بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 22.7°C
Thursday, 24 September 2026 | پاکستان: 13 ر بیع الثانی 1448

شوکت ڈار رخصت ہوگئے، مگر ایک سبق دے گئے

Thursday, 24 September, 2026

شوکت ڈار اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ لندن میں ایک طویل عرصے تک مختلف میڈیا ہاؤسز سے وابستہ رہنے والے صحافی شوکت ڈار اب منوں مٹی تلے آسود خاک ہیں۔ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے مناظر انتہائی جذباتی تھے۔ بیٹیاں زار و قطار رو رہی تھیں ہر آنکھ اشکبار تھی۔ بیٹا اسد چند لمحوں کیلئے مسجد میں باپ کی جدائی کا غم لیے کھڑا ہوا اور انتہائی مختصر مگر دل کو چھو لینے والے الفاظ میں لوگوں سے مخاطب ہوا۔اسد نے لوگوں سے کہا کہ میرے باپ کو اگر کسی سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو انہیں معاف کر دیں۔ اگر کسی کا میرے والد کے ذمے کوئی قرض ہے، یا میرے والد نے کسی سے کوئی رقم لینی ہے تو وہ ضرور سامنے آئے اور ہم سے رابطہ کرے۔یہ چند الفاظ ایک بیٹے کیلئے شاید زندگی کے مشکل ترین لمحوں میں سے تھے۔ ایک طرف باپ کی میت سامنے تھی اور دوسری طرف لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر باپ کیلئے معافی اور حقوق العباد کی ادائیگی کی اپیل کرنا یقینا آسان نہیں تھا۔شوکت ڈار کی نمازِ جنازہ میں صحافیوں کیساتھ ساتھ ان کے سیاسی ساتھی، دوست، کمیونٹی رہنما، سماجی و مذہبی شخصیات اور دور دراز سے آنیوالے بھی شریک ہوئے۔ پاکستان کی نمائندگی کے لیے ہائی کمشنر ٹپو عثمان بھی موجود تھے، جبکہ میڈیا منسٹر علی نواز ملک سمیت دیگر شخصیات نے بھی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔یہ شوکت ڈار کی خوش نصیبی تھی کہ ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے ان کے لیے دعائیں کی گئیں اور بہت سی آنکھیں نم تھیں لیکن سب سے بڑا نقصان یقینا ان کے خاندان، بچوں اور قریبی عزیزوں کا ہوا ہے۔ ان کے دوستوں اور صحافتی ساتھیوں نے بھی ایک ایسے شخص کو کھو دیا جس کے ساتھ زندگی کے کئی برس اور کئی یادیں وابستہ تھیں۔مگر زندگی کا خلاصہ شاید یہی ہے کہ یہاں کوئی ہمیشہ کیلئے نہیں آیا۔ ایک مقررہ وقت ہے جس میں انسان اس دنیا میں آتا ہے، پرورش پاتا ہے، بڑا ہوتا ہے، اپنے کسی شعبے اور پیشے سے وابستہ ہوتا ہے تعلقات بناتا ہے اور پھر ایک دن خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔شوکت ڈار کی موت سے میرے لیے ایک اور سبق بھی سامنے آیا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی خدا خوفی اور اللہ کی جواب دہی کے احساس کے ساتھ گزارنی چاہیے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ زندگی کی شام کب، کہاں اور کس موڑ پر ہو جائے۔ انسان مستقبل کے منصوبے بناتا رہتا ہے ملاقاتوں کا ارادہ کرتا ہے، ناراض لوگوں سے صلح کے لیے وقت نکالنے کا سوچتا ہے، لیکن موت کسی وعدے یا منصوبے کی پابند نہیں۔اس لیے جب تک زندگی ہے، ہمیں اپنے رب سے تعلق مضبوط رکھنا چاہیے اپنے معاملات درست رکھنے چاہئیں، حقوق العباد کا خیال رکھنا چاہیے اور کسی کا حق اپنے ذمے نہیں رکھنا چاہیے۔ کسی سے زیادتی ہوئی ہے تو معافی مانگ لینی چاہیے اور کسی نے ہمارے ساتھ غلطی کی ہے تو حتی الامکان معاف کر دینا چاہیے۔شوکت ڈار کی وفات نے مجھے ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے سے ناراضگیاں نہیں پالنی چاہئیں۔اختلاف ضرور ہونا چاہیے، کیونکہ اختلافِ رائے زندگی کا حصہ ہے۔ سیاسی نظریات مختلف ہو سکتے ہیں، صحافتی نقط نظر الگ ہو سکتا ہے کسی واقعے یا شخصیت کے بارے میں رائے مختلف ہو سکتی ہے لیکن اختلاف کو نفرت، دشمنی، عداوت اور قطع تعلقی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔کیا معلوم کل ہمیں ایک دوسرے سے صلح صفائی کا موقع ہی نہ ملے۔شوکت ڈار کے ساتھ بھی میرا اختلاف رہا۔ ان کی سیاسی وابستگی اور بعض معاملات پر ان کے خیالات سے مجھے بھی اختلاف تھا اور انہیں بھی ،لیکن یہ اختلاف کبھی نفرت یا عداوت کی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ وہ اختلاف کرتے تھے بحث کرتے تھے، لیکن پھر بات کو بھول بھی جاتے تھے۔ ان کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ دل میں بات رکھنے کے عادی نہیں تھے ۔ ہم نے پاکستان پریس کلب سمیت مختلف مواقع پر ایک ساتھ کام کیا۔ مختلف ایونٹس کی کو ریچ میں ساتھ رہے اور کئی مواقع پر ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ہماری آخری ملاقات بھی تقریبا ًایک ماہ قبل ہوئی، جب پاکستان کے نئے ہائی کمشنر کی جانب سے ایک ملاقات کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اتفاق سے میں اور شوکت ڈار ایک ہی قطار میں، پچھلی نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس موقع پر شوکت ڈار نے مسکراتے ہوئے ہائی کمشنر کو مخاطب کیا اور کہا کہ تھوڑا وقت بیک بینچرز کو بھی دے دیں ہماری رو تو فرنٹ رو نہیں ہے۔یہ ان کے بے تکلف اور زندہ دل انداز کی ایک چھوٹی سی جھلک تھی۔آج جب وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں تو ان کی باتیں ان کی مسکراہٹ اور ان کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات یاد آ رہے ہیں۔لیکن ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے موقع پر ایک بات نے مجھے ضرور سوچنے پر مجبور کیا۔ہم میڈیا سے وابستہ لوگ ہیں۔ ہمیں اپنے رویوں کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے ۔ مسجد میں جس طرح غیر ضروری ہجوم ہوا اس سے نہ تو ہماری پیشہ ورانہ عزت میں اضافہ ہوا اور نہ ہی یہ موقع اس رویے کا متقاضی تھا۔ ہائی کمشنر ٹپو عثمان بھی وہاں موجود تھے، مگر ہجوم کی وجہ سے انہیں مناسب طور پر بات کرنے یا اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع تک نہ مل سکا۔قبرستان میں بھی کچھ مناظر ایسے تھے جو دل کو افسردہ کر گئے۔ ایک طرف شوکت ڈار اور ایک 27سالہ نوجوان کی تدفین ہو رہی تھی، مٹی ڈالی جا رہی تھی دو انسان اس دنیا سے رخصت ہو رہے تھے، جبکہ دوسری طرف بعض لوگ قبرستان میں کھڑے سگریٹ پی رہے تھے ہنسی مزاق کررہے تھے اور گفتگو میں مصروف تھے۔میرا خیال ہے کہ ہمیں کم از کم ان چند منٹوں کیلئے خاموش ہو جانا چاہیے تھا۔ ہمیں سوچنا چاہیے تھا کہ جس شخص کی میت پر مٹی ڈالی جا رہی ہے، ہم شاید اسے دوبارہ کبھی نہیں دیکھ سکیں گے۔یہ زندگی کی آخری حقیقت ہے جس سے کوئی انسان فرار نہیں ہو سکتا۔شوکت ڈار کی موت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ زندگی بہت مختصر ہے ۔ عہدے، شہرت، سیاسی وابستگیاں، اختلافات ، بحثیں، ناراضگیاں اور دنیاوی مصروفیات سب یہیں رہ جاتی ہیں۔ انسان کیساتھ اگر کچھ جاتا ہے تو اس کے اعمال، اس کی نیکیاں اور لوگوں کے حقوق ہیں۔اس لیے بہتر ہے کہ جب تک ہم اس دنیا میں ہیں، ایک دوسرے کے لیے آسانی پیدا کریں، دل صاف رکھیں، معافی مانگنے اور معاف کرنے میں دیر نہ کریں اور اختلاف کو دشمنی نہ بننے دیں۔اختلاف رکھیں، مگر ناراضگی نہ رکھیں۔ اپنی رائے رکھیں، مگر دل میں نفرت نہ رکھیں۔ حدود قائم رکھیں، مگر رشتے ختم نہ کریں۔اور سب سے بڑھ کر اپنی زندگی خدا خوفی، تقوی اور اللہ کی جواب دہی کے احساس کے ساتھ گزاریں، کیونکہ کسی کو معلوم نہیں کہ زندگی کی شام کب اور کس موڑ پر ہو جائے۔شوکت ڈار چلے گئے۔ مبین چودھری بھی اچانک ہم سے جدا ہو گئے۔ بہت سے لوگ اسی طرح اچانک رخصت ہو جاتے ہیں اور پیچھے صرف یادیں رہ جاتی ہیں ۔ آخرکار ہم سب نے اسی مٹی میں لوٹ جانا ہے ۔آخر میں میں ان تمام صحافی ساتھیوں، دوستوں، سیاسی و سماجی شخصیات اور کمیونٹی رہنماں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے شوکت ڈار کی وفات پر مجھ سے رابطہ کیا، تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور اس غم کی گھڑی میں میرے ساتھ کھڑے ہوئے۔ آپ سب کی محبت، خلوص اور دعاں کا میں دل سے شکر گزار ہوں۔اللہ تعالیٰ شوکت ڈار کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے ان کے اہل خانہ، بچوں، دوستوں اور صحافتی ساتھیوں کو صبر عطا فرمائے۔ اللہ تعالی ہمیں بھی اپنی زندگی درست طریقے سے گزارنے، حقوق العباد ادا کرنے، ایک دوسرے کو معاف کرنے اور اپنے رب کو راضی کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *