے تو اس غیر یقینی کا اثر صرف اس کی جیب پر نہیں بلکہ اس کی ذہنی کیفیت پر بھی پڑتا ہے۔حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیز رفتار تبدیلی کے باعث مقامی قیمتوں کا بروقت تعین ضروری ہے تاکہ اگر عالمی قیمت کم ہو تو اس کا فائدہ بھی عوام تک جلد پہنچ سکے۔ اصولی طور پر یہ سوچ غلط نہیں۔دنیا کے کئی ممالک میں قیمتوں کے تعین کا نظام نسبتاً متحرک ہے، لیکن وہاں مارکیٹ نگرانی کا نظام بھی مضبوط ہوتا ہے اور مسابقتی ماحول قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارف تک پہنچاتا ہے۔پاکستان کا مسئلہ صرف قیمتوں کا تعین نہیں بلکہ قیمتوں کا رویہ ہے ۔ہمارے معاشی نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ پٹرول مہنگا ہو تو بازار چند گھنٹوں میں جاگ جاتا ہے، مگر پٹرول سستا ہو تو وہی بازار جیسے گہری نیند سو جاتا ہے۔ قیمتیں اوپر جانے کیلئے لفٹ استعمال کرتی ہیں مگر نیچے آنے کے لیے انہیں سیڑھیاں بھی یاد نہیں رہتیں۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں عوام کے سوالات جنم لیتے ہیں۔ اگر ایک ہی دن میں کرایے بڑھ سکتے ہیں اشیائے خورونوش مہنگی ہو سکتی ہیں اور ٹرانسپورٹ کے نرخ تبدیل ہو سکتے ہیں تو عالمی منڈی میں کمی آنے پر وہی رفتار کیوں دکھائی نہیں دیتی حکومت اگر روزانہ قیمتوں کا نظام متعارف کراتی ہے تو اسے صرف اضافے کی رفتار نہیں بلکہ ریلیف کی رفتار بھی یقینی بنانا ہوگی، ورنہ یہ پالیسی عوام میں مزید بے یقینی پیدا کرے گی۔ یہاں بدقسمتی سے یہ ہوتا ہے کہ جب پٹرول کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو کئی روپے میں بڑھتی ہیں مگر جب کم ہوتی ہیں تو اکثر چند پیسوں یا ایک آدھ روپے کا فرق پڑتا ہے جس سے نہ تو زندگی میں کوئی سہولت ملتی ہے اور نہ مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔ معاشی پالیسیوں کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ حکومت نے کون سا فیصلہ کیا، بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ اس فیصلے کا اثر عام آدمی کی زندگی پر کیا پڑا۔ اگر پٹرول مہنگا ہونے کا اثر چند گھنٹوں میں ہر بازار تک پہنچ سکتا ہے تو پٹرول سستا ہونے کا فائدہ بھی اسی رفتار سے عوام تک پہنچنا چاہیے۔ بصورتِ دیگر عوام کے ذہن میں یہ تاثر مزید گہرا ہوگا کہ ہمارے ہاں مہنگائی عارضی نہیں، بلکہ مستقل مہمان بن چکی ہے۔پاکستان کی معیشت اس وقت ایسے مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں مالی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات، برآمدات میں اضافہ اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔
حکومت اگر عالمی منڈی کے مطابق قیمتوں میں فوری ردوبدل کا نظام نافذ کرنا چاہتی ہے تو اس کیساتھ اتنا ہی مضبوط نگرانی کا نظام بھی قائم کرنا ہوگا تاکہ مصنوعی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی گنجائش کم سے کم رہ جائے۔ صرف قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دینا کافی نہیں، بلکہ اس کے اثرات کو بازار تک پہنچانا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔پٹرول کی قیمت صرف گاڑی کے ٹینک کا مسئلہ نہیں۔ اس کا تعلق کسان کے ٹریکٹر، مزدور کی بس، طالب علم کی وین، فیکٹری کی سپلائی چین، سبزی منڈی، دواؤں کی ترسیل اور روزانہ لاکھوں گھروں کے بجٹ سے ہے۔ اسی لیے ایندھن کی قیمت میں معمولی تبدیلی بھی پورے معاشی ڈھانچے میں لہر کی طرح پھیل جاتی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے اور حکومت اس کا فائدہ فوری طور پر عوام تک منتقل کرے تو اس سے مہنگائی پر دباؤ کم ہو سکتا ہے، کاروباری لاگت میں کمی آ سکتی ہے اور صارفین کا اعتماد بہتر ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہوگا جب بازار بھی اسی دیانت داری سے قیمتیں کم کرے جس تیزی سے وہ انہیں بڑھاتا ہے۔آج ضرورت صرف نئی پالیسیوں کی نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد کی ہے۔ صارفین کے تحفظ کے قوانین فعال ہوں، کنزیومر کورٹس (صارف عدالتیں ) زیادہ ہونی چاہیں جہاں فیصلے جلدی ہوں جزا اور سزا کا موثر نظام ہی مارکیٹ میں قیمتوں کو متوازن اور دیرپا قائم رکھ سکتا ہے ورنہ اگر چیک اور بیلنس میں عدم توازن کا نتیجہ وہی رہے گا جو کہ آج کل صارفین بھگت رہے ہیں۔ مارکیٹ کی نگرانی مضبوط ہو، مسابقتی ماحول کو فروغ دیا جائے اور قیمتوں میں کمی کے فوائد کی باقاعدہ نگرانی کی جائے۔ اسی میں حکومت کی ساکھ بھی ہے اور عوام کا اعتماد بھی۔آخرکار، ریاستیں صرف قیمتیں طے کرکے مضبوط نہیں ہوتیں، بلکہ عوام کا اعتماد جیت کر مضبوط بنتی ہیں۔ اگر ہر صبح قیمتیں بدلنی ہیں تو ہر شام عوام کو یہ احساس بھی ہونا چاہیے کہ ان کی زندگی کل سے کچھ بہتر ہوئی ہے، ورنہ بدلتی ہوئی قیمتیں صرف اعدا د نہیں بدلیں گی بلکہ لوگوں کی امیدیں بھی بدل دیں گی۔کیونکہ معیشت کا اصل پیمانہ پٹرول پمپ کا ریٹ بورڈ نہیں، بلکہ وہ سکون ہے جس کے ساتھ ایک باپ اپنے بچوں کے لیے راشن خرید کر گھر واپس آتا ہے۔ جب قیمتیں روز بدلیں تو اصل امتحان صرف حکومت کا نہیں، پورے معاشی نظام کا ہوتا ہے کہ وہ عوام کو بے یقینی دیتا ہے یا اعتماد۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں