بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 21.9°C
Thursday, 24 September 2026 | پاکستان: 13 ر بیع الثانی 1448

سویڈن میں 2026 کا انتخاب: نفرت کو شکست

Thursday, 24 September, 2026

سویڈن کے 2026 کے عام انتخابات نے ملک کے سیاسی منظرنامے کو ایک ایسے نقطے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں دائرہ مکمل ہوتا نظر آتا ہے۔ 13 ستمبر کو منعقدہ انتخابات کے حتمی نتائج اب مکمل طور پر واضح ہو چکے ہیں: میگڈالینا اینڈرسن کی قیادت میں ‘سرخ و سبز(بائیں بازو)کے اتحاد نے 349 رکنی پارلیمان میں 176 نشستیں حاصل کر کے عددی برتری قائم کر لی ہے جبکہ دائیں بازو کا “ٹیڈو اتحاد” 173 نشستوں تک ہی محدود رہا۔ یہ بعینہ وہی اعداد و شمار ہیں جو 2022 کے انتخابات میں دائیں بازو کے حق میں تھے؛ گویا سویڈش ووٹر نے ٹھیک چار سال بعد سیاسی پانسا مکمل طور پر پلٹ دیا ہے۔ 17 ستمبر کو سویڈن کے سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے بائیں بازو کی فتح کا باضابطہ اعلان سامنے آتے ہی، وزیراعظم کرسٹرسن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ پیش کر دیا۔ اس سیاسی تبدیلی کی دور رس اہمیت کو معمولی ہرگز مت سمجھیے؛ سویڈن کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار انتہائی دائیں بازو کی قوم پرست جماعت، سویڈن ڈیموکریٹس، اقتدار کی دہلیز اور کابینہ میں باقاعدہ شمولیت کے اس قدر قریب پہنچی تھی، لیکن سویڈش ووٹر نے عین آخری لمحے میں اس کی پیش قدمی روک دی۔ اگرچہ میگڈالینا اینڈرسن اور انکی جماعت سوشل ڈیموکریٹس کو حکومت سازی اور مسندِ اقتدار تک پہنچنے کیلئے ابھی متعدد سیاسی و آئینی مراحل کا سامنا ہے، لیکن ان کے حوصلے پرعزم ہیں۔ اس پرامیدی کا راز جہاں اتحادی جماعتوں کی متوقع حمایت میں پوشیدہ ہے، وہیں سویڈش آئینی نظام کی ایک باوقار اور منفرد لچک بھی اس کا اہم سبب ہے۔ سویڈن میں حکومت قائم کرنے کیلئے’مثبت اکثریت’ کا ہونا ضروری نہیں، بلکہ اگر آپ کی ‘مخالفت میں اکثریت’ نہ ہو تو بھی مسندِ وزارتِ عظمی حاصل کی جا سکتی ہے جسے سیاسی اصطلاح میں “منفی پارلیمنٹ کہا جاتا ہے۔ سادہ الفاظ میں، اگر کچھ اراکین یا سیاسی جماعتیں نامزد وزیراعظم کے حق میں ووٹ نہ بھی دیں، لیکن وہ اس کی مخالفت میں بھی ووٹ نہ ڈالیں اور ‘غیر جانبدار’ یا ‘غیر حاضر’ رہیں، تو نامزدگی کامیاب تصور ہوتی ہے۔ اس انوکھے آئینی قاعدے کی ایک مثال نومبر 2021 میں خود میگڈالینا اینڈرسن کی وزیراعظم کے طور پر پہلی نامزدگی تھی۔ تب وہ 349 کے ایوان میں محض 101 اراکین کی حمایتی رائے سے مسندِ اقتدار پر متمکن ہو گئی تھیں، باوجود اس کے کہ ان کے خلاف 173 ووٹ پڑے تھے؛ لیکن 75 اراکین کے ‘غیر جانبدار’ رہنے کی بدولت ان کی حکومت کی راہ ہموار ہو سکی۔انتخابی نتائج میں گہرائی سے جھانکیں تو تصویر مزید دلچسپ ہو جاتی ہے۔ سویڈن ڈیموکریٹس، جو سولہ برس سے مسلسل ہر انتخاب میں اپنی نشستیں بڑھاتی آئی تھی، اس بار پہلی بار اس پارٹی کی مقبولیت میں کمہ ہوئی ہے۔ بیس اعشاریہ پانچ فیصد سے گر کر سترہ اعشاریہ پانچ فیصد پر، اور دوسرے سے تیسرے نمبر پر۔ مگر اصل کہانی چھوٹی جماعتوں کے اعداد میں چھپی ہے۔ 2022 میں “پارٹیئت نیانس” کے نام سے ایک جماعت وجود میں آئی تھی جسے مسلم شناخت کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرنے کی امید تھی اور 2022 کے انتخابات میں اٹھائیس ہزار ووٹ لیکر یہ جماعت دائیں بازو کی فتح میں مددگار ثابت ہوئی تھی۔ سرکاری الیکشن اتھارٹی کے مطابق اس بار یہ جماعت گر کر محض صفر اعشاریہ صفر دو فیصد، یعنی تقریباً ایک ہزار ووٹ رہ گئی، قریب تیس گنا کمی۔ یہ اعداد اس بات کا ثبوت ہیں کہ سویڈن کے مسلمان ووٹر نے، سویڈن ڈیموکریٹس کے کھلے اشتعال انگیز بیانیے کے باوجود، اپنی الگ مذہبی شناخت پر مبنی جماعت کے بجائے مرکزی دھارے کی جماعتوں(خصوصا سوشل ازم اور سیکولر ازم کی داعی جماعتوں)کو ترجیح دی۔ یہ انضمام کی ایک مثبت علامت ہے۔ اور اس حقیقت کا اظہار کہ سویڈن کا مسلمان ووٹر کسی ایک سادہ خانے میں بند نہیں ہوا، بلکہ کسی بھی انتہا کی بجائے مرکز کی طرف مائل ہو رہا ہے۔ مسلمانوں سے ہٹ کر دیگر تارکین وطن بھی سویڈش جمہوریت کے مرکزی دھارے میں مزید فعال ہوئے ہیں۔ جسکا اظہار تارکین وطن کے علاقوں میں پولنگ کی ریکارڈ ساز شرح سے ہوتا ہے۔یورپ بھر میں جہاں یہ رجحان بڑھ رہا ہے کہ نوجوان مرد ووٹر دائیں اور انتہائی دائیں بازو کی طرف جھک رہا ہے۔ وہاں سویڈن نے اس رجحان کو الٹ دیا۔ ایس وی ٹی اور ویریان کے سروے کے مطابق اٹھارہ سے انتیس سال کے نوجوان مردوں میں دائیں بازو کے ٹیڈو اتحاد کی حمایت 2022 کے تریسٹھ اعشاریہ سات فیصد سے گر کر اس بار تینتالیس اعشاریہ نو فیصد پر آ گئی، جبکہ اپوزیشن کی حمایت تینتیس اعشاریہ پانچ سے بڑھ کر پچاس اعشاریہ دو فیصد ہو گئی۔ یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں، یہ اس مخصوص طبقے میں بیس فیصد پوائنٹس کا الٹ پھیر ہے جسے پورے یورپ میں دائیں بازو کا سب سے مضبوط قلعہ سمجھا جاتا تھا۔ ساتھ ہی اولین ووٹروں میں ایک واضح صنفی تقسیم بھی دیکھنے میں آئی۔ ایک سروے کے مطابق انتالیس اعشاریہ ایک فیصد خواتین نے سوشل ڈیموکریٹس کو ترجیح دی بمقابلہ اٹھائیس اعشاریہ چھ فیصد مردوں کے، جبکہ سویڈن ڈیموکریٹس کو چوبیس اعشاریہ سات فیصد مردوں کی حمایت ملی بمقابلہ محض بارہ فیصد خواتین کے۔ یعنی سویڈن کی نئی نسل میں سیاست صرف بائیں اور دائیں کی نہیں، بلکہ صنف کی بنیاد پر بھی تیزی سے تقسیم ہو رہی ہے۔یہاں ایک بات دیانتداری سے کہنی ضروری ہے، کیونکہ محض خوش کن بیانیہ حقیقت کا نعم البدل نہیں ہو سکتا: بائیں بازو کی جیت کا مطلب امیگریشن کی پرانی، کھلی پالیسیوں کی طرف واپسی ہرگز نہیں۔ خود میگڈالینا اینڈرسن نے انتخابی مہم کے دوران واضح کیا کہ ان کی جماعت “ماضی کے مقابلے میں امیگریشن اور جرائم کے معاملے میں کہیں زیادہ سخت” ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نئی حکومت بھی جرائم اور تارکینِ وطن کی جانچ پر کوئی نرمی نہیں دکھائے گی۔ جو چیز بدلے گی وہ پالیسی کی سختی نہیں بلکہ اس کا لہجہ ہے: ایک مخصوص مذہب یا برادری کو مسلسل ہدف بنانے، مساجد مسمار کرنے کی دھمکیاں دینے، اور کسی پوری کمیونٹی کو ملک کے مسائل کی جڑ قرار دینے والی سیاست کو سویڈش ووٹر نے مسترد کر دیا ہے، مگر انضمام، تحفظ اور شہری فرائض کے حقیقی سوالات ابھی جوں کے توں موجود ہیں، اور کوئی بھی حکومت انہیں نظر انداز نہیں کر سکتی۔اور یہی وہ نکتہ ہے جو اس انتخاب کو پاکستانی قارئین کیلئے واقعی امید افزا بناتا ہے۔ سویڈن نے یہ ثابت کیا کہ ایک معاشرہ چاہے کتنا ہی گہرا زخم کیوں نہ کھائے، گینگ تشدد، انتہا پسندی کا خوف، ثقافتی تصادم سمیت وہ اپنے اختلافات کو گولی یا نفرت انگیز فسادات کی بجائے حق رائے دہی کے ذریعے حل کر سکتا ہے۔ سویڈن کی سیاسی قیادت میں خود احتسابی کی صلاحیت ایک ایسے معاشرے کی نشانی ہے جو اپنی خامیوں کو تسلیم کرنے سے نہیں گھبراتا۔ زخم ابھی گہرے ہیں، اور محض ایک انتخاب سے کوئی معاشرہ راتوں رات مندمل نہیں ہو جاتا لیکن جس سنجیدگی، تحمل اور شفافیت سے سویڈن نے یہ جذباتی ترین انتخاب گزارا، وہ اس بات کی ضمانت ہے کہ شفا کا سفر، خواہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، ممکن ہے۔ اور یہی سویڈن کی اصل طاقت ہے جسے دنیا بھر کے معاشرے، بشمول ہمارا پاکستانی معاشرہ سیکھ سکتے ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *