بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Thursday, 27 August 2026 | پاکستان: 16 ر بیع الاول 1448

پاکستان میں گوگل کی آمد: ڈیجیٹل تبدیلی کا ایک نیا باب

Thursday, 27 August, 2026

پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو ایک بڑا تقویت بخش قدم اس وقت ملا جب گوگل نے ملک میں اپنا پہلا کارپوریٹ دفتر قائم کیا اور مقامی سطح پر کروم بک کی اسمبلنگ کا آغاز کیا۔ یہ پیشرفت صرف ایک عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی آمد نہیں بلکہ پاکستان کے آئی ٹی شعبے، نوجوان افرادی قوت اور خطے میں ایک ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل مرکز کے طور پر اس کی صلاحیتوں پر بین الاقوامی اعتماد کا اظہار ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کے وفد کی موجودگی میں پاکستان میں گوگل کے پہلے مقامی دفتر کا افتتاح کیا، جو ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ گوگل کئی برسوں سے مختلف شراکت داریوں اور آن لائن سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان میں موجود تھا، لیکن مستقل دفتر کے قیام سے کمپنی کے پاکستان کے ساتھ طویل المدتی تعلقات اور دلچسپی کا واضح اظہار ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں عالمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔گوگل کی موجودگی کو مزید اہمیت اس وقت حاصل ہوئی جب 4 نومبر 2025 کو پاکستان کی پہلی کروم بک اسمبلی لائن کا افتتاح کیا گیا۔ یہ منصوبہ گوگل، اس کے مقامی شراکت دار ٹیک ویلی اور نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن سمیت دیگر شراکت داروں کے تعاون سے ہری پور، خیبر پختونخوا میں قائم کیا گیا۔ اس اقدام کے ذریعے پاکستان بین الاقوامی معیار کے کمپیوٹنگ آلات کی مقامی تیاری کرنے والے ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے۔مقامی سطح پر کروم بک کی تیاری کے وسیع اقتصادی فوائد متوقع ہیں۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریبا چھ لاکھ کروم بکس تیار کی جا سکیں گی۔ اس پیداواری صلاحیت سے نہ صرف صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا بلکہ مقامی سپلائی چین، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس منصوبے سے مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس، تکنیکی معاونت، سافٹ ویئر سروسز اور تقسیم کے شعبوں میں ہزاروں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔اس منصوبے کا سب سے اہم پہلو تعلیم کے شعبے پر اس کے ممکنہ مثبت اثرات ہیں۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مقامی سطح پر کروم بکس کی تیاری سے ڈیجیٹل آلات زیادہ سستے اور قابلِ رسائی ہو جائیں گے، جس سے تعلیمی اداروں کو فائدہ پہنچے گا۔ پاکستان کو طویل عرصے سے ڈیجیٹل تعلیم تک مساوی رسائی کے چیلنجز کا سامنا رہا ہے، خصوصا دیہی اور پسماندہ علاقوں میں۔ کم قیمت کروم بکس طلبہ کو آن لائن تعلیم، تحقیق اور جدید مہارتوں کے حصول میں مدد فراہم کریں گی۔عالمی سطح پر تعلیم میں ٹیکنالوجی کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ تعلیمی ادارے تدریس اور سیکھنے کے عمل میں جدید ڈیجیٹل ذرائع کو تیزی سے شامل کر رہے ہیں۔ ایسے میں مقامی سطح پر کروم بکس کی دستیابی پاکستان کے تعلیمی نظام کو جدید بنانے، ڈیجیٹل خواندگی میں اضافہ کرنے اور نوجوانوں کو علم پر مبنی معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔اس منصوبے کے اقتصادی اثرات صرف تعلیم تک محدود نہیں۔ حکومتی عہدیداروں کے مطابق یہ اقدام روزگار کے مواقع، صنعتی ترقی اور مستقبل میں ٹیکنالوجی کی برآمدات کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔ ایک مضبوط مقامی مینوفیکچرنگ نظام معاون صنعتوں کو فروغ دے گا، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو ممکن بنائے گا اور الیکٹرانکس کی تیاری میں مقامی مہارتوں کو ترقی دے گا۔ یہ تمام عوامل پاکستان کو عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں بہتر مقام دلانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ پاکستانی حکام نے مقامی طور پر اسمبل کی جانے والی کروم بکس کی برآمدات کے وسیع امکانات کی بھی نشاندہی کی ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطی اور افریقہ کے درمیان ایک اہم جغرافیائی مقام رکھتا ہے۔ مناسب حکومتی پالیسیوں، مسابقتی پیداواری لاگت اور مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان خطے میں ٹیکنالوجی مصنوعات کی تیاری اور ترسیل کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔ پاکستان کے نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل اور AI مہارتوں سے آراستہ کرنا مستقبل کی معاشی ترقی اور عالمی مسابقت کے لیے ناگزیر ہے۔ گوگل کی جانب سے مقامی ضروریات کے مطابق AI حل تیار کرنے کی کوششیں پاکستانی زبانوں، ثقافت اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق نئی اختراعات کو فروغ دے سکتی ہیں۔پاکستان میں ڈیجیٹل تعلیم اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے نوجوانوں کا جوش و خروش پہلے ہی نمایاں ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد گوگل سرٹیفیکیشنز مکمل کی جا چکی ہیں، جبکہ 17 ہزار سے زیادہ ٹیمیں “لرن اے آئی” پروگرام میں حصہ لے چکی ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستانی نوجوان جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے اور عالمی مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھرپور دلچسپی رکھتے ہیں۔گوگل کی جانب سے تمام طلبہ کو ایک سال کے لیے مفت گوگل جیمنی سبسکرپشن فراہم کرنے کا اعلان بھی متوقع ہے۔ جدید AI ٹولز تک رسائی طلبہ کی تحقیق، تخلیقی صلاحیتوں اور تعلیمی کارکردگی میں نمایاں بہتری لا سکتی ہے۔ اس سے نوجوانوں کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے اور جدید ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کا تجربہ حاصل ہوگا۔ حکومت پاکستان نے گوگل کے ان اقدامات کو ملک کے آئی ٹی برآمدات کو 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کے وسیع تر ہدف سے جوڑا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جدید انفراسٹرکچر ، تربیت یافتہ افرادی قوت، سازگار پالیسیوں اور بین الاقوامی شراکت داریوں کی ضرورت ہے۔ گوگل کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری دیگر عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہے۔ان تمام پیش رفتوں کے مرکز میں پاکستان کی نوجوان آبادی ہے، جو ملک کا سب سے بڑا اثاثہ سمجھی جاتی ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *