وزیر اعلی سہیل آفریدی نے 19 اپریل 2026 کو ریلوے اسٹیشن مردان کے تاریخی میدان میں جب 50 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا، تو پسماندگی اور التوا کے مارے ہوئے مردان کے شہریوں میں امید کی ایک نئی کرن جاگی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب یہاں کا ہر عام و خاص شہری یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہے کہ یہ خطیر رقم کب ترقیاتی منصوبوں کا روپ دھار کر زمین پر نظر آئے گی اور کب مردان کا قسمت بدلے گا؟ ایک صحافی کی حیثیت سے میرا بھی یہ تجسس رہا، جس کے لیے میں نے چند اہم منصوبوں کے سرکاری دستاویزات اور اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیا۔ رواں مالی سال 2026-27 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع مردان میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کئی ایک میگامنصوبے شروع کرنا کافیصلہ کیاگیاہے ان شعبوں کے لیے مجموعی طور پر 17 ارب 91 کروڑ روپے کے منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔ تاہم، اس خطیر رقم کے مقابلے میں اس سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) میں محض 91 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ تعلیمی شعبے پر نظر ڈالی جائے تو رواں مالی سال میں 4 ارب روپے کی خطیر رقم سے بوائز کیڈٹ کالج کی تعمیر کا منصوبہ شامل کیاگیا ہے، لیکن بجٹ میں فی الوقت اس کے لئے صرف 1 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں اس کالج کے لئے جگہ کا تادم تحریر انتخاب نہیں کیاگیا ہے دوسری جانب 4 ارب 26 کروڑ روپے کی لاگت کا گرلز کیڈٹ کالج مردان طویل عرصے سے فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث التوا کا شکار چلا آرہا ہے، جس کے لیے اس سال بجٹ میں 29 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کر کے جون 2027 تک مکمل کرنے کا دعوی کیا گیا ہے فضل حق کالج مردان کی بحالی و تجدیدِ نو کے 85 کروڑ روپے کے کل تخمینے کے مقابلے میں جاری بجٹ میں صرف 2 کروڑ 60 لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ صحت کے شعبے کی صورتحال بھی کاغذ پر بڑے منصوبے، جیب میں چند ٹکے کے مصداق ہے پی آئی سی (PIC) سیٹلائٹ سینٹر کو تخت بھائی سے ایم ایم سی منتقل کرنے کے 5 ارب روپے کے میگا منصوبے کیلئے بجٹ میں صرف 5 کروڑ روپے کی ابتدائی رقم رکھی گئی ہے مردان میڈیکل کمپلیکس میں کے ٹی ایچ اورایل آر ایچ کے طرز پر ایمرجنسی و آئی سی یو کی اپ گریڈیشن کے لیے منظور شدہ 1 ارب 70 کروڑ روپے میں رواں سال صرف 5 کروڑ روپے جاری کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اسی طرح 71 کروڑ 20 لاکھ روپے کی لاگت کے برن اینڈ کڈنی سینٹر کے لیے 4 کروڑ روپے جبکہ آنکولوجی (کینسر)سینٹر کے لئے درکار80 کروڑ روپے میں سے محض 4 کروڑ روپے رکھنے کی منظوری دی گئی ہے دستاویزات کے مطابق ڈی ایچ کیو اسپتال کے پرانے بلاکس کی اپ گریڈیشن کے 59 کروڑ 52 لاکھ روپے کا منصوبہ ہے جس کے لیے فی الحال 43 کروڑ روپے کے فنڈز منظور کیے گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان منصوبوں کی منظوریاں یقینا قابل خیرمقدم ہیں، لیکن ہمیں تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ یہ میگا پراجیکٹس مجموعی طور پر لگ بھگ 18 ارب روپے کے لگ بھگ ہیں اور ان پر پیشرفت کے لیے صرف 91 کروڑ روپے کا مختص ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کام کی رفتار نہایت سست رہے گی۔ موجودہ حکومت کی مدتِ تکمیل میں لگ بھگ ڈھائی سال کا عرصہ باقی ہے اور صوبہ پہلے ہی شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ ان میگا منصوبوں کی تکمیل کے لیے کوئی واضح ٹائم فریم بھی مقرر نہیں کیا گیا، جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ فنڈز کی اس بوند بوند فراہمی کے باعث یہ تمام پراجیکٹس ماضی کی وومن یونیورسٹی، ڈی ایچ کیو کی پرانی عمارت اور گرلز کیڈٹ کالج کی طرح سالہا سال تک ادھورے رہیں گے، جس سے نہ صرف عوامی مشکلات میں اضافہ ہوگا بلکہ مہنگائی کے باعث ان کی لاگت بھی دوگنی ہو جائے گی مثال کے طورپر گرلز کیڈٹ کالج کا منصوبہ مئی 2017میں شروع کیاگیا تھا اور اس منصوبہ کو اپریل 2020 میں مکمل ہونا تھا فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث منصوبے کی اصل رقم 2 ارب 39 کروڑ 56 لاکھ 77 ہزار روپے اس کی لاگت بڑھ کر 4 ارب 20 کروڑ تجاوز کر گئی ہے اس اہم منصوبے کے لئے موجودہ بجٹ میں صرف 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں رقم کی اس ریشو کو دیکھ کر اگلے تین سالوں میں یہ منصوبہ مکمل ہونا مشکل دکھائی دے رہاہے اس طرح ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پرانے بلاکس کی اپ گریڈیشن کے لیے 43 کروڑ روپے کے اجرا کی بجائے800بستروں پر مشتمل زیر التوا منصوبے پر فوکس کیاجاتا اوریکمشت اس کے لئے60کروڑ جاری کیئے جاتے تو یہ منصوبہ شرمندہ تعبیر ہوجاتا (ستم ظریفی یہ ہے کہ ڈی ایچ کیو کے منصوبے کوفی الوقت60کروڑ کی ضرورت ہے اور حکومت نے اس سالانہ بجٹ میں صرف پچاس لاکھ روپے پر اکتفا کیاہے) اس لئے حکومت اور منصوبہ سازوں کے لیے عملی اور دانشمندانہ راستہ یہ تھا کہ وہ درجن بھر ادھورے منصوبوں کا جال بچھانے کے بجائے مردان کے لیے کسی ایک یا دو مرکزی میگا پراجیکٹس کا انتخاب کرتے اور ان کی مکمل فنڈنگ یقینی بنا کر انہیں وقت پر پورا کرتے تاکہ عوام کو ان کا حقیقی فائدہ مل سکتا تو یہ عوامی مفاد میں زیادہ بہترین فیصلہ ہوتا مردان کے منتخب عوامی نمائندوں کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ سیاسی و ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک میز پر بیٹھیں اور وزیر اعلی پر زور دیں کہ مردان کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل فنڈز فراہم کیے جائیں جو رواں دورحکومت میں مکمل ہوں بصورتِ دیگر اربوں روپے کا یہ تاریخی ترقیاتی پیکج محض اخباری سرخیوں اور تقاریر تک ہی محدود رہے گا اور عوام اس کے حقیقی ثمرات سے محروم رہیں گے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں