جب پاکستان 2026-27 کے لئے ایس سی او کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت سنبھال رہا ہے، تو اس نے ترقی کے تمام غیر سیاسی شعبوں میں تعاون کا ایک قابلِ عمل ایجنڈا پیش کیا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے خطے کے تین ارب لوگوں کے بہتر مستقبل کیلئے آئی ٹی،مصنوعی ذہانت،توانائی کی ترقی،غربت کے خاتمے،آفات کے انتظام، صحت، ثقافت اور کھیلوں کو ترجیحی شعبوں کے طور پر اپنانے اور مشترکہ کوششوں کو یکجا کرنے کا منصوبہ پیش کیا۔اگر وسطی اور جنوب مغربی ایشیا کا یہ ممکنہ جیو اکنامک بلاک اپنے وعدوں پر عملی طور پر کاربند رہتا ہے، تو یہ باہمی اور علاقائی تنازعات کو بہتر انداز میں حل کرنے کیلئے باہمی مفاہمت کا ڈھانچہ تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔ چنانچہ اسلام آباد نے زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے دہشت گردی اور آبی وسائل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے مسائل اٹھائے اور خبردار کیا کہ اس قسم کے تنا سے صرف مزید عدم استحکام، انتشار اور تنزلی ہی جنم لیتی ہے۔کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ہونیوالے سربراہی اجلاس میں سربراہانِ مملکت اور حکومتوں نے باہمی رکاوٹوں سے پاک ایک ہم آہنگ جیو پولیٹیکل اتحاد کی تشکیل کیلئے یکجا ہونے کا عزم ظاہر کیا۔اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے،روس، چین اور ایران جیسے اہم فریقین کو چاہیے کہ وہ بھارت پر زور دیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے اور امن و سکون کی خاطر ایک مشترکہ علاقائی ایجنڈے پر کام کرے۔اس طرح کے وسیع البنیاد مسائل پر تعاون کی مثالیں گزشتہ سال چین کے شہر تیانجن میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں قائم کی گئی تھیں،جہاں پاکستان اور بھارت نے دہشت گردی کو”ایک ہی زاویے سے دیکھنے” کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے تھے۔اس عمل کو اس سال دریائے سندھ کے پانیوں کی منصفانہ تقسیم پر باہمی تعاون کے ذریعے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔پاکستان اور بھارت کے سربراہانِ حکومت کے درمیان ملاقات ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے اور اس سے ایس سی او جیسے فورمز کے وقار اور ساکھ میں مزید اضافہ ہوگا۔10رکنی ایس سی او،بشمول مبصرین اور مذاکراتی شراکت داروں کو،امن کیلئے متحد ہونے کے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔ ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ ہنگامہ خیزی کا شکار ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی سپلائی لائنز متاثر ہوئی ہیں،جیو اکنامکس پر فعال انداز میں مرکوز سفارتکاری کی اشد ضرورت ہے۔پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ماضی میں ادا کیے گئے ثالثی کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے اجتماعی بھلائی کیلئے تعاون کا واضح اشارہ دیا ہے؛یہ ایک ایسا تصور ہے جسے اب عملی شکل دینے کی ضرورت ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی نئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے،جس سے بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں پر جغرافیائی سیاسی حالات کے اثرات کے بارے میں خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔برینٹ کروڈ کی قیمت 96.54 ڈالر فی بیرل رہی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ کی قیمت 91.71 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق،مربن کروڈکی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 7 ڈالر فی بیرل اضافے کے بعد 106 ڈالر تک پہنچ گئی۔قیمتوں میں یہ تازہ ترین اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی سرمایہ کاروں کے رجحانات پر اثر انداز ہو رہی ہے اور مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی ترسیل میں ممکنہ خلل کے بارے میں خدشات بڑھا رہی ہے ۔ یہ خطہ عالمی توانائی کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ ہے لہٰذا یہاں کشیدگی میں کسی بھی قسم کا اضافہ بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہونے والا ایک ممکنہ عنصر بن سکتا ہے۔عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ان ممالک میں ایندھن کی لاگت متاثر ہو سکتی ہے جو درآمد شدہ پٹرولیم مصنوعات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیںجن میں پاکستان بھی شامل ہے۔دریں اثناء حکومتِ پاکستان بین الاقوامی تیل کی منڈیوں میں ہونے والی تبدیلیوں اور دیگر متعلقہ عوامل کے پیشِ نظر مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔2 ستمبرکیلئے پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں 1.08 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیاجس کے بعد نئی قیمت 343.87 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 51 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیاجس سے اس کی قیمت 370.92 روپے فی لیٹر ہو گئی ۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں ہونیوالے اس تازہ ترین اضافے پر حکومتوں،کاروباری اداروں اور صارفین کی گہری نظر ہے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نقل و حمل اور پیداواری لاگت کو بڑھا سکتا ہے اور مہنگائی کے دبائو میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے ۔ آنیوالے دنوں میں مارکیٹ کے رجحانات کا انحصار بڑی حد تک امریکہ اور ایران کے تعلقات میں پیشرفت مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی کی صورتِ حال اور عالمی سطح پر تیل کی فراہمی سے متعلق توقعات پر ہوگا۔
بلوچستان میں کامیاب آپریشن
بلوچستان میں ایک اور حملہ،ایک اور سانحہ اور خونریزی کا ایک اور دن۔عسکریت پسند ریاستی نظام اور اس کیلئے خدمات انجام دینے والوں کو بار بار نشانہ بنا رہے ہیںجس کے نتیجے میں فوجی،افسران، سرکاری اہلکار اور عام شہری مسلسل خطرے کی زد میں ہیں۔چمن اور پشین میں ہونیوالے حالیہ مربوط حملوں میں دو افسران اور ایک کسٹم اہلکار سمیت چھ اہلکار شہید ہوئے ۔ سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں 21 دہشت گردوں کو ہلاک کیا،جبکہ علاقے میں مزید آپریشنز جاری رہے۔لیکن عوام کے لیے،عسکریت پسندوں کے ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب کوئی خاص معنی نہیں رکھتی۔ہر حملے کے بعد بتائی جانے والی تعداد زمینی حقائق سے تیزی سے دور ہوتی جا رہی ہے۔یہ اعداد و شمار کوئٹہ،چاغی یا پشین میں کسی خاندان کو تحفظ کا احساس نہیں دلاتے۔یہ غیر محفوظ شاہراہوں پر سفر کرنے والوں یا حساس تنصیبات پر تعینات اہلکاروں کو اطمینان نہیں دیتے۔اصل اہمیت اس بات کی نہیں ہے کہ حملے کے بعد کتنے دہشت گرد ہلاک ہوئے۔اہم بات یہ ہے کہ آیا حملوں میں کمی آ رہی ہے ، کیا کم فوجی اور شہری ہلاک ہو رہے ہیں،اور کیا ریاست بتدریج عسکریت پسند نیٹ ورکس سے اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہے۔یہی وہ چیز تھی جس نے’آپریشن ضربِ عضب’کو ممتاز بنایا۔اس کی کامیابی کا اندازہ صرف عسکریت پسندوں کے جانی نقصان یا خالی کرائے گئے علاقوں سے نہیں لگایا گیا،بلکہ اس کے بعد دہشت گردانہ تشدد میں آنے والی نمایاں اور پائیدار کمی سے لگایا گیا۔سیکیورٹی کے ثمرات عام زندگی میں بھی نظر آنے لگے ۔ ‘عزمِ استحکام’کو بھی بالآخر اسی معیار پر پرکھا جانا چاہیے۔وقتی اور ہنگامی فتوحات اہم ہیں لیکن انہیں ایسے اسٹریٹجک نتائج میں تبدیل ہونا چاہیے جنہیں شہری دیکھ اور محسوس کر سکیں ۔ پاکستان کو ان سرحدوں اور راستوں کو محفوظ بنانے کیلئے مزید اقدامات کرنے ہوں گے جن کے ذریعے عسکریت پسند،ہتھیار اور مالی وسائل کی نقل و حمل ہوتی ہے ۔انٹیلی جنس، پولیسنگ، سرحدی انتظام اور انسدادِ دہشتگردی کے آپریشنز کو ایک مربوط نظام کے طور پر کام کرنا چاہیے۔مقصد صرف انتقامی کارروائی نہیں ہو سکتابلکہ اس کا مقصد دہشت گردی کی روک تھام،اس کے نیٹ ورک کو درہم برہم کرنا اور امن و امان کی بحالی ہونا چاہیے ۔ بصورتِ دیگر،ہر کامیاب انتقامی کارروائی محض ایک اور کامیاب حملے کے بعد ہی وقوع پذیر ہوگی ۔پاکستان’ہزار زخموںسے خون بہنے کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں