سابق بھارتی فنانس سیکرٹری سبھاش چندرا گرگ نینام نہاد معاشی ترقی کے دعوئوں کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سال جی ڈی پی تخمینہ سے متاثر کرنے کیلئے مودی حکومت کو اعداد و شمار میں ہیرا پھیری کرنی پڑی تھی۔اعداد و شمار کے ہیر پھیر سے گزشتہ سال کی جی ڈی پی کم دکھا کراس سال پہلی سہ ماہی کی نمو کو 10.3 فیصد زیادہ دکھایا گیا۔پچھلے مالی سال کی جی ڈی پی میں یہ تبدیلی نہ کی جاتی تو موجودہ قیمتوں پریہ نمو صرف 2.6 فیصد ہوتی۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق گورنر رگھورام راجن نے بھی سوال اٹھایا کہ اگر معیشت واقعی اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے تو اس کے اثرات روزگار اور سرمایہ کاری میں کیوں نظر نہیں آ رہے؟ اپوزیشن جماعت کانگریس نے نام نہاد 7.8 فیصد شرحِ نمو کو اعدادوشمار کی ہیرا پھیری قرار دیا۔واضح رہے کہ مودی کی ہندوتوا حکومت نے اپنی نااہلی چھپانے اوراقتدارپر گرفت مضبوط رکھنے کیلئے جعلی اعداد و شمار سے عوام وعالمی اداروں کومسلسل بیوقوف بنارہی ہے۔بھارت کی معاشی ترقی کا بیانیہ اور زمینی حقائق بھارت کی مودی حکومت کی طرف سے پیش کیے جانے والے بلند و بانگ معاشی ترقی کے دعوے اور جی ڈی پی کے اعدادوشمار اکثر زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق بھارتی حکومت کے جاری کردہ معاشی اعدادوشمار میں ابہام اور جعلسازی پائی جاتی ہے۔بلند جی ڈی پی کی شرح کا مطلب یہ نہیں کہ عام آدمی کے مسائل اور دارالحکومت کی غربت ختم ہو چکی ہے۔ بیروزگاری اور نوجوانوں کا بحران بھارت میں تعلیم یافتہ نوجوان شدید روزگار کے بحران کا شکار ہیں۔گریجویٹ نوجوان نوکریوں کے لیے ترس رہے ہیں اور ملازمتوں کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔حکومتی دعووں کے برعکس گراس روٹ سطح پر غربت اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد اور اقتصادی دباؤمودی سرکار کی پالیسیوں کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا بھارتی منڈیوں پر اعتماد کم ہوا ہے۔بین الاقوامی فورمز اور تجزیوں میں بھی بھارتی معیشت کے کھوکھلے پن پر سوالات اٹھائے جا رہے ہی۔ترقی کا یہ ڈھونگ صرف ایک عالمی پروپیگنڈا مہم تک محدود ہے جبکہ اندرونی ڈھانچہ کمزور ہو رہا ہے ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بھی امن اور ترقی ظاہرکرنے کیلئے سرگرمی سے رپورٹیں جاری کر رہا ہے اور میڈیا مہم چلا رہا ہے۔ کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرکے ترقی کی جھوٹی خبریں پھیلانے کا مقصدعلاقے پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو جواز فراہم کرنا ہے۔تاہم مقامی کاروباری مالکان اور کارکنوں کا اصرار ہے کہ یہ دعوے زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہیں۔ سرینگر کے ایک تاجر نے بتایا کہ زمینی صورت حال ایک مختلف کہانی بیان کرتی ہے۔ دکانیں بند ہو رہی ہیں، کاروبار مشکلات سے دوچار ہے اور بے روزگاری اب تک کی بلند ترین سطح پر ہے۔ کوئی حقیقی ترقی نہیں ہے، صرف جبر ہے۔سول سوسائٹی کے ارکان نے کہا کہ بھارتی حکومت علاقے میں اقتصادی ترقی کی خوشنما تصویر پیش کرکے بین الاقوامی برادری کو گمراہ کر رہی ہے۔ انسانی حقوق کے ایک کارکن نے کہاکہ نام نہاد ترقی کا بیانیہ دھوکہ دہی کا ایک اور طریقہ ہے۔ بھارت جھوٹی ترقی دکھا کر اپنے قبضے کو جواز فراہم کرنا چاہتا ہے، لیکن حقیقت بدستور سنگین ہے۔انہوں نے علاقے میںا?بادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے ایک وسیع حکمت عملی کی طرف بھی اشارہ کیا۔ ایک تاجر نے بتایاکہ بھارتی سرمایہ کاروں کیلئے دروازے کھولے جا رہے ہیں جبکہ کشمیری کاروبار متعدد رکاوٹوں اور وسائل تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے نقصان اٹھا رہے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 5اگست 2019کو دفعہ370کی منسوخی نے مقبوضہ جموں وکشمیر کو زندگی کے ہر شعبے میں پیچھے کی طرف دھکیل دیا ہے۔ تجزیہ کاروںنے سوال اٹھایا کہ ایک ایسے علاقے میں امن اور ترقی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے جس کو دنیا کے سب سے زیادہ فوجی جمائو والے علاقے میں تبدیل کیاگیا ہو۔پچھلے کچھ برس سے بھارتی معیشت کی معاشی ترقی کے ڈھول پیٹے جارہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا میں بالعموم اور بھارتی میڈیا میں بہت کچھ لکھا اور دکھایا جارہا ہے۔جس میں بھارت کا روشن چہرہ ہی دکھایا جارہا ہے۔”شائننگ انڈیا” ہو یا”من موہن سنگھ کی معاشی اصلاحات” یا پھر موجودہ ”مودی حکومت” کی معاشی کامیابیوں کے دعوے ان سب کے مطابق بھارتی معیشت دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کررہی ہے۔بھارتی حکومت کے دعووں کے مطابق 2014 میں بھارتی معیشت کی ترقی کی رفتار 6.9 فی صد تھی جوکہ 2015 میں 7.3 فی صد تک پہنچ گئی ،2016 میں ترقی کی یہ رفتار 8 فی صد تک پہنچ گئی۔ فی کس آمدنی جو کہ2014 میں 88,533 بھارتی روپے تھی 2015ـ2016 میں یہ آمدن بڑھ کر 93,293 ہوگئی۔ 2016ـ17میں یہ فی کس آمدن بڑھ کر 103,077 روپے ہوگئی۔ معاشی ترقی کے یہ دعویٰ کس قدر حقیقت پر مبنی ہیں اس کے بارے میں بھارتی حکومت ہی بہتر بتا سکتی ہے البتہ یوسفی نے کہیں لکھا تھا کہ جھوٹ تین طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک جھوٹ دوسرا سفید جھوٹ اور تیسرا سرکاری اعداد وشمار۔ حالیہ دنوں میں ایک سروے شائع ہوا ہے اس سروے کے مطابق ”جمہوریہ بھارت” میں غریب اور بھوکے بچوں کی تعداد ”آمریت زدہ شمالی کوریا” سے کہیں زیادہ ہے ۔ اس سروے کیلئے 119 ممالک کا انتخاب کیا گیا۔ اس سروے کے مطابق شمالی کوریا کی درجہ بندی بھارت سے سات درجے بہتر تھی جب کہ بھارت اس فہرست کے آخر میں موجود افغانستان سے سات درجے بہتر تھا۔ اس سروے کو تیار کرنے والے ادارے نے اس سروے کو تیار کرتے ہوئے تین عوامل بچوں کے لئے خوراک کی عدم دستیابی ، چھوٹے بچوں میں شرح اموات اور ان کے لئے صحت کے لئے دستیاب سہولتوں کو مدنظر رکھا۔اس سروے کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ غریب اور بھوکے بھارتی بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لگتا یوں ہے کہ بھارتی معیشت کی ترقی کے یہ دعوے ان بچوں کو چھو کر بھی نہیں گزرے۔مودی کے ”خوش حال بھارت” میں بھوکے بچوں کی اتنی بڑی تعداد شاید کچھ لوگوں کے لئے اچنبھے کا باعث ہو کیونکہ بین القوامی سطح پر تو بھارتی خوش حالی کا بھونپو بجایا جا رہا ہے اور اسے سرمایہ کاروں کے لئے ا?ئیڈیل ملک کہا جارہا ہے لیکن زمینی حقائق بہرطور بھارتی معیشت کے جھوٹے دعووں کی قلعی کھول رہے ہیں۔ اگر اس سارے معاملے کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ بھوکے اور غریب بھارتی بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا مسئلہ خاصا پرانا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے جس میں کچھ لوگ ملکی وسائل کے بڑے حصے پر قابض ہیں اور آبادی کی اکثریت کے لئے کچھ بھی نہیں۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق آج کے بھارت میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ”تقسیم ہند” سے کہیں زیادہ ہے۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں