پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی نے نہ صرف قومی سلامتی کو متاثر کیا بلکہ معیشت، سماجی استحکام، تعلیم، سرمایہ کاری اور ترقی کے عمل کو بھی نقصان پہنچایا۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ملک نے دہشت گردی کیخلاف ایک طویل اور کٹھن جدوجہد کی ہے جس میں ریاستی اداروں، سیکیورٹی فورسز اور عوام نے بیمثال قربانیاں دی ہیں۔ انہی قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان نے دہشت گردی کے بڑے نیٹ ورکس کو کمزور کرنے اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔دسمبر 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گرد حملہ ایک ایسا سانحہ تھا جس نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس المناک واقعے کے بعد سیاسی و عسکری قیادت نے ایک متفقہ قومی حکمت عملی کے طور پر نیشنل ایکشن پلان متعارف کرایا۔ اس منصوبے کا مقصد دہشت گردی، انتہا پسندی، نفرت انگیز سرگرمیوں، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور ریاست مخالف عناصر کے خلاف جامع اور مربوط اقدامات کو یقینی بنانا تھا۔ نیشنل ایکشن پلان دراصل اس عزم کا عملی اظہار تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خطرے کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیگا۔اس پالیسی کے تحت شروع کیے گئے آپریشن ضربِ عضب اور بعد ازاں ردالفساد نے دہشتگرد تنظیموں کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا۔ملک کے مختلف علاقوں میں قائم دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کیے گئے، اسلحے کے ذخائر ضبط ہوئے اور متعدد خطرناک نیٹ ورکس کو توڑا گیا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں دہشتگرد حملوں میں نمایاں کمی آئی اور ملک میں معمولات زندگی بحال ہونے لگے۔ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی انسداد دہشت گردی کوششوں کو سراہا گیا اور اسے دہشت گردی کیخلاف ایک اہم محاذ کے طور پر تسلیم کیا گیا ۔ اگرچہ یہ کامیابیاں اہم تھیں، لیکن وقت کے ساتھ خطرات کی نوعیت بدلتی رہی۔ آج دہشتگردی صرف روایتی حملوں تک محدود نہیں رہی بلکہ جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا، سائبر پروپیگنڈے، بیرونی معاونت اور غیر قانونی مالیاتی ذرائع کے ذریعے بھی اپنے اثرات پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے قومی سلامتی کے تقاضے بھی پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان کو ایک مسلسل ارتقا پذیر پالیسی کے طور پر دیکھا جائے جو نئے چیلنجز کے مطابق خود کو ڈھال سکے۔2026 کے دوران بعض علاقوں، خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات نے اس حقیقت کو دوبارہ نمایاں کیا کہ خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ۔ان واقعات کے بعد حکومت اور سیکیورٹی اداروں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کو مزید موثر بنایا۔ دہشتگرد عناصر کیخلاف کارروائیوں میں تیزی لائی گئی اور حساس تنصیبات، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مقامات کی سیکیورٹی کو مزید مضبوط کیا گیا۔ یہ اقدامات اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاست اپنی رٹ کو ہر صورت برقرار رکھنے کیلئے پرعزم ہے۔تاہم صرف عسکری اور سیکیورٹی اقدامات ہی دیرپا امن کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ دنیا کے مختلف تجربات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ انتہا پسندی اور تشدد کے رجحانات کے خاتمے کیلئے سماجی اور معاشی عوامل کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ۔بلوچستان اس حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ معدنی وسائل، ساحلی پٹی اور علاقائی روابط کے اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ترقیاتی منصوبوں، شاہراہوں، تعلیمی اداروں، صحت کی سہولتوں اور روزگار کے مواقع کے ذریعے مقامی آبادی کو قومی ترقی کے دھارے میں مزید مثر انداز سے شامل کیا جائے۔ جب عوام کو بہتر مواقع میسر آتے ہیں تو شدت پسند عناصر کیلئے نوجوانوں کو گمراہ کرنا نسبتاً مشکل ہو جاتا ہے۔انسداد دہشت گردی کے قومی ڈھانچے میں نیشنل کائونٹر ٹیررازم اتھارٹی کا کردار بھی اہم ہے۔ مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے، پالیسی سازی اور خطرات کی بروقت نشاندہی کیلئے نیکٹا کو مزید فعال اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی ضرورت ہے۔ جدید ڈیٹا اینالیسز، مصنوعی ذہانت، نگرانی کے جدید نظام اور پیشہ ورانہ تربیت دہشتگردی کیخلاف جنگ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔دہشتگردی کی مالی معاونت کا خاتمہ بھی قومی حکمت عملی کا ایک بنیادی ستون ہے۔ غیر قانونی مالی ذرائع، اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ذریعے دہشت گرد نیٹ ورکس کی صلاحیت کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کیلئے موثر قانون سازی، ادارہ جاتی تعاون اور بین الاقوامی شراکت داری ضروری ہے۔اسی طرح سی پیک اور دیگر بڑے اقتصادی منصوبوں کی سیکیورٹی بھی قومی ترجیحات میں شامل ہے۔ پاکستان کی اقتصادی ترقی اور علاقائی رابطوں کے منصوبوں کو محفوظ بنانا نہ صرف ملکی مفاد بلکہ بین الاقوامی اعتماد کیلئے بھی اہم ہے۔ حکومت اور سیکیورٹی ادارے اس سلسلے میں مسلسل اقدامات کر رہے ہیں تاکہ سرمایہ کاری اور ترقی کا عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔قومی یکجہتی دہشتگردی کے خلاف سب سے موثر دفاعی قوت ہے۔ دہشتگرد عناصر معاشرے میں خوف ، تقسیم اور عدم اعتماد پیدا کرنا چاہتے ہیں، جبکہ قومی اتحاد، برداشت اور باہمی احترام ان کے عزائم کو ناکام بناتے ہیں۔ میڈیا، تعلیمی ادارے، مذہبی قیادت، سول سوسائٹی اور نوجوان نسل اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان صرف ایک سیکیورٹی دستاویز نہیں بلکہ ایک جامع قومی وژن ہے جس کا مقصد محفوظ، مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان کی تعمیر ہے۔ اس وژن کی کامیابی مسلسل عملدرآمد، ادارہ جاتی ہم آہنگی، عوامی تعاون اور قومی عزم سے وابستہ ہے۔ پاکستان نے ماضی میں ثابت کیا ہے کہ جب پوری قوم ایک مقصد پر متحد ہو جائے تو بڑے سے بڑا چیلنج بھی شکست کھا جاتا ہے۔ یہی قومی عزم مستقبل میں بھی پاکستان کو امن، استحکام اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک لے جا سکتا ہے۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں