مشرقِ وسطیٰ پر ایک بار پھر دکھ، درد اور بے یقینی کے بادل چھا گئے ہیں۔ جنگ صرف غزہ، لبنان، یمن یا ایران تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے شعلے اب عرب دنیا کی معیشت، توانائی اور سلامتی کے نظام کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جن عرب ریاستوں نے کئی دہائیوں تک امریکہ کو اپنا محافظ سمجھا، آج جب خطرہ ان کے دروازے تک پہنچ گیا ہے تو وہ کس طرف دیکھ رہی ہیں؟سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات کی بنیاد 1945 میں صدر فرینکلن روزویلٹ اور شاہ عبدالعزیز کی ملاقات سے مضبوط ہوئی۔ اس تعلق کے بنیادی مفادات ابتدا ہی سے واضح تھے: امریکہ کیلئے سعودی تیل اور سعودی عرب کیلئے امریکی سیاسی و دفاعی تعاون۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ تعلق ایک جامع سکیورٹی شراکت داری میں تبدیل ہوگیا۔ امریکی اسلحہ، فوجی تربیت، انٹیلی جنس تعاون اور خلیج میں امریکی فوجی موجودگی نے سعودی سکیورٹی ڈھانچے کو مضبوط کیا، جبکہ سعودی تیل نے عالمی معیشت کیلئے اہم کردار ادا کیا۔ لیکن سات دہائیوں سے زیادہ پرانے اس انتظام کی اصل آزمائش ہمیشہ یہ رہی ہے کہ کیا امریکی سکیورٹی ضمانت اس وقت بھی اتنی ہی موثر ہوگی جب سعودی مفادات اور امریکی مفادات ایک دوسرے سے مختلف سمتوں میں کھڑے ہوں؟1990 میں عراق نے کویت پر حملہ کیا تو سعودی عرب نے اپنی سرزمین پر امریکی فوجی موجودگی قبول کی۔ امریکہ کی قیادت میں ایک وسیع بین الاقوامی اتحاد تشکیل پایا اور 1991 میں آپریشن ڈیزرٹ اسٹورم کے ذریعے عراقی فوج کو کویت سے نکال دیا گیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے تاریخی ریکارڈ کے مطابق سعودی عرب نے امریکی فوجی تعیناتی کی اجازت اس لیے دی کہ جزیرہ عرب کو عراقی خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ پھر 2003 میں عراق پر امریکی حملہ ہوا۔ صدام حسین کی حکومت ختم ہوئی، مگر اس کے بعد عراق میں ریاستی اداروں کے انہدام، فرقہ وارانہ کشمکش اور مسلح گروہوں کے پھیلا نے پورے خطے کے طاقت کے توازن کو تبدیل کردیا۔ ایران کا علاقائی اثر بڑھا اور عراق، شام، لبنان اور یمن میں مختلف مسلح گروہوں کے ذریعے تہہ در تہہ ایک نیا علاقائی مقابلہ سامنے آیا۔ یہاں ایک اہم سبق سامنے آتا ہے: کسی ریاست کو فوجی طور پر شکست دینا اور اس کے بعد ایک مستحکم علاقائی نظام قائم کرنا دو بالکل مختلف کام ہیں۔ عراق کی جنگ نے یہ فرق پوری شدت سے ظاہر کیا۔یمن اس سے بھی زیادہ پیچیدہ مثال ہے۔ 1962 میں یمن میں بادشاہت کیخلاف انقلاب آیا تو مصر کے جمال عبدالناصر نے نئی جمہوریہ کی حمایت میں فوج بھیجی، جبکہ سعودی عرب نے شاہی قوتوں کی حمایت کی۔ یوں یمن ایک داخلی سیاسی تنازع سے بڑھ کر علاقائی طاقتوں کی جنگ کا میدان بن گیا۔ کئی سال کی لڑائی کے بعد مصر کو اپنی فوج واپس بلانا پڑی۔ یمن کے پہاڑی جغرافیے اور مقامی سیاسی ساخت نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ بیرونی طاقت کیلئے وہاں فوجی حل مسلط کرنا آسان نہیں۔یہی تاریخی سبق 2015 کے بعد ایک نئے انداز میں سامنے آیا۔ حوثیوں کے صنعا پر قبضے اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی کمزوری کے بعد سعودی قیادت میں اتحاد نے یمن میں فوجی مداخلت کی۔ مقصد حوثیوں کو پیچھے دھکیلنا اور حکومت کو بحال کرنا تھا، مگر تقریبا ایک دہائی بعد بھی حوثی تحریک ختم نہیں ہوئی۔ آج وہ یمن کے بڑے حصے پر اثر رکھتی ہے اور بحیرہ احمر و باب المندب کے حوالے سے عالمی تجارت پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت حاصل کرچکی ہے۔یہاں سعودی پالیسی کیلئے سب سے اہم سبق یہ ہے کہ جدید ہتھیاروں کی برتری لازما سیاسی فتح میں تبدیل نہیں ہوتی۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے پاس جدید طیارے، میزائل دفاعی نظام اور وسیع فوجی وسائل تھے لیکن یمن کا جغرافیہ، مقامی سیاست اور حوثیوں کی جنگی حکمتِ عملی نے فوجی برتری کو فیصلہ کن سیاسی نتیجے میں تبدیل نہیں ہونے دیا۔ موجودہ بحران نے سعودی عرب کے سامنے ایک اور بنیادی مسئلہ کھڑا کردیا ہے۔ موجودہ یمنی بحران اسی تبدیلی کی ایک نئی مثال ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حوثیوں کیخلاف براہِ راست امریکی فوجی مدد طلب کیے جانے کی اطلاعات اور واشنگٹن کا براہِ راست حملوں سے گریز اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ امریکی سکیورٹی شراکت داری کی عملی حدود موجود ہیں۔ واشنگٹن نے انٹیلی جنس اور ہدف بندی میں تعاون جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی، مگر براہِ راست جنگ میں داخل ہونے سے گریز کیا۔یہی وہ مقام ہے جہاں سعودی عرب کو اپنے طویل مدتی سکیورٹی تصور پر غور کرنا ہوگا۔ امریکہ کے ساتھ دفاعی تعلقات ختم کرنا نہ حقیقت پسندانہ ہے نہ ضروری لیکن کسی ایک بیرونی طاقت کو اپنی سلامتی کا حتمی ضامن سمجھنا بھی خطرے سے خالی نہیں۔ 1991 کی خلیجی جنگ میں امریکہ کی طاقت نے کویت کو آزاد کرایا لیکن 2003 کی عراق جنگ نے یہ بھی دکھایا کہ بیرونی فوجی مداخلت کے غیر متوقع علاقائی نتائج کتنے دور رس ہوسکتے ہیں۔ یمن نے یہ ثابت کیا کہ جدید فضائی طاقت کے باوجود مقامی سیاسی حقیقت کو نظرانداز کرکے مستقل حل پیدا نہیں کیا جا سکتا۔اسی پس منظر میں 2023 کی سعودی ایران مفاہمت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ چین نے حالیہ بحران میں سعودی درخواست کے بعد ایران سے حوثیوں کو محدود کرنے کیلئے رابطہ بھی کیا ہے جو اس کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔عرب دنیا کی تاریخ میں ایک اور مسئلہ بھی بار بار سامنے آتا ہے: علاقائی ممالک اکثر ایک دوسرے کو خطرہ سمجھ کر بیرونی طاقتوں پر زیادہ انحصار کرنے لگتے ہیں۔ نتیجتاً بیرونی طاقت کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے، مگر علاقائی تعاون کمزور رہتا ہے۔ اس لیے آج سعودی عرب کیلئے اصل سوال یہ نہیں کہ امریکہ دوست ہے یا دشمن۔ خارجہ پالیسی میں ایسے مستقل اخلاقی رشتوں کے بجائے قومی مفادات زیادہ اہم ہوتے ہیں ۔ پاکستان اور سعودی عرب کا باہمی دفاعی معاہدہ بھی اسی وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے لیکن کسی بھی دفاعی معاہدے کو ہر مسئلے کا فوجی حل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یمن کا تجربہ بتاتا ہے کہ دفاعی طاقت سیاسی حکمتِ عملی کا متبادل نہیں بن سکتی۔ اسی طرح ایران کے ساتھ محاذ آرائی کو مستقل پالیسی بنا دینا بھی سعودی عرب کیلئے طویل مدت میں مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ اس لیے عرب دنیا کیلئے آج سب سے اہم ضرورت مزید اسلحہ خریدنا نہیں بلکہ اپنی اجتماعی تذذیراتی سوچ کو تبدیل کرنا ہے۔ محفوظ توانائی کے راستے، مضبوط علاقائی سفارتکاری، اقتصادی تنوع، مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی اور ایران سمیت تمام اہم ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل مذاکرات ایک نئے سکیورٹی نظام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔تاریخ کا سبق یہ ہے کہ بڑی طاقتیں ہمیشہ اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔ عرب دنیا کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ آئندہ بھی دوسروں کی جنگوں کے نتائج برداشت کرے گی یا اپنے خطے کیلئے ایسا سکیورٹی نظام تشکیل دینے کی کوشش کریگی جس میں جنگ آخری راستہ ہو، پہلا نہیں۔ بیرونی طاقتیں آتی جاتی رہیں گی، اتحاد بدلتے رہیں گے، مگر خطہ وہیں رہے گا۔ اسی لیے مشرقِ وسطی کا مستقبل شاید اس بات پر منحصر ہے کہ اس کے ممالک کب یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی سلامتی دوسروں کے وعدوں سے زیادہ اپنے مشترکہ مفادات میں تلاش کرنا ہوگی۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں