بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Thursday, 24 September 2026 | پاکستان: 14 ر بیع الثانی 1448

قیام پاکستان،مسلمانان ہندکی لازوال قربانیوں کا نتیجہ

Thursday, 24 September, 2026

ناموردانشور، کالم نگار اور صحافی محترم آصف بھلی نے اپنے مضمون “کیا پاکستان چرچل نے بنایا تھا؟” میں اس تاریخی نظریے اور بحث کا احاطہ کیا ہے جس میں بعض مغربی اور دیسی مورخین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان کا قیام برطانوی وزیر اعظم سر ونسٹن چرچل کی “عظیم تر حکمتِ عملی” کا نتیجہ تھا۔ آصف بھلی اپنے کالم میں اس بحث کا جائزہ لیتے ہیں کہ چرچل برصغیر کی تقسیم اور ایک مسلم اکثریتی ملک (پاکستان) کے قیام کے حامی کیوں تھے۔ چرچل کا خیال تھا کہ ایک مسلم ریاست (پاکستان) سوویت یونین کے اشتراکی نظریات کے خلاف ایک مضبوط “بفر سٹیٹ” (لوہے کی دیوار) ثابت ہو سکتی ہے۔آصف بھلی اپنے مضمون میں اس تاثر کو یکسر مسترد کرتے ہیں کہ پاکستان کسی غیر ملکی سازش یا چرچل کی مہربانی سے بنا۔یہ بات واضح ہے کہ پاکستان کسی برطانوی وزیر اعظم کے قلم کی جنبش سے نہیں، بلکہ برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کی طویل سیاسی، فکری اور لازوال قربانیوں کا نتیجہ تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی بے لچک اور اصول پسند قیادت نے انگریزوں اور کانگریس دونوں کو مسلم قوم کے مطالبے کے سامنے جھکنے پر مجبور کیا۔ پاکستان کے قیام کو چرچل یا انگریزوں کی “پلاننگ” قرار دینا تحریکِ پاکستان کی تاریخ کو مسخ کرنے اور مسلم رہنماؤں کی محنت کو کم تر دکھانے کی ایک فکری کوشش ہے۔ پاکستان خالصتاً دو قومی نظریے اور مسلمانوں کی جمہوری جدوجہد کا ثمر ہے۔23 مارچ 1940ء کو منظور ہونے والی قرارداد لاہور برطانوی تسلط اور ہندو اکثریت کے منہ پر طمانچہ تھا جس کے نشان وہ آج بھی اپنے ناکام ارادوں کے چہروں پر محسوس کرتے ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں نے خود کو ایک قوم منوالیا تھا اور انگریز پرست ہندوؤں کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا تھا کہ یہ قرارداد لاہور نہیں بلکہ قرارداد پاکستان ہے۔ ہندو اکثریت اور برطانوی سامراج یہ ماننے پرمجبور ہو گئے تھے کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہے اور مسلم لیگ ہی ان کی نمائندہ جماعت ہے۔ علامہ اقبال نے خطوط کے ذریعے قائد اعظم محمد علی جناح کو برصغیر کے مسلمانوں کی قیادت سنبھالنے اور مسلم لیگ کو منظم کرنے پر زور دیا۔ علامہ اقبال نے 1936ء سے 1937ء کے دوران قائد اعظم کو کئی اہم خطوط لکھے۔جن میں اقبال نے واضح کیا کہ اس کڑے وقت میں صرف وہی ایک ایسی شخصیت ہیں جو مسلمانوں کو منتشر حالت سے نکال کر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر سکتے ہیں۔اقبال کی انہی فکری کاوشوں اور خطوط کے نتیجے میں قائد اعظم نے برصغیر کے مسلمانوں کی موثر سیاسی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا اور مسلم لیگ کو عوام کی نمائندہ جماعت بنایا۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ تحریک پاکستان میں نوجوانوں بالخصوص طلبہ نے قائد اعظم کی قیادت میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ۔ قائداعظم کو نوجوانوں سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ 1945ـ46 ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کی کامیابی نے قیام پاکستان کی راہ مزید ہموار کر دی اور ان انتخابات میں مسلم لیگی امیدواروں کی کامیابی کیلئے طالبعلموں بالخصوص اسلامیہ کالج لاہور کے طلبہ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ راقم الحروف نے بھی تحریک پاکستان اور قیام پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ قائداعظم کے شانہ بشانہ مسلم کاز کیلئے روز و شب کام کیا۔ نوجوانی کے دور میں 1946 کے الیکشن میں مسلم لیگی امیدواروں کی مہم چلائی۔ گھر گھر جا کر ووٹر ز کو پولنگ اسٹیشن تک پہنچایا۔ اس طرح لیگی امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنایا۔ اسی طرح قیام پاکستان کے بعد دنیا کی سب سے بڑی ہجرت اور بعد میں مہاجرین کی بحالی میں بھی کردار ادا کیا۔ 23 مارچ کو لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرار داد منظور کی گئی تھی جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا وطن کے حصول کیلئے تحریک شروع کی تھی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔مارچ 1940 میں لاہور میں مسلم لیگ کا جلسہ ہوا۔ جس میں برعظیم کے مختلف علاقوں سے ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی۔ اس جلسے میں قراردادلاہور منظور کی گئی جس کو بعد میں قرارداد پاکستان کا نام دیا گیا۔ میںنے اپنے دادا چودھری دین محمدمرحوم کے ساتھ منٹو پارک لاہور میں ، 22,23 مارچ کو منعقد ہونے والے تاریخی اجتماع میں شرکت کی۔ جلسہ گاہ میں رضاکار تعینات تھے۔ مجھے صدر آل انڈیا مسلم لیگ قائد اعظم محمد علی جناح اور لیگ کے دوسرے رہنماؤں کو دیکھنے اور ان کو سننے کا موقع ملا۔ تحریک پاکستان کے کارکن کی حیثیت سے راقم الحروف کہنا چاہتا ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ نے کل 86مسلم نشستوں میں سے 79نشستیں جیت لیں اس طرح پنجاب میںمسلم لیگ واحد اکثریتی جماعت تھی لیکن انگریز گورنر نے پنجاب مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی کے رہنما نواب افتخار حسین ممدوٹ کو حکومت سازی کی دعوت نہ دی کیونکہ وہ انگریز وائسرائے کے زیر اثر تھے۔ متحدہ قومیت کے علمبرداراور قائد اعظم کے بقول کانگریسی شو بوائے مولانا ابوالکلام آزاد دہلی سے بذریعہ جہاز لاہور آئے اور انہوں نے کانگریس، اکالی دل اور یونینسٹ پارٹی سے ملاقاتیں کیں۔ پھر یونینسٹ پارٹی نے کانگریس اور اکالی دل کے ساتھ مل کر خضر حیات ٹوانہ کی قیادت میں حکومت بنائی۔ اس فیصلے کے خلاف پنجاب بھر میں بالعموم اور ہندوستان کے بڑے سیاسی مرکز امرتسر میں زبردست مظاہرے شروع ہوگئے اور ٹوانہ کو ایک ماہ بعد ہی مستعفی ہونا پڑا۔ راقم الحروف سینکڑوں مسلم لیگی کارکنوں اور رہنماؤں بشمول شیخ صادق حسن، مولوی سراج الدین پال ایڈووکیٹ، خواجہ محمد رفیق ، ذکی الدین پال، تقی الدین پال اور عزالدین پال جو ان مظاہروں کی قیادت کرتے تھے ، کے ساتھ مظاہروں میں شریک ہوتا تھا۔ مجھے بخوبی یاد ہے کہ جب مسلم نوجوان خضر حیات ٹوانہ کے خلا ف مظاہرے کرتے تو ہندو سکھ مظاہرین پر پتھراؤ کرتے تھے۔ مغربی پنجاب میں تعینات لیفٹیننٹ کرنل محمد موسیٰ نے پنجاب کے مسلمانوں کے قتل عام کو روکنے کیلئے بلوچ رجمنٹ امرتسر بلوائی اور مسلم فوجیوں کی کارروائی سے کثیر تعداد میں سکھ مارے گئے۔ بلوچ رجمنٹ کے کمانڈر نے اعلان کیا کہ امرتسر اور گردونواح کے مسلمان ریلوے سٹیشن پر جمع ہوجائیں جنہیں یہاں سے فوج کی نگرانی میں لاہور منتقل کیا جائیگا۔ 13 اگست کو امرتسر سے پہلی ٹرین لاہور روانہ ہوئی جو والٹن (لاہور) میں آ کر رکی۔ اسی لئے مسلم لیگی حکومت نے والٹن میں باب پاکستان بنانے کا فیصلہ کیا جس کا تین دفعہ سنگ بنیاد رکھا جا چکا ہے مگر تاحال والٹن میں باب پاکستان تعمیر نہ ہوسکا۔ راقم الحروف ان ہزاروں مسلمانوں میں شامل تھا جو اس وقت امرتسر ریلوے اسٹیشن پر موجود تھے۔ 12 بجے سے چند منٹ پہلے بتایا گیا کہ چند منٹ بعد نیا اعلان ہوگا۔ 12 بجے یہ اعلان کیا گیا کہ یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس، ریڈیو پاکستان ہے ۔ انگریزی میں یہ اعلان ظہور آذر اور اردو میں مصطفی علی ہمدانی نے کیا۔ اس کے بعد مصطفی علی ہمدانی کی زبانی خبریں سنیں۔ جب یہ اعلان ہوا تو امرتسر ریلوے سٹیشن اور شہر بھر میں پاکستان زندہ باد کے پرجوش نعرے لگائے گئے اور پھر تقریباً ایک گھنٹہ بعد امرتسر سے مہاجرین کو لے کر دوسری ٹرین پاکستان روانہ ہوئی۔ میں بھی اس ٹرین میں سوار تھا۔ تقریباً تین گھنٹے کے سفر کے بعد ٹرین ہربنس پورہ پہنچی تو اس کا رخ منٹگمری کی طرف موڑ دیا گیا۔ کیونکہ اس وقت تک لاہور انتظامیہ پہلی ٹرین کے مسافروں کے قیام و طعام میں مصروف تھی اور اس کے پاس مزید مہاجرین کو ٹھہرانے کیلئے کوئی انتظام نہ تھا۔ نماز فجر سے ایک گھنٹہ قبل یہ ٹرین منٹگمری پہنچی ۔ مہاجرین کو منٹگمری کے سکولوں اور کالجوں میں ٹھہرایا گیا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *