قوم کے ساتھ کوئی مذاق ہو رہا ہے یا کوئی بھیانک کھیل کھیلا جا رہا ہے، اب فرق مٹتا جا رہا ہے۔لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے، آئی پی پیز کو اربوں روپے کپیسٹی پیمنٹ کی مد میں بھی دیے جا رہے ہیں، گھروں کی چھتوں پر سولر سے بجلی بھی بن رہی ہے، پھر بھی اندھیرا ہے۔ پھر بھی وہی بھاری بل ہے جس کیلئے سفید پوش آدمی کو اپنے گھر کی چیزیں بیچنی پڑ رہی ہیں۔بجلی نہیں ہے، مگر بل دینا ہے۔ بل کے ساتھ ٹیکس دینا ہے، سرچارج دینا ہے، ان چوروں کا بوجھ بھی اٹھانا ہے جو بجلی چوری کرتے ہیں اور جن سے وصولی کوئی نہیں کرتا۔یہ صرف بجلی کا بحران نہیں ہے۔ یہ ایک مکمل زوال کی تصویر ہے۔ گیس نہیں ہے، پانی نہیں ہے، روزگار نہیں ہے۔ اور ان سب سے بڑھ کر عزت نہیں ہے۔ پولیس اور وردی والوں کو چھوڑیں، اب تو کنٹونمنٹ بورڈ کے گریڈ چار کے ملازم کے سامنے بھی شہری بے عزت ہو جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اس قوم اور اس ملک کے ساتھ یہ کھیل کھیل کون رہا ہے؟ اس کا جواب کسی ایک شخص کا نام نہیں، اس کا جواب تیس سال کی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ پہلا ایکٹ: 1994 کی پالیسی،بنیاد کیسے رکھی گئی؟کہانی 80 کی دہائی کے آخر سے شروع ہوتی ہے۔ ملک کی کل پیداواری صلاحیت صرف 10,800 میگاواٹ تھی جبکہ معیشت 7فیصد ترقی کر رہی تھی۔2000 میگاواٹ کا شارٹ فال تھا، اور بجلی صرف 40فیصد آبادی کو میسر تھی۔اس بحران کو حل کرنے کیلئے محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت نے 1994میں پاکستان کی پہلی پرائیویٹ پاور پالیسی متعارف کرائی۔ عالمی بینک کی ایما پر اسے اس وقت کے امریکی وزیر توانائی نے دنیا کی بہترین پاور پالیسی قرار دیا۔ مراعات کیا تھیں؟ یہی وہ جڑ ہے جہاں سے آج کا عذاب پھوٹا:ڈالر میں معاہدہ: بجلی کا نرخ 5.6 سے 5.9 سینٹ فی یونٹ ڈالر میں طے کیا گیا۔ کپیسٹی پیمنٹ: حکومت اس بات کی پابند ہوگی کہ چاہے بجلی خریدے یا نہ خریدے، وہ پلانٹ کو 60 فیصد صلاحیت کی قیمت ہر حال میں ادا کرے گی۔ خودمختار ضمانت: واپڈا اور کے ای ایس سی کے واجبات کی ضمانت حکومت پاکستان دے گی۔ ایندھن درآمدی: زیادہ تر پلانٹس فرنس آئل پر لگائے گئے۔ اس پالیسی کے تحت 16 بڑے آئی پی پیز لگے جن میں کل سرمایہ کاری 5.3 ارب ڈالر تھی۔ ان میں سب سے بڑے دو تھے، حبکو 292میگاواٹ: اس وقت برطانوی کمپنی انٹرنیشنل پاور ملکیت، اب حب پاور ہولڈنگ اور میگا گروپ کے پاس۔کیپکو – 1638 میگاواٹ: واپڈا سے الگ کر کے بنائی گئی، 36 فیصد حصہ برطانوی کمپنی کا اور 44 فیصد واپڈا کا تھا۔ دیگر میں لال پیر، پاک جن، صبا پاور، جاپان پاور، کوہ نور انرجی، گل احمد انرجی، تاپال انرجی، حبیب اللہ کوسٹل شامل تھے۔پھر 1997میں ایشیائی معاشی بحران آیا، 1998 میں ایٹمی دھماکوں کے بعد پابندیاں لگیں۔ بجلی کی طلب گر گئی مگر معاہدے کے مطابق واپڈا کو 60 فیصد کی ادائیگی کرنا تھی۔ ڈالر مہنگا ہوا تو ٹیرف 1994 سے 1998 تک 87 فیصد بڑھ گیا۔ یہ پہلی بار تھا کہ پاکستان مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور تھا جس کی اسے ضرورت ہی نہیں تھی۔اسی دور میں میاں نواز شریف کی دوسری حکومت نے ان معاہدوں پر کک بیکس اور بدعنوانی کے الزامات لگائے، 9 آئی پی پیز کو نوٹس جاری کیے اور مقدمات بنائے، دو سال کی لڑائی کے بعد 12 آئی پی پیز کے ٹیرف میں 7سے 16 فیصد کمی پر سمجھوتہ ہوا مگر سرمایہ کاروں کا اعتماد ٹوٹ گیا۔دوسرا ایکٹ: 2002 اور 2006 کی پالیسیاں ،وہی غلطی نئے لباس میں۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں 2002 میں نئی پالیسی آئی۔ اس میں نیپرا کو ریگولیٹر بنایا گیا اور کہا گیا کہ اب مسابقتی بولی ہوگی۔ مگر بنیادی ڈھانچہ وہی رہا: ڈالر میں انڈیکس، کپیسٹی پیمنٹ، درآمدی ایندھن ۔ اس پالیسی کے تحت 13 نئے آئی پی پیز لگے ۔ یہ وہ دور ہے جس میں پاکستان کے بڑے کاروباری گروپس باقاعدہ طور پر اس کاروبار میں داخل ہوئے۔ نشاط گروپ): لال پیر پاور (362 میگاواٹ)، پاک جن پاور (365 میگاواٹ ) ، نشاط پاور (200 میگاواٹ)، نشاط چونیاں (200 میگاواٹ) فوجی فانڈیشن گروپ: فوجی کبیر والا (157 میگاواٹ) اینگرو گروپ: اینگرو پاورجن (227میگاواٹ) اٹلس گروپ: اٹلس پاور (225 میگاواٹ) سیف گروپ: سیف پاور (225 میگاواٹ) اورینٹ گروپ: اورینٹ پاور (229 میگاواٹ) حبکو نرووال (225 میگاواٹ)، فانڈیشن پاور، حلیمہ انرجی ۔2006 میں رینٹل پاور پالیسی بھی اسی تسلسل کا حصہ تھی۔
(……جاری ہے)






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں