بھارتی سر زمین پہ قدم رکھتے ہی افغان وزیر خارجہ مودی سرکار کے رنگ میں رنگتے ہوئے ان کی زبان اور ان کی بولی بولتے نظر آتے ہیں ۔ وہ جب بھارت اور طالبان کو برادر اور گہرے رشتے میں بندھے ظاہر کرتے ہیں توہمیں حیرت ہوتی ہے نہ تاسف ” پہنچی وہیں پہ خاک جہان کا خمیر تھا” ایک بار نہیں دو، تین، چار بار نہیں پاکستان نے بار بار افغان حکومت کو کہا کہ وہ اپنی سر زمین فتنة الخوارج اور دہشت گرد گروہوں کو روکے۔ پاکستان کی طرف سے ثبوت، مقام اور تخریبی سرگرمیوں کی رپورٹ کو نظر کرنے کے جواب میں خاموشی بھارت نوازی نہیں تو اور کیا ہے؟افغانستان میں طالبان حکومت کیخلاف مسلح مزاحمت کے دائر کار میں بتدریج وسعت آتی دکھائی دے رہی ہے۔شمالی صوبہ فریاب میں طالبان مخالف نئے مسلح گروپ کے قیام کے بعد سیکیورٹی صورتِ حال پر نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مختلف مزاحمتی گروہ منظم انداز میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں تو افغانستان میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے اس نئے مذاحمتی گروپ جب راہِ بخش لبریشن فرنٹ کی قیادت گل محمد پہلوان کر رہے ہیں۔ یہ گروپ طالبان حکومت کی موجودہ پالیسیوں کیخلاف منظم عسکری جدوجہد شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اگرچہ گروپ کی مکمل تنظیمی ساخت ابھی منظرِ عام پر نہیں آئی، تاہم اس کے قیام کو طالبان مخالف مزاحمت میں نئی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ لبریشن فرنٹ جلد باضابطہ اعلامیہ جاری کرے گا، جس میں تنظیم کے مقاصد، قیادت، تنظیمی ڈھانچے اور مستقبل کی عسکری و سیاسی حکمتِ عملی سے متعلق تفصیلات فراہم کی جائیں گی اس اعلامیے سے واضح ہو سکے گا کہ گروپ اپنی سرگرمیوں کو کس حد تک وسعت اور اس کے اہداف کیا ہوں گے ؟دوسری جانب لبریشن فرنٹ نے دعوی کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے صوبہ فریاب میں طالبان کے خلاف حالیہ حملہ کیا جبکہ ضلع غورمچ میں بھی طالبان کے ساتھ جھڑپوں کی اطلاعات ہیں ان دعوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ افغانستان کے شمالی علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہیں۔حالیہ ہفتوں کے دوران صوبہ بدخشان کے اضلاع یفتل، زیبک اور ارگو سمیت دیگر علاقوں میں بھی طالبان مخالف سرگرمیوں کی خبریں سامنے آئی ہیں اسی طرح بغلان کے ضلع دوشی میں طالبان کے قافلے اور متعدد سیکیورٹی چوکیوں پر حملوں کی ذمہ داری مختلف مزاحمتی گروہوں نے قبول کرنے کا دعوی کیا ہے ان واقعات نے ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔مختلف طالبان مخالف گروہوں کے درمیان رابطوں اور تعاون میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اگر یہ گروہ مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں تو طالبان حکومت کو مستقبل میں مزید سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس سے قبل افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ اور افغانستان فریڈم فرنٹ کی قیادت بھی طالبان کے خلاف اپنی سرگرمیاں تیز کرنے کے اعلانات کر چکی ہے۔طالبان مخالف حلقوں اور مختلف رپورٹس کے مطابق افغان عوام کے ایک طبقے میں بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تعلیم، روزگار، انسانی حقوق، خواتین کی آزادی، مبینہ نسلی امتیاز اور معاشی مشکلات جیسے مسائل عوامی ناراضی کی اہم وجوہ قرار دیے جا رہے ہیں تاہم ان دعوں کے بارے میں مختلف آراء موجود ہیں اور ان کی شدت کا تعین مختلف ذرائع مختلف انداز میں کرتے ہیں۔ملک کی معاشی مشکلات اور سیکیورٹی خدشات کے باعث افغانستان سے بیرونِ ملک نقل مکانی کا رجحان بھی برقرار ہے۔ متعدد خاندان بہتر روزگار، تعلیم اور محفوظ مستقبل کی امید میں یورپی ممالک سمیت دیگر خطوں کا رخ کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر داخلی استحکام بحال نہ ہوا تو ہجرت کا یہ سلسلہ مزید تیز ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف افغانستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک پر بھی مرتب ہوں گے۔رپورٹس میں یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران سابق افغان فوجی اہلکاروں کے خلاف ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں دوسری جانب طالبان حکومت نے نئے مسلح گروپوں کے قیام اور حالیہ حملوں کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔ موجودہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ افغانستان کو سیاسی استحکام، قومی مفاہمت اور پائیدار امن کے لیے سنجیدہ اور جامع اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ملک مزید بحران سے بچ سکے !!






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں