مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ دنوں رونما ہونے والے واقعات کو اگر الگ الگ دیکھا جائے تو یہ یمن، ایران، حوثیوں، سعودی عرب، امریکہ اور اسرائیل سے متعلق مختلف بحران دکھائی دیتے ہیں، لیکن جب ان واقعات کو ایک ہی سلسلے کی کڑیوں کے طور پر دیکھا جائے تو ایک بہت بڑا سوال سامنے آتا ہے: کیا اس پورے بحران کا ایک اہم ہدف سعودی عرب کو مسلسل دباؤ میں رکھنا، اسے جنگ میں الجھانا اور اس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معاشی طاقت کو کمزور کرنا ہے؟یہ سوال محض جذباتی ردعمل کے طور پر نہیں بلکہ خطے میں رونما ہونے والے واقعات کے تسلسل کو سامنے رکھتے ہوئے اٹھایا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب کو بار بار ایسے حالات میں دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے جہاں اس کیلئے جنگ سے دور رہنا بھی مشکل ہو جائے اور جنگ میں داخل ہونا بھی مہنگا ثابت ہو،یہ صورتحال محض اتفاقات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسے دباؤ کا حصہ ہو سکتی ہے جس کا مقصد سعودی عرب کو سیاسی، عسکری اور بالخصوص معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔ یہ ایک تجزیہ ہے، آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ یہ تجزیہ کس حد تک درست ثابت ہوتا ہے۔سعودی عرب نے گزشتہ عرصے میں جس انداز سے یمن کے بحران سے خود کو فاصلے پر رکھنے اور علاقائی کشیدگی کو محدود کرنے کی کوشش کی، اسے بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ریاض کے لیے یہ آسان راستہ نہیں تھا۔ اس کے باوجود سعودی قیادت نے جنگ کے دائرے کو وسیع کرنے کے بجائے سفارتی اور سیاسی راستوں کو ترجیح دینے کی کوشش کی۔ لیکن اب حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی، سعودی سرزمین اور تنصیبات کو لاحق خطرات اور بحیرہ احمر کی بدلتی ہوئی صورتحال نے ریاض کو ایک مرتبہ پھر انتہائی مشکل انتخاب کے سامنے لا کھڑا کیا ہے حالانکہ اس تنائو میں کافی کمی آگئی تھی جب یمن کے سابق صدر عبد ربہ ہادی منصورکے سعودیہ فرار ہونے کے بعد شروع ہوا تھایمن کے سابق صدر عبد ربہ الہادی منصور جو 2014 میں حوثیوں نے جب دار الحکومت صنعاء پر قبضہ کیا تو وہ بھاگ کر عدن چلے گئے اور اس کے بعد جب حوثیوں نے عدن کی طرف پیش قدمی کی تو وہ 2015 ء میں وہ یمن سے نکل کر سعودی عرب فرار ہوگئے جس کے بعد سعودی عرب اور حوثیوں کے مابین تنائو شروع ہوا تھا۔اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے حالیہ صورتحال کے بعد امریکہ سے فوجی تعاون طلب کیا، تاہم واشنگٹن نے یمن کی جنگ میں براہِ راست مداخلت سے گریز کا عندیہ دیا۔ اس صورت حال کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب کو اپنی سلامتی کے دفاع کی ذمہ داری کا سامنا تو ہے، مگر اسے ایک ایسے جنگی محاذ میں دوبارہ داخل ہونے سے بھی بچنا ہے جو برسوں تک اس کے وسائل اور توجہ کو اپنی طرف کھینچ سکتا ہے۔اگر کسی ملک کو کمزور کرنا مقصود ہو تو ضروری نہیں کہ اس کے خلاف براہِ راست جنگ لڑی جائے۔ اسے مسلسل ایسے بحرانوں میں مبتلا رکھنا بھی ایک مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے جن میں اس کے وسائل دفاع پر خرچ ہوں، اس کی سرمایہ کاری متاثر ہو، اس کے تجارتی راستوں کو خطرہ لاحق رہے اور اس کی معیشت کو غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہو۔ سعودی عرب کے معاملے میں یہ پہلو خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس کی عالمی اہمیت صرف اس کی سیاسی حیثیت سے نہیں بلکہ توانائی، سرمایہ کاری، مالیاتی وسائل اور عالمی تجارت میں اس کے کردار سے بھی جڑی ہوئی ہے۔بحیرہ احمر اور باب المندب اسی لیے اس پورے معاملے کا انتہائی اہم حصہ ہیں۔ اگر یہ سمندری گزرگاہیں غیر محفوظ ہوتی ہیں تو اس کے اثرات صرف یمن یا سعودی عرب تک محدود نہیں رہتے۔ جہاز رانی کی لاگت، انشورنس، تیل کی ترسیل اور عالمی سپلائی چین سب متاثر ہو سکتے ہیں۔ سعودی عرب کیلئے مسئلہ اس لیے زیادہ حساس ہے کہ اس کی معیشت اور عالمی اثر و رسوخ کا ایک بنیادی ستون توانائی کی برآمدات ہیں ۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی آرامکو کی تنصیبات اور خمیس مشیط ایٔر بیس کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کے دعوے، اگرچہ آزادانہ طور پر مکمل طور پر ثابت نہیں ہوئے، اسی بڑھتے ہوئے دباؤ کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح سعودی ایف-15 طیارہ مار گرانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے، جس کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔ جنگی حالات میں فریقین کے دعووں کی آزادانہ تصدیق مشکل ہوتی ہے، اس لیے ان اطلاعات کو احتیاط سے دیکھنا ضروری ہے، مگر ان دعووں کا تسلسل خود خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی کرتا ہے۔مکہ مکرمہ کی فضائی حدود کے قریب مبینہ ڈرون کا واقعہ اس بحران کو ایک اور انتہائی حساس سطح پر لے جاتا ہے۔ سعودی اتحاد کے ترجمان کے مطابق حوثیوں کا ایک ڈرون مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کیا گیا، جبکہ حوثی عہدیدار نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی۔ اس معاملے پر پاکستان سمیت مسلم دنیا میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ مکہ مکرمہ پر کسی بھی حملے کو پورے عالم اسلام پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ او آئی سی نے بھی سعودی عرب کے خلاف مبینہ کارروائیوں کی مذمت کی۔مکہ اور مدینہ کا معاملہ محض عسکری یا جغرافیائی مسئلہ نہیں۔ ان مقدس مقامات کے تحفظ کا سوال پورے عالم اسلام کے جذبات سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کو ایسے کسی بھی واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے ایک غیر معمولی توازن برقرار رکھنا پڑتا ہے۔ اگر وہ سخت عسکری ردعمل دیتا ہے تو جنگ پھیلنے کا خطرہ موجود ہے، اور اگر تحمل اختیار کرتا ہے تو اس پر کمزوری کا تاثر پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ یوں سعودی عرب کو ایک ایسے انتخاب میں دھکیلا جاتا ہے جس کے دونوں راستوں کی قیمت ہے۔یہی وجہ ہے کہ عمان میں امریکی سفارت کاروں اور حوثی نمائندوں کے درمیان ہونے والی مبینہ ملاقات بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق عمانی حکومت کی معاونت سے ہونے والی اس ملاقات میں بحیرہ احمر کی کشیدگی، جنگ بندی اور باب المندب میں جہاز رانی کے تحفظ پر بات ہوئی۔ حوثیوں نے مبینہ طور پر امریکی حکام کو یقین دہانی کرائی کہ امریکی بحری جہاز ان کے نشانے پر نہیں ہوں گے، جبکہ سعودی بحری جہازوں کے حوالے سے ایک مختلف مؤقف سامنے آیا۔اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو اس سے ایک دلچسپ تضاد پیدا ہوتا ہے۔ امریکہ ایک طرف سعودی عرب کا اہم سکیورٹی شراکت دار ہے، دوسری طرف وہ حوثیوں کے ساتھ براہِ راست رابطے کے ذریعے اپنے مفادات کے تحفظ کی کوشش بھی کر رہا ہے۔ واشنگٹن کا یمن کی جنگ میں براہِ راست دوبارہ داخل نہ ہونے کا مؤقف اپنی جگہ قابل فہم ہو سکتا ہے، لیکن سعودی عرب کیلئے اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ اسے اپنی سلامتی کے کئی پہلو خود سنبھالنے ہوں گے۔یہیں سے سعودی عرب کے خلاف مبینہ دباؤ کے میرے تجزیے کا دوسرا پہلو سامنے آتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ سعودی عرب کو براہِ راست شکست دینا شاید کسی بھی طاقت کے لیے آسان یا کم قیمت راستہ نہیں۔ لیکن اسے مسلسل جنگی خطرات، بحری عدم تحفظ اور معاشی دباؤ میں رکھنا نسبتاً مختلف حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ اگر سعودی عرب کو بار بار اپنی تیل کی تنصیبات، سرحدوں، فضائی حدود اور سمندری راستوں کے دفاع کیلئے بڑے وسائل خرچ کرنے پڑیں تو اس کی معاشی طاقت کا ایک حصہ ترقی سے نکل کر دفاعی اخراجات کی طرف منتقل ہوگا۔ایران اور چین کے درمیان بڑھتا ہوا رابطہ بھی اسی وسیع تصویر کا حصہ ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ چین کے دوران چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ایران کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کیلئے تعاون جاری رکھنے کی بات کی۔ ساتھ ہی چین نے امریکہ اور ایران دونوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا اور کہا کہ وہ کشیدگی کو یمن اور بحیرہ احمر تک پھیلتا نہیں دیکھنا چاہتا۔دوسری جانب امریکہ نے ایران اور روس کے خلاف پابندیوں کے ایک بڑے پیکیج کو آگے بڑھایا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایک ہی وقت میں مختلف راستے استعمال کر رہا ہے: کہیں سفارتی رابطہ، کہیں اقتصادی دباؤ اور کہیں علاقائی سکیورٹی کے مفادات کا تحفظ۔ یہی پیچیدگی موجودہ مشرقِ وسطیٰ کو سمجھنے میں سب سے بڑا چیلنج ہے۔پاکستان کے لیے بھی اس پورے بحران میں سعودی عرب کا محفوظ اور مستحکم رہنا انتہائی اہم ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا اہم معاشی شراکت دار ہے اور لاکھوں پاکستانی شہری وہاں روزگار سے وابستہ ہیں۔ خلیج میں کسی بڑے جنگی بحران کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں بڑھیں، ترسیلات متاثر ہوں یا خطے میں روزگار کے مواقع کم ہوں تو پاکستان کی معیشت بھی دباؤ میں آ سکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اسی عالمی توانائی کے دباؤ کی اہمیت کو واضح کرتا ہے، اسی لیے پاکستان کا امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے رابطوں میں رہنا ایک اہم سفارتی کوشش ہے۔پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون کو پاکستانی فوج کے ترجمان کی جانب سے دفاعی نوعیت کا قرار دیا جانا بھی اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد خطے میں کسی نئے وسیع جنگی محاذ کا حصہ بننے کے بجائے سلامتی اور استحکام پر زور دینا چاہتا ہے۔ سعودی عرب کا اب تک کا محتاط کردار اسی پس منظر میں قابل توجہ ہے۔ سعودی عرب کو بار بار جنگ میں گھسیٹنے کے کوششیں ہو رہی ہیں مگر ریاض نے ہر موقع پر یہ کوشش کی کہ بحران کو اپنے خلاف ایک طویل جنگ میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔ سعودی عرب کے پاس بھی کئی راستے موجود ہیں۔ علاقائی سفارت کاری، چین اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات، دفاعی صلاحیت میں اضافہ، تیل کی ترسیل کے متبادل راستے اور معیشت کی تنوع کاری اسے بیرونی دباؤ کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنا سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ دوسروں کے طے کردہ جنگی ایجنڈے کا حصہ بننے سے گریز کرے ۔ مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران میں اصل مقابلہ شاید صرف میزائلوں، ڈرونز اور جنگی طیاروں کا نہیں بلکہ صبر، معیشت، سفارت کاری اور تزویراتی فیصلوں کا بھی ہے۔ جو ملک اپنے وسائل کو طویل جنگ سے محفوظ رکھتے ہوئے اپنے معاشی اور سیاسی اہداف جاری رکھ سکے گا، وہ بدلتے ہوئے خطے میں اپنی پوزیشن زیادہ مضبوط رکھنے کی صلاحیت رکھے گا۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں