پٹرول کی قیمت بڑھنے کا اثر صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا معاشی نظام اس کی زد میں آتا ہے۔ موٹر سائیکل پر دفتر جانے والا ملازم ہو، رکشہ چلانیوالا محنت کش، چھوٹی گاڑی میں بچوں کو اسکول پہنچانے والے والدین یا روزانہ سفر کرنے والا عام شہری، ایندھن کا اضافہ ہر ایک کے گھریلو بجٹ کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حالات میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پٹرول پر خصوصی ریلیف اسکیم کا اعلان ایک اہم حکومتی اقدام ہے جس پر سنجیدہ گفتگو ضروری ہے۔ حکومت کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث عام شہری پر پڑنے والا اضافی بوجھ کم کرنے کیلئے یہ اسکیم متعارف کرائی گئی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ محدود وسائل کے باوجود ان طبقات کو براہ راست ریلیف دیا جائے جن کی روزمرہ زندگی میں موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی یا چھوٹی گاڑی بنیادی ضرورت ہے۔اس اسکیم کے تحت دو اور تین پہیوں والی سواریوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے اہل صارفین کو پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جا رہا ہے۔ ابتدائی طریقہ کار کے مطابق موٹر سائیکل، رکشہ اور دیگر دو و تین پہیوں والی سواریوں کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک جبکہ 800 سی سی تک گاڑیوں کے لیے ماہانہ 30 لیٹر تک ریلیف کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ بعد ازاں عوامی سہولت اور زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے اس میں تبدیلیاں کی گئیں۔19 ستمبر کو وزیراعظم نے ہدایت کی کہ موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ استعمال کرنے والے افراد جو ایک وقت میں پانچ لیٹر سے کم پٹرول ڈلواتے ہیں، انہیں ایک ہی ٹوکن کے ذریعے 500 روپے کا ہفتہ وار ریلیف دیا جائے۔ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے دس دن کیلئے دس لیٹر کا ریلیف برقرار رکھا گیا۔ یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ عام موٹر سائیکل سوار ہمیشہ پانچ یا دس لیٹر پٹرول ایک ساتھ نہیں خریدتا۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور، کم آمدن والا ملازم یا محدود آمدن والا شہری اپنی ضرورت اور جیب کے مطابق پٹرول ڈلواتا ہے۔ جب حکومت نے فی ٹوکن 500 روپے کا ہفتہ وار ریلیف دینے کا فیصلہ کیا تو اس سے اسکیم کو روزمرہ استعمال کے قریب لانے کی کوشش نظر آتی ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کیلئے ماہانہ چار ٹوکن حاصل کیے جا سکتے ہیں اور ہر ٹوکن 500 روپے کے ریلیف پر مشتمل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اہل صارف کو ماہانہ مجموعی طور پر 2,000 روپے تک ریلیف مل سکتا ہے۔ حکومت کا ایک قابل ذکر فیصلہ رجسٹریشن کے ایس ایم ایس کو مفت کرنا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ہر شہری کے پاس اسمارٹ فون یا انٹرنیٹ لازمی موجود نہیں، وہاں صرف ایپ یا آن لائن پورٹل پر انحصار کے بجائے عام موبائل ایس ایم ایس کے ذریعے رجسٹریشن کا راستہ اختیار کرنا عملی اہمیت رکھتا ہے ۔ سرکاری معلومات کے مطابق رجسٹریشن کیلئے 9771 پر مخصوص معلومات ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجی جا سکتی ہیں، جبکہ فیول ٹوکن کے حصول کیلئے بھی ایس ایم ایس کا نظام استعمال ہو رہا ہے۔ شکایات کیلئے بھی 9771 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ یہاں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کا کردار بھی قابل ذکر ہے۔ پٹرول ریلیف اسکیم کے حوالے سے اہم پریس بریفنگز میں وہ وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ عوام کو حکومتی فیصلوں سے آگاہ کرتے رہے ہیں۔ 14 ستمبر کی بریفنگ میں عطا اللہ تارڑ نے حکومتی اقدامات اور ایندھن کے بحران سے متعلق امور پر بات کی۔ اطلاعات کی وزارت کا بنیادی کام عوام تک حکومتی پالیسی کی وضاحت پہنچانا ہے۔ موجودہ اسکیم جیسے معاملے میں یہ ذمہ داری مزید اہم ہو جاتی ہے کیونکہ کسی بھی ریلیف پیکیج کی کامیابی صرف اعلان سے نہیں بلکہ اس سے جڑی ہوتی ہے کہ عام شہری کو معلوم ہو کہ وہ فائدہ کیسے اٹھا سکتا ہے۔ کون اہل ہے، رجسٹریشن کیسے ہوگی، ٹوکن کیسے ملے گا، پٹرول پمپ پر کیا طریقہ کار ہوگا اور شکایت کہاں کرنی ہے، یہ معلومات آسان زبان میں پہنچانا ضروری ہے۔ اس پہلو سے عطا اللہ تارڑ اور متعلقہ وزارتوں کی مسلسل بریفنگز اسکیم کے عملی نفاذ کا حصہ ہیں۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کیلئے ڈیجیٹل نظام وضع کرنا بھی اہم پیشرفت ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی سے منظور شدہ منصوبے کے مطابق فیول پاس سسٹم کے ذریعے ریلیف کی ڈیجیٹل مینجمنٹ اور شفاف فراہمی کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد ریلیف کو اہل صارفین تک مثر انداز میں پہنچانا اور عملدرآمد میں شفافیت اور جواب دہی کو مضبوط بنانا ہے۔اعداد و شمار اسکیم کے ابتدائی عوامی ردعمل کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ بڑی تعداد میں شہری اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت نے رجسٹریشن اور شکایات کیلئے 24 گھنٹے کا کنٹرول روم قائم کرنے کا بھی بتایا۔ اس اسکیم کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اسے صرف اسلام آباد تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ ملک بھر میں نافذ کیا گیا ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت مختلف حصوں میں اس پر عملدرآمد آگے بڑھایا گیا۔ حکومت نے ایسے پٹرول اسٹیشنز کو بھی نظام میں شامل کرنے کی ہدایت کی جہاں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں۔ اس مقصد کیلئے ایس ایم ایس کے ذریعے ٹوکن ریڈیم کرنے کی منظوری دی گئی ہے، جو ان علاقوں کیلئے اہم ہے جہاں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مکمل دستیاب نہیں۔ کسی بھی حکومتی اسکیم کو صرف اعلان کی بنیاد پر کامیاب نہیں کہا جا سکتا۔ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب شہری پٹرول پمپ پر پہنچتا ہے۔ اگر اسے ریلیف مل جائے، غیر ضروری کاغذی کارروائی نہ ہو، ٹوکن کا نظام آسان ہو اور شکایت پر فوری کارروائی ہو تو عوام کو حقیقی سہولت محسوس ہوتی ہے ۔ اسی لیے وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ عوام کو باعزت اور بلا رکاوٹ ریلیف فراہم کیا جائے اور اسکیم کا دائرہ کار بڑھایا جائے ۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اس وقت ایندھن کی عالمی قیمتوں اور درآمدی ضروریات جیسے عوامل سے متاثر ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں پٹرول کی مکمل قیمت سب کیلئے مستقل طور پر کم رکھنا ایک بڑا مالی چیلنج ہے۔ عوام کیلئے اصل سوال یہ ہے کہ یہ ریلیف گھریلو بجٹ میں کتنا فرق ڈالے گا ۔ایک موٹر سائیکل سوار کیلئے ماہانہ 2,000 روپے معمولی رقم نہیں۔ محدود آمدن پر گھر چلانے والے کیلئے یہ رقم بجلی کے بل، بچوں کی فیس یا راشن میں استعمال ہو سکتی ہے۔ اسی طرح چھوٹی گاڑی والے کیلئے ماہانہ 3,000 روپے تک کا ممکنہ ریلیف بھی اہمیت رکھتا ہے، تاہم اس کی افادیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سہولت مسلسل اور بلا رکاوٹ ملتی رہے۔ یہاں میڈیا اور حکومتی اطلاعاتی نظام کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ صرف پریس کانفرنس کافی نہیں، ہر ضلع، تحصیل اور پٹرول پمپ کی سطح پر عوام کو واضح معلومات ملنی چاہئیں۔ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ کون اہل ہے، کون سی گاڑی شامل ہے، کون سا شناختی کارڈ اور گاڑی کا ریکارڈ درکار ہے، ایس ایم ایس کیسے بھیجنا ہے اور شکایت کہاں درج کرانی ہے۔ عوامی ریلیف کا اصل پیمانہ سرکاری اعلانات نہیں بلکہ عام شہری کا تجربہ ہوتا ہے۔ اگر موٹر سائیکل سوار کو واقعی رعایت ملتی ہے، رکشہ ڈرائیور کا خرچ کم ہوتا ہے اور یہ عمل عزت اور شفافیت کے ساتھ مکمل ہوتا ہے تو یہی اس پالیسی کا عملی نتیجہ ہوگا۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں