بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 20.3°C
Friday, 18 September 2026 | پاکستان: 7 ر بیع الثانی 1448

سپریم کورٹ کا نیا عدالتی سال، نئی امیدیں

Friday, 18 September, 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان میں نئے عدالتی سال 2026-27 کا آغاز ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کا عدالتی نظام بیک وقت کئی بڑے چیلنجز سے دوچار ہے۔ 14 ستمبر کو ہونے والے فل کورٹ ریفرنس میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی، اٹارنی جنرل پاکستان، پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے اپنے اپنے انداز میں عدلیہ کے مستقبل، اصلاحات اور عوام کو بروقت انصاف کی فراہمی پر اظہارِ خیال کیا۔ یہ محض ایک رسمی تقریب نہیں تھی۔ درحقیقت یہ اس بات کا جائزہ لینے کا موقع تھا کہ گزشتہ عدالتی سال میں کیا حاصل کیا گیا اور نئے سال میں پاکستانی عدلیہ کس سمت آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ چیف جسٹس کا پیغام یہ تھا کہہ آزاد عدلیہ کے ساتھ احتساب بھی ضروری ہے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحیی آفریدی کی تقریر کا بنیادی محور عدالتی اصلاحات، ادارہ جاتی احتساب، ڈیجیٹلائزیشن اور عوام کو بہتر انصاف کی فراہمی تھا۔انہوں نے واضح کیا کہ عدلیہ کی آزادی اپنی جگہ بنیادی اصول ہے، لیکن اس کے ساتھ ادارہ جاتی احتساب بھی ناگزیر ہے۔ عدلیہ کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جا سکتی کہ کتنے مقدمات نمٹائے گئے، بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ سائل کو انصاف کتنی آسانی، کتنے کم خرچ اور کتنیکم وقت میں ملا چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے اصلاحاتی ایجنڈے کے پانچ بنیادی ستونوں کی نشاندہی کی، جن میں ٹیکنالوجی کے ذریعے عدالتی خدمات انصاف تک رسائی شفافیت قانونی و ضابطہ جاتی نظام کا استحکام اور ادارہ جاتی احتساب شامل ہیں۔ ان کے مطابق اصلاحاتی پروگرام کے تحت متعدد اقدامات مکمل کیے جا چکے ہیں اور عدالتی نظام کو زیادہ مثر بنانے کا عمل جاری ہے۔چیف جسٹس نے عدالتوں کی ڈیجیٹلائزیشن کو خاص اہمیت دی۔مقدمات کی ڈیجیٹل فائلنگ، بار کوڈنگ، ای آفس، پیپر لیس کورٹس، الیکٹرانک احکامات ایسے اقدامات ہیں جو آنیوالے برسوں میں عدالتی نظام کی شکل بدل سکتے ہیں۔لیکن یہاں ایک سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔کیا صرف فائل کو کاغذ سے کمپیوٹر پر منتقل کر دینا عدالتی اصلاحات ہے؟ یقینا نہیں۔ اصل اصلاح اس وقت ہوگی جب ایک عام سائل گھر بیٹھے اپنا مقدمہ دائر کر سکے، مقدمے کی تاریخ معلوم کر سکے، عدالتی حکم حاصل کر سکے اور اسے بار بار عدالت، رجسٹری یا وکیل کے دفتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ٹیکنالوجی کا اصل امتحان عام آدمی کی سہولت ہے، نہ کہ صرف عدالت کی دفتری کارکردگی۔اپ کا پبلک فیسلیٹیشن سنٹر ایک خوش آئند قدم ہے۔سپریم کورٹ میں اس سنٹر کا قیام بھی اسی سلسلے کی اہم پیش رفت ہے ۔ عام شہری کیلئے عدالت عظمی کی عمارت ہمیشہ ایک ایسی جگہ رہی ہے جہاں داخل ہونے، معلومات حاصل کرنے، مقدمے کی پیش رفت جاننے اور متعلقہ دفتر تک پہنچنے کے لیے قانونی معلومات اور تجربے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔اگر یہ سینٹر حقیقی معنوں میں عوامی سہولت کا مرکز بن جائے تو یہ عدلیہ اور عام شہری کے درمیان فاصلے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے وہاں صرف معلومات فراہم نہ کی جائیں بلکہ سائل کو صحیح رہنمائی، مقدمے کی بنیادی معلومات، متعلقہ شعبے تک رسائی آسان بنائی جائے۔اٹارنی جنرل اف پاکستان منصور عثمان اعوان نے اس موقع پر اصلاحات کی حمایت کی۔ فل کورٹ ریفرنس میں اٹارنی نے سپریم کورٹ کی اصلاحاتی کوششوں کو سراہا اور Case Management، Digitalisation، E-Filing، Video-Link Hearings، Public Facilitation، Jail Reforms اور Alternative Dispute Resolution جیسے اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت اور عدلیہ دونوں اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ مقدمات کا بوجھ صرف مزید عدالتیں قائم کرکے ختم نہیں کیا جا سکتا۔تنازعات کے حل کیلئے Alternative Dispute Resolution یعنی ADR کو فروغ دینا ہوگا۔دنیا کی ترقی یافتہ عدالتی نظاموں میں ہر تنازع عدالت کے کمرے تک نہیں پہنچتا۔ بہت سیمعاملات ثالثی، مصالحت اورباہمی تصفیے کے ذریعے حل کر دیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اگر ADR کو مضبوط، غیر جانب دار اور قابلِ اعتماد بنایا جائے تو عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔پاکستان بار کونسل نے کہا بروقت انصاف بنیادی ضرورت ہے۔ پاکستان بار کونسل وائس چیئرمین پیر محمد مسعود چشتی نے بھی عدالتی اصلاحات Case Management، E-Filing، Public Facilitation Centres اور Video-Link Facilities جیسے اقدامات کو سراہا۔کہابار اور بینچ کے درمیان تعلق عدالتی نظام کا بنیادی حصہ ہے۔جج اور وکیل ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ انصاف کے ایک ہی نظام کے دو اہم ستون ہوتے ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ بنچ اور بار کے درمیان مستقل مثبت اور ادارہ جاتی رابطہ موجود رہے۔وکلا کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ مقدمات کو غیر ضروری التوا سے بچانا صرف عدالت کی ذمہ داری نہیں۔ وکیل، جج، سائل اور عدالتی عملہ سب اس نظام کے حصے ہیں۔ سپریم کورٹ بار کے صدر ہارون الرشید نے بھی عدالتی اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے اقدامات کو اہم قرار دیا۔کہااصلاحات کا فائدہ عام سائل کوپہنچنا چاہیے۔اگر عدالت کا نظام ڈیجیٹل ہو جائے مگر مقدمہ دس سال چلتا رہے ٹیکنالوجی کا فائدہ پھر محدود رہ جائے گا۔ اگر ای فائلینگ شروع ہو جائے مگر ایک غریب سائل کو انصاف کے لیے سالہا سال انتظار کرنا پڑے تو اصلاحات کا مقصد مکمل نہیں ہوگا۔کہا اگر پبلک فیسلیٹیشن سنٹر بن جائے لیکن عام شہری کو پھر بھی اپنے مقدمے کی بنیادی معلومات حاصل کرنے کیلئے سفارش یا کسی بااثر شخص کی ضرورت ہو تو سمجھے گے کہ منزل تک نہیں پہنچے۔اصل مسئلہ زیرِ التوا مقدمات نہیں، تاخیر کا کلچر ہے۔ایک مقدمہ عدالت میں آتا ہے۔ پھر نوٹس۔پھر جواب پھر وکیل کی غیر موجودگی۔پھر ہڑتال، پھر تاریخ پھر نئی درخواست۔پھر اپیل۔پھر نظرثانی اور یوں ایک مقدمہ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہو جاتا ہے۔انصاف اگر دس سال بعد ملے تو قانونا شاید وہ انصاف ہو لیکن متاثرہ شخص کیلئے اس کی قدر وہ نہیں رہتی جو بروقت انصاف کی ہوتی ہے۔جیلوں میں قیدی بھی انصاف کے منتظر ہیں عدالتی اصلاحات میں جیل ریفارم کا ذکر بھی اہم ہے۔ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو مقدمات کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہیں ابھی عدالت نے مجرم قرار نہیں دیا۔ یہاں ریاست کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ قید کسی شخص کی آزادی محدود کر سکتی ہے، لیکن اس کے بنیادی انسانی اور قانونی حقوق ختم نہیں کر سکتی۔ زیرِ سماعت مقدمات کی تیز رفتار سماعت، قانونی معاونت، ضمانت کے معاملات اور جیلوں کے انتظامی نظام میں اصلاحات عدالتی اصلاحات کا لازمی حصہ ہونی چاہئیں۔نئے عدالتی سال کا اصل امتحان:نئے عدالتی سال کی تقریبات میں تقاریریں ہمیشہ امید پیدا کرتی ہیںلیکن تاریخ کا اصل سوال تقریر نہیں، عمل ہوتا ہے ۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اگلے بارہ ماہ میں کیا مقدمات کے فیصلے واقعی تیز ہوں گے؟ کیا پرانے مقدمات کم ہوں گے؟کیاعام سائل عدالتوں کے چکر سے آزاد ہوگا؟کیا ای فالنگ ، عام وکیل اور عام شہری کیلئے آسان ہوگی؟ کیاADR کے ذریعے ہزاروں مقدمات عدالتوں سے باہر حل ہوں گے؟ کیا بنچ اور بار کے درمیان اعتماد مزید مضبوط ہوگااور سب سے اہم یہ کہ کیا ایک غریب پاکستانی یہ محسوس کریگا کہ پاکستان کی عدالت اس کی ہے؟ عدلیہ کی اصل طاقت عوام کا اعتماد ہے۔ ایک مضبوط عدلیہ کی بنیاد صرف آئین، قانون اور عمارتوں پر نہیں ہوتی۔اس کی اصل بنیاد عوام کا اعتماد ہے۔جب ایک عام شہری یہ یقین رکھتا ہے کہ اگر اس کے ساتھ زیادتی ہوئی تو عدالت اس کی آواز سنے گی، تب ریاستِ قانون مضبوط ہوتی ہے۔نئے عدالتی سال کے آغاز پرسپریم کورٹ کی طرف سے ڈیجیٹلائزیشن شفافیت ، کیس مینجمنٹ، عوامی سہولت اور ادارہ جاتی احتساب کا عزم یقینا خوش آئند ہیاب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ عزم عدالت کی دیواروں سے نکل کر عام آدمی کی زندگی میں نظر آئے۔ پاکستان کو ایسی عدلیہ چاہیے جو آزاد بھی ہو، باوقار بھی ہو، جواب دہ بھی ہو، جدید بھی ہو اور سب سے بڑھ کر عام شہری کیلیے قابلِ رسائی بھی ہو۔نیا عدالتی سال صرف کیلنڈر کی تبدیلی نہ بنے۔یہ پاکستان میں بروقت، سستا اور قابلِ اعتماد انصاف کے نئے دور کا آغاز بنے۔یہی نئے عدالتی سال کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *