بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 21.9°C
Thursday, 24 September 2026 | پاکستان: 13 ر بیع الثانی 1448

جیسے اب ہے تیری محفل،کبھی ایسی تو نہ تھی

Thursday, 24 September, 2026

عالم اسلام کی اب جو تازہ ترین صورتحال ہے ماضی میں اس کی مثال ملتی تو ہے لیکن اتنی سنگین نہیں جتنی آج ہے ۔شدید خطروں میں گھری امت مسلمہ کے باہر نکلنے کا راستہ ہی نظر نہیں آ رہا ۔ سب بکھرے بکھرے پڑے ہوے ہیں ، اپنی اپنی سلامتی و تحفظ کی خاطر ایک طرف کوئی مکہ معاھدہ کر رہا ہے تو دوسری طرف اسی ملک کی اسرائیل امریکہ سے مدد مانگے جانے کی خبریں بھی گردش میں ہیں۔تازہ ترین صورتحال میں اسرائیل پاکستان کو یمن میں گھسیٹنے میں کامیاب نظر آ رہا ہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہوثی ڈرامہ بازی کا اصل مقصد پاکستان کو گھیرنے کا ہی ہے کیونکہ اسرائیل اگر دنیا میں کسی ملک سے خوفزدہ ہے تو وہ پاکستان ہی ہے ، اس سلسلے میں اب افغانستان بھی اسرائیل کے ساتھ ان بورڈ ہے جبکہ بھارت تو ہے ہی پاکستان کا ازلی دشمن ۔ہمیں تو لگتا ہے کہ جیسے محمد بن سلمان کو امریکہ کی طرف سے خطرہ کا احساس اسی دن ہو گیا تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ترنگ میں آ کر شیخی بگاڑتے ہوئے محمد بن سلمان کو مخاطب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں لتاڑا اور کہا کہ ، Aye Price , you are a King bacause of us تو تب محمد بن سلمان کو خیال آیا کہ ، بس اب امریکہ سے جان چھڑانی ہی چاہئے ۔ٹرمپ نے بھی ایم بی ایس پر یہ محکمانہ فقرہ یوں ہی مذاق میں نہیں کسا تھا بلکہ اس کا پس منظر تھا ، جب سعودی شاہی محل میں ٹرمپ کے پہلے دور حکومت کے دوران اقتدار کی شاہی خاندان میں رسی کشی شروع ہوئی تو ٹرمپ نے محمد بن سلمان کو اقتدار میں لانے کیلئے واقعی مدد فراہم کی تھی ،لیکن چونکہ محمد بن سلمان بھی بڑے آنا پرست اور خودار حکمران ثابت ہوئے اس لئے تب ہی سے انہوں نے منصوبہ بندی شروع کی اور بات مکہ معاھدے تک آ پہنچی ۔اب پاکستان ترکی اور سعودیہ دفاعی نوعیت کے ہی نہیں بلکہ تجارتی اور دیگر شعبوں میں بھی ایک دوسرے بندھ چکے ہیں ۔دوسری طرف اسرائیل پر نظریں مرکوز کی جائیں تو اس وقت عالمی و عسکری سیاست و قوت اسی کے تابع دکھائی دے رہی ہے اور وہ امریکہ کے ساتھ ساتھ اب حوثیوں کو آگے لگا کر سارا کھیل ، کھیل رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ پہلے ایران کے خلاف جنگ اور اب ہوثیوں کی پشت پناہی ایک بہانہ اور اصل نشانہ پاکستان ہے ۔ اب اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے پاس سعودی عرب کی مدد کرتے ہوئے یمن جنگ میں کودنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تاہم اسرائیل امریکہ ایران جنگ کے خاتمے میں اور عالمی امن کی بحالی میں پاکستان کی سفارتی حکمت عملی اور اس کے نتیجے میں پاکستان کی موجودہ عالمی اہمیت و حیثیت کو زہن میں رکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہیں کہ پاکستان اس تازہ ترین نازک مرحلے سے بھی سرخرو ہو کر نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔یہ نہیں کہ پاکستان کو یمن میں گھسیٹے جانے کی سازش کا ادراک نہیں ، ہے باکل ہے اس لئے کوئی نہ کائی راستہ اختیار کر ہی لے گا اپنی بقا سلامتی کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے انشاللہ ۔اسرائیل پاکستان کو یمن ہی میں گھیسٹ کر کمزور نہیں کرنا چاہتا ہے بلکہ افغانستان سمیت ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے ذریعے بھی نقصانات سے دوچار کر کہ کمزور کرنا چاہتا ہے ، اس کی بھی تازہ ترین مثال دو روز پہلے کوہاٹ میں کئے جانے والے اندوہناک خودکش دھماکے جس میں پندرہ کے قریب سیکیورٹی اھلکار شہید اور درجنوں زخمی ہوئے اور جس میں چھ دہشت گرد بھی جہنم واصل کئے گئے ، کی دی جاسکتی ہے ۔ہمیں یہاں یہ کہنے میں بھی زرا باک محسوس نہیں ہو رہی کہ کوہاٹ خودکش اور اس کے علاہ آج تک جتنے بھی دہشتگردانہ کارروائیاں خودکش دھماکے پاکستان میں ہوئے اس میں اسرائیل راہ اور افغان انٹیلی جنس کے زریعے براہ راست ملوث ہے بلکہ یہ کہنا بھی غیر مناسب نہیں ہوگا کہ پاکستان کیخلاف سازشوں میں کسی حد تک ایران بھی حصہ دار رہا ہے ،اور اب ہوثیوں کے زریعے اپنی سازشوں کو دوام دینے میں مصروف عمل ہے ۔ہم تو یہ کہنے میں بھی حرج محسوس نہیں کر رہے کہ ایران کی ایما پر ہی ہوثیوں نے مسقط میں امریکیوں سے ڈیل کر کہ سعودی عرب کیلئے درد سر پیدا کیا جس کا مقصد بظاہر یہی دِکھ رہا ہے کہ جیسے بھی ہو سعودی عرب کو ایران کے خلاف محاز آرا کر کہ پاکستان اور ترکی کو بھی اس فساد میں دھکیل دیا جائے اور یوں امت مسلمہ آپس میں ہی الجھ جائے ، یہی سی آئی اے ،پینٹاگون اور موساد کی بچھائی ہوئی شطرنج ہے جو بچھائی تو امریکیوں اسرائیلیوں نے ہے لیکن اس شطرنج کو لپٹنے کا اعزاز یا شرف جو بھی کہا جائے مکہ معاھدے کے تینوں ممالک کے حصے میں آتا دکھائی دے رہا ہے ۔ قارئین کرام یاد رہے کہ ملک میں دہشتگردانہ کارروائیوں واقعات کے موثر و حتمی سدباب کیلئے بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی ضرورت پر ہم نے پچھلے ہی ہفتے اپنے ایک کالم میں زور دیا تھا حالانکہ پچھلے ہفتے کیا ماہ دو ماہ سے ایسا کوئی دہشتگردانہ واقعہ رونما نہیں ہوا تھا لیکن اب جبکہ دو روز پہلے ایک بار پھر کوہاٹ کو لہو لہان کر دیا گیا ہے تو ایسے میں یہ قتل و غارت کا گرم ہوتا بازار دیکھ کر زہن میں ایک یہی سوال بار بار گھومنے لگتا ہے کہ ،آخر یہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد مزید کس آفت کا منتظر ہے جس کا معرض وجود میں آنا ابھی باقی ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *