بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 23.2°C
Friday, 04 September 2026 | پاکستان: 23 ر بیع الاول 1448

موٹر ویز: سبز اور پیداواری شاہراہیں

Friday, 4 September, 2026

پاکستان کی موٹر ویز ملک کی اہم ترین عوامی سرمایہ کاریوں میں شمار ہوتی ہیں۔ انہوں نے بڑے شہروں کے درمیان فاصلے کم کیے، سفر کو تیز اور محفوظ بنایا، تجارت کو فروغ دیا اور سیاحت و علاقائی ترقی کے نئے امکانات پیدا کیے لیکن موٹر ویز کی افادیت صرف لوگوں اور سامان کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے ۔ ان وسیع شاہراہوں کے اطراف موجود زمین کو بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے ماحول دوست اور پیداواری گرین کوریڈورز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جہاں درخت اور پودے نہ صرف خوبصورتی میں اضافہ کریں بلکہ پھل، روزگار اور آمدنی بھی پیدا کریں۔پاکستان میں موٹر ویز کے اطراف شجرکاری پہلے ہی کی جاتی ہے مگر زیادہ تر توجہ آرائشی یا تیزی سے بڑھنے والے درختوں پر مرکوز رہی ہے۔ بعض علاقوں میں یوکلپٹس جیسے درخت بھی لگائے گئے ہیں۔ اگرچہ درخت گردوغبار کم کرنے، مٹی کے کٹا کو روکنے، ماحول کو بہتر بنانے اور شاہراہوں کے منظر کو خوبصورت بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم وقت آ گیا ہے کہ شجرکاری کو صرف ماحولیاتی یا جمالیاتی سرگرمی سمجھنے کے بجائے اسے ایک معاشی سرگرمی کے طور پر بھی دیکھا جائے۔بنیادی تصور بہت سادہ ہے: موٹر وے کے موزوں حصوں کو ایسی سبز پٹی میں تبدیل کیا جائے جہاں مقامی ماحول، مٹی اور آب و ہوا کے مطابق پھل دار اور معاشی اہمیت رکھنے والے درخت لگائے جائیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر جگہ باغات قائم کر دیے جائیں یا روڈ سیفٹی کو نظرانداز کیا جائے۔ اصل اصول ہونا چاہیے: صحیح جگہ پر صحیح درخت۔پشاور سے اسلام آباد تک موٹر وے کے مختلف حصوں میں آڑو، انار، زیتون، سیب اور دیگر موزوں پھل دار اقسام کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ مقامی موسمی حالات، مٹی اور پانی کی دستیابی کو سامنے رکھتے ہوئے ایسی شجرکاری نہ صرف ماحول کو خوبصورت بنا سکتی ہے بلکہ اس خطے کی زرعی معیشت سے بھی منسلک ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر سیاحوں کیلئے موسم کے مطابق پھلوں سے لدے درختوں کے درمیان سفر ایک منفرد تجربہ بن سکتا ہے۔اسلام آباد سے کلر کہار اور پھر للہ سے بھیرہ تک موٹر وے کے مختلف حصوں میں نسبتاً خشک اور سرد ماحول کے مطابق اقسام کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ جہاں حالات موزوں ہوں وہاں لوکاٹ، بیری اور دیگر مقامی یا تجارتی لحاظ سے مفید اقسام کو آزمایا جا سکتا ہے۔ تاہم ہر شجرکاری منصوبے سے پہلے مٹی، پانی، درجہ حرارت اور ماحولیاتی حالات کا سائنسی جائزہ ضروری ہوگا۔بھیرہ سے پنڈی بھٹیاں تک کا علاقہ پہلے ہی ترشاوہ پھلوں کی پیداوار کیلئے معروف ہے۔ اسلئے مالٹے، کینو، گریپ فروٹ اور دیگر مناسب اقسام کے درختوں کو موٹر وے کے منتخب حصوں میں شامل کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس سے شاہراہ کے اردگرد کا منظر بھی بہتر ہوگا اور علاقے کی زرعی شناخت بھی مزید مضبوط ہوگی۔پنڈی بھٹیاں سے لاہور تک کے راستے پر امرود، لیچی، لیموں، انگور، جامن اور دیگر موزوں اقسام کی شجرکاری کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ان پھلوں کی پاکستان میں پہلے ہی وسیع منڈیاں موجود ہیں۔ اگر پیداوار کو مناسب طریقے سے منظم کیا جائے تو موٹر وے کے کناروں پر قائم باغات مقامی لوگوں کیلئے آمدنی اور روزگار کا اضافی ذریعہ بن سکتے ہیں۔اسی طرح پنڈی بھٹیاں، فیصل آباد اور عبدالحکیم کے درمیان موٹر ویز کے مختلف حصوں میں مقامی آب و ہوا کے مطابق امرود، آم، جامن، بیری، شہتوت اور دیگر اقسام کو آزمایا جا سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی علاقے کیلئے حتمی فیصلہ ماہرینِ زراعت، ماہرینِ ماحولیات اور ہائی وے انجینئرز کی مشترکہ سفارش کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ملتان سے سکھر تک موٹر وے اس تصور کیلئے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ جنوبی پنجاب اور سندھ آم اور کھجور کی پیداوار کیلئے دنیا بھر میں اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ ملتان کا آم پاکستان کی زرعی اور ثقافتی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے، جبکہ سندھ اور جنوبی پنجاب میں کھجور کی پیداوار بھی نمایاں ہے۔ موٹر وے کے موزوں حصوں میں اعلیٰ معیار کے آم اور کھجور کے باغات قائم کرکے ایک منفرد فروٹ کوریڈور تشکیل دیا جا سکتا ہے جو نہ صرف مقامی معیشت کو تقویت دے بلکہ سیاحت کیلئے بھی کشش کا باعث بنے۔ایسے منصوبے کے فوائد صرف پھلوں کی پیداوار تک محدود نہیں ہوں گے۔ درخت گردوغبار کم کریں گے، کاربن جذب کریں گے، مٹی کے کٹا کو روکیں گے اور شاہراہوں کے ماحول کو بہتر بنائیں گے لیکن اس تمام عمل میں سڑک کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ درخت ڈرائیوروں کی بصارت میں رکاوٹ نہ بنیں، ٹریفک سائنز کو نہ چھپائیں، سڑک کی بنیاد یا فرش کو نقصان نہ پہنچائیں اور آندھی یا طوفان کے دوران خطرہ پیدا نہ کریں۔ درختوں کا شاہراہ سے مناسب فاصلہ، جڑوں کا پھیلا، بالغ درخت کا حجم اور دیکھ بھال کی ضروریات پہلے سے طے کی جانی چاہئیں۔اس منصوبے کا ایک بڑا فائدہ روزگار کی تخلیق بھی ہوگا۔ نرسریوں کے قیام، پودوں کی تیاری، شجرکاری، آبپاشی، کٹائی، پھل توڑنے، نقل و حمل، ذخیرہ، پراسیسنگ اور مارکیٹنگ کے شعبوں میں بڑی تعداد میں روزگار پیدا کیا جا سکتا ہے۔ یوں موٹر وے کے اطراف شجرکاری حکومت کیلئے مستقل اخراجے کے بجائے ایک پیداواری سرمایہ کاری بن سکتی ہے۔اس مقصد کیلئے حکومت کو ہر کام خود کرنے کی ضرورت نہیں۔ موٹر وے کے منتخب حصے شفاف اور مسابقتی طریقہ کار کے تحت نجی کمپنیوں، کسانوں کی کوآپریٹو سوسائٹیوں، باغبانی کے اداروں یا مقامی کاروباری گروہوں کو لیز پر دیے جا سکتے ہیں۔ معاہدے میں شجرکاری، آبپاشی، دیکھ بھال، پھل توڑنے اور مردہ پودوں کی جگہ نئے پودے لگانے کی ذمہ داری واضح کی جا سکتی ہے۔ ریاست اور نجی شعبے کے درمیان آمدنی میں شراکت کا ایک شفاف نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سے پودوں کی بقا، دیکھ بھال اور پیداوار کا ریکارڈ بھی رکھا جا سکتا ہے۔تصور کیجیے کہ پشاور سے اسلام آباد تک سفر کرتے ہوئے مناسب پھل دار درختوں کی سرسبز پٹیاں نظر آئیں، بھیرہ کے اطراف بیری اور دیگر مقامی پھلوں کے باغات ہوں، لاہور کی جانب امرود اور دیگر موزوں پھلوں کے کوریڈور ہوں، جبکہ جنوبی پنجاب اور سندھ میں آم اور کھجور کے منظم باغات شاہراہ کے منظر کو بدل دیں۔یہ صرف خوبصورتی نہیں ہوگی؛ یہ ماحول، روزگار، زراعت، سیاحت اور معیشت کو ایک دوسرے سے جوڑنیوالا ماڈل ہوگا۔پاکستان کو اپنے بنیادی ڈھانچے کو صرف اخراجات کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے اسے پیداواری اثاثے میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ موٹر ویز اس تبدیلی کا بہترین آغاز بن سکتی ہیں۔ اگر منصوبہ بندی سائنس پر، شجرکاری ماحول کے مطابق، انتظام شفاف اور سڑکوں کی حفاظت اولین ترجیح پر مبنی ہو تو ہماری موٹر ویز دنیا کیلئے ایک منفرد مثال بن سکتی ہیں۔ہمیں ایسی شاہراہیں بنانی چاہئیں جو صرف ہمیں ایک منزل سے دوسری منزل تک نہ لے جائیں بلکہ راستے میں سبزہ، پھل، روزگار اور خوشحالی بھی پیدا کریں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *