بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Wednesday, 23 September 2026 | پاکستان: 13 ر بیع الثانی 1448

افغانستان دنیا جس مسئلے کو بھول رہی ہے پاکستان جسے بھگت رہا ہے

Wednesday, 23 September, 2026

دنیا افغانستان کو شاید ایک ختم شدہ جنگ کی کہانی سمجھنے لگی ہے۔ کابل میں حکومت تبدیل ہو چکی غیر ملکی افواج واپس جا چکی ہیں اور عالمی طاقتوں کی توجہ دنیا کے دوسرے بحرانوں کی طرف منتقل ہو گئی ہے۔ مگر پاکستان کے لیے افغانستان کوئی پرانا باب نہیں، بلکہ روز لکھی جانے والی ایک نئی سطر ہے۔ کابل کی سیاسی تبدیلی، سرحدی کشیدگی، دہشت گردی اور مہاجرین کا مسئلہ آج بھی پاکستان کی داخلی سلامتی، معیشت اور خارجہ پالیسی پر براہ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔ افغانستان دنیا کے لیے شاید ایک بھولی ہوئی خبر ہو، مگر پاکستان کے لیے یہ خبر نہیں، ایک مسلسل حقیقت ہے۔2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کو امید تھی کہ نئی افغان حکومت کے ساتھ تعلقات ماضی کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوں گے۔ تاریخ، مذہب، جغرافیہ، ثقافتی قربت اور قبائلی روابط دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں۔ لیکن چند برسوں میں امید اور حقیقت کے درمیان فاصلہ بڑھتا گیا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ کابل اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔ یوں دونوں ملکوں کے درمیان مسئلہ صرف سرحد کا نہیں رہا اعتماد کا فقدان ہے۔سرحدیں نقشے پر کھینچی ہوئی لکیریں ہوتی ہیں، مگر جب اعتماد ختم ہو جائے تو یہی لکیر خندق بن جاتی ہے۔18 ستمبر 2026 کو کوہاٹ میں پولیس کمپاؤنڈ پر ہونے والے خودکش حملے اور فائرنگ نے ایک بار پھر اس بحران کی شدت نمایاں کی۔ ایسے واقعات پاکستان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ اپنی مغربی سرحد پر مستقل سکیورٹی خطرے کے ساتھ ملک اپنی معیشت، سرمایہ کاری اور ترقی کا سفر کب تک جاری رکھ سکتا ہے۔ ایک طرف معاشی دباؤ، دوسری طرف داخلی دہشت گردی اور تیسری طرف خطے میں بدلتی طاقتوں کی سیاست، یہ سب مل کر افغانستان کو پاکستان کے لیے محض خارجہ پالیسی کا موضوع نہیں رہنے دیتے بلکہ قومی سلامتی کا مستقل سوال بنا دیتے ہیں۔کیونکہ جس ملک کی سرحد پر امن نہ ہو، اس کی معیشت میں بھی مکمل سکون نہیں آ سکتا۔لیکن افغانستان صرف بندوق اور بارود کا مسئلہ بھی نہیں۔ یہ تجارت کا راستہ، وسطی ایشیا تک رسائی کا دروازہ اور پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کا ایک اہم حصہ ہے۔ افغانستان سمندر سے محروم ملک ہے، جبکہ پاکستان کی بندرگاہیں اسے عالمی تجارت سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسی طرح پاکستان افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ گویا دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے مسئلہ بھی ہیں اور موقع بھی۔بدقسمتی یہ ہے کہ جب سیاست سرحد تک پہنچتی ہے تو تجارت بھی کانپنے لگتی ہے۔ ایک سرحدی گزرگاہ بند ہوتی ہے تو صرف ٹرک نہیں رکتے مزدور کی دیہاڑی، تاجر کا سرمایہ، ڈرائیور کا روزگار اور صارف کی قیمت بھی متاثر ہوتی ہے۔ سرحد امن کے ساتھ ہو تو پل بنتی ہے، کشیدگی کے ساتھ ہو تو دیوار۔سرحد بند کرنے سے صرف راستے بند نہیں ہوتے روزگار کے دروازے بھی بند ہوتے ہیں۔افغان مہاجرین اس پوری داستان کا انسانی چہرہ ہیں۔ پاکستان نے کئی دہائیوں تک لاکھوں افغان شہریوں کی میزبانی کی۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین، UNHCR، کے مطابق 22 اگست 2026 تک اس سال افغانستان واپس جانے والوں کی مجموعی تعداد 300٫1,153 تھی، جن میں پاکستان سے واپس جانے والے تقریباً,200 686 افراد شامل تھے۔یہ صرف اعداد نہیں، انسان ہیں۔ ایسے خاندان بھی ہیں جنہوں نے پاکستان میں اپنی جوانی گزاری، کاروبار کیے، بچوں کو اسکول بھیجا اور کئی دہائیوں تک اسی سرزمین کو اپنا گھر سمجھا۔ دوسری طرف پاکستان بھی ایک ترقی پذیر ملک ہے جسے محدود وسائل میں سکیورٹی، روزگار، تعلیم، صحت اور معیشت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اس لیے مہاجرین کے حوالے سے پاکستان کی سلامتی اور معاشی ضروریات اپنی جگہ اہم ہیں ۔ افغانستان میں روزگار کے محدود مواقع، بنیادی سہولیات کی کمی، سیاسی تنہائی اور انسانی بحران بدستور موجود ہیں۔ اگر واپس جانے والے خاندان افغانستان میں معاشی اور سماجی تحفظ حاصل نہ کر سکیں تو غربت، بے روزگاری اور غیر یقینی ایک بار پھر پورے خطے کو متاثر کر سکتی ہے۔ افغانستان کو نقشے سے نظرانداز کیا جا سکتا ہے جغرافیے سے نہیں۔پاکستان کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان کے بارے میں پالیسی صرف ردعمل پر مبنی رہے گی یا ایک مستقل اور جامع حکمت عملی تشکیل دی جائے گی ایک مؤثر حکمت عملی میں کم از کم چار بنیادی ستون ہونے چاہئیں: سرحدی سکیورٹی، دہشت گردی کے خلاف قابلِ تصدیق تعاون، منظم مہاجر پالیسی، اور قانونی تجارت و علاقائی روابط کا فروغ۔خارجہ پالیسی جذبات سے نہیں، قومی مفادات سے چلتی ہے؛ لیکن مفادات کے تحفظ کے لیے سفارت کاری کا دروازہ کبھی مکمل طور پر بند نہیں ہوسکتا۔افغان حکومت کے لیے بھی یہ حقیقت نظرانداز کرنا آسان نہیں کہ پاکستان کے ساتھ مسلسل کشیدگی افغانستان کے اپنے معاشی مفادات کو متاثر کر سکتی ہے۔ افغانستان کو تجارت، روزگار، راہداریوں اور علاقائی روابط کی ضرورت ہے، جبکہ پاکستان کو اپنی مغربی سرحد پر امن اور وسطی ایشیا تک بہتر رسائی درکار ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کو جغرافیے سے خارج نہیں کر سکتے۔جنگ انہیں ایک دوسرے سے دور کر سکتی ہے، مگر نقشہ انہیں پھر بھی ہمسایہ رکھے گا۔پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں علاقائی طاقتوں کا کردار بھی اہم ہے۔ افغانستان کو تمام علاقائی ممالک کے ساتھ اپنے مفادات کے مطابق تعلقات رکھنے کا حق حاصل ہے لیکن پاکستان کے لیے یہ امر اہم ہے کہ اس کی مغربی سرحد بد امنی کا میدان نہ بنے۔ پاکستان کی تشویش یہ بھی ہے کہ طالبان حکومت اپنی تازہ دوستیوں کے چکر میں پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھے ۔پاکستان یہ بھی سمجھتا ہے کہ کئی دہائیوں تک افغان شہریوں کو پناہ، روزگار اور سماجی تحفظ فراہم کرنے میں اس نے اہم کردار ادا کیا۔ تو کم از کم ان چیزوں کا احساس افغان حکومت کو ہونا چاہئے ۔ افغانستان پاکستان کے لیے ایسا مسئلہ ہے۔جسے نہ محض طاقت سے حل کیا جا سکتا ہے، نہ خاموشی سے۔ پاکستان کو ایسی پالیسی درکار ہے جس میں امن کے لیے سفارت کاری، تجارت کے لیے محفوظ راستہ، سرحد کے لیے واضح اصول اور دہشت گردی کے خلاف ناقابلِ ابہام مؤقف موجود ہو۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ ایسا تعلق کیسے قائم کرے جس میں سرحد خطرے کی لکیر کے بجائے تجارت کی راہ بنے مہاجر محض ایک عدد نہیں بلکہ انسانی ذمہ داری سمجھا جائے، اور دہشت گردی الزام تراشی کے بجائے قابلِ تصدیق تعاون کے ذریعے ختم ہونے والا خطرہ بنے۔افغانستان کے ساتھ امن پاکستان کی کمزوری نہیں اس کی ضرورت ہے۔ اور کبھی کبھی مضبوط ترین سرحد وہ نہیں ہوتی جس پر سب سے زیادہ باڑ لگی ہو بلکہ وہ ہوتی ہے جس کے دونوں طرف امن ہو۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *