بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 23.1°C
Friday, 04 September 2026 | پاکستان: 23 ر بیع الاول 1448

منی پور نسلی فسادات

Friday, 4 September, 2026

مودی سرکار کی یک طرفہ اور ناکام پالیسیوں نے ریاست منی پورکو آگ میں جھونک دیا،پرتشددنسلی واقعات و فسادات شدت اختیار کر گئے ۔ بھارتی جریدہ”ٹائمز آف انڈیا “کی رپورٹ کے مطابق منی پور کے کانگ پوکپی ضلع میں مسلح حملے کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک جبکہ ایک شخص زخمی اور ایک لاپتہ ہوگیا۔ حملے میں ہلاک اور زخمی ہونیوالے افراد کا تعلق ناگا قبیلے سے ہے ۔ مقامی افراد نے کوکی عسکریت پسندوں پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔ دوسری جانب ضلع سیناپتی میں کوکی کسانوں پر حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔منی پور میں امن اجلاس کے ایک روز بعد تازہ تشدد ریاست کی نازک سکیورٹی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے، بین الاقوامی جریدے الجزیرہ نے منی پور کے تنازع پر تجزیہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ فسادات اب محض میتی کوکی قبائل تک محدود نہیں رہے بلکہ ایک زیادہ پیچیدہ اور کئی فریقوں پر مشتمل تنازع بن چکے ہیں۔ برسوں کی فرقہ وارانہ کشیدگی اور غفلت نے مسلسل بدامنی کو جنم دیا۔ رواں سال ریاست بھر میں تیس سے زائد تشدد کے واقعات پیش آئے۔ پولیس کی استعداد مسلسل بحرانوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار رہی۔ دہلی قیادت نے محدود نیم فوجی نفری بھیجی،جس نے مؤثر کارروائی نہ کی۔ تقریباً چار سو افراد متاثر، ایک سو بیس سے زائد بے گھر ہوئے۔ عوامی اعتماد مجروح، حکومتی بحران محض بیانات سے ختم نہیں ہوگا۔ماہرین کے مطابق مودی حکومت کا منی پور میں کنٹرول عملاً ختم ہو چکا ہے۔ مودی حکومت کی سخت گیر اقدامات منی پور میں حالات قابو لانے کے بجائے مزید خراب کر رہے۔ منی پور پر عالمی برادری کی خاموشی معصوم جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہی ہے۔ منی پور میں تازہ تشدد کے واقعات پر مودی حکومت سے فوری جوابدہی اور مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔منی پور میں علیحدگی پسند عناصر مودی حکومت کے مظالم کیخلاف ا ٹھ کھڑے ہیں۔ مودی حکومت پر تشدد کاروائیوں سے اپنے حقوق کیلئے لڑنے والوں کی آواز نہیں دبا سکتی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے منی پور میں جاری تشدد کے تعلق سے مرکزی حکومت پر تندوتیز حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست برسوں سے تشدد اور نفرت کی آگ میں جل رہی ہے لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت اس بحران کے حل کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھا رہی ہے۔ منی پور برسوں سے جل رہا ہے اور ایک بار پھر نفرت اور تشدد کی آگ میں 20 گھر جل کر راکھ ہو گئے ہیں۔ دو حکومتوں اور صدر راج کے باوجود ریاست میں تصادم لگاتار گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ہزاروں لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اوربہت سے اجڑ چکے ہیں۔ منی پور جس ناقابل برداشت تکلیف سے گزر رہا ہے اس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ راہول نے الزام لگایا کہ اس صورتحال کیلئے مرکزی حکومت کا تفرقہ انگیز نظریہ ذمہ دار ہے اور مودی کی قیادت والی حکومت لوگوں کو مذہب، ذات، زبان، خطہ اور شناخت کی بنیاد پر بانٹتی ہے۔ آج صرف منی پور ہی نہیں بلکہ پورا ملک مودی سے ہمدردی کے دو لفظوں کی بھی امید چھوڑ چکا ہے ، کارروائی کی بات تو دور کی ہے۔ منی پور اس سے بہتر کا حقدار ہے اور اس کیلئے ‘بھارت جوڑنا’ ہی واحد راستہ ہے۔ شرپسندوں نے کوکی کے سرحدی گاؤں فائمول کو نذرِ آتش کردیا، جوابی کارروائی میں ناگا قبائل کے دیہات کو نشانہ بنایا گیا، آتشزدگی کے ان واقعات میں فائمول گاں کے 15 گھرمکمل جل گئے جبکہ ناگا برادری کے 7گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ ایک اور واقعہ میں حملہ آوروں نے ضلع کامجونگ میں تانگکھول ناگا بستی میں 7 گھروں کو آگ لگادی، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے منی پور میں فسادات، انسانی حقوق کی پامالیوں اور نقل مکانی کو مودی سرکار کی بدترین ناکامی قراردیدیا۔ مودی حکومت کی غفلت سے اٹھنے والا تنازع نوے کی دہائی کی خانہ جنگی سے زیادہ تباہ کن ہے، حالیہ فسادات کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ مودی سرکار منی پور میں امن و امان برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔منی پورمیں تشددواقعات، غیر قبائلی میتی لوگوں اور عیسائی قبائلی کوکی لوگوں کے درمیان جاری نسلی تصادم ہے۔ یہ نسلی فسادات بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں 3 مئی 2023ء کو شروع ہوئے جس میں اب تک کم از کم 98 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔اس واقع کا آغاز ضلع چورا چاند پور میں آل ٹرائبل اسٹوڈنٹ یونین منی پور کی طرف سے اکثریتی میتی کمیونٹی کو تحفظات دینے کے خلاف احتجاج کیلئے بلائے گئے “قبائلی یکجہتی مارچ” کے دوران ہوا۔ ان پر تشدد واقعات کو روکنے کیلئے آسام رائفلز اور ہندوستانی فوج کے اہلکاروں کو ریاست میں امن و امان کی بحالی کیلئے تعینات کیا گیا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *