یہ امر قابل ذکر ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کوہاٹ پولیس لائنز کے قریب دہشتگرد حملے میں شہید پولیس اہلکاروں اور شہریوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیا اوردہشتگردی کے خلاف ریاستی عزم کے اعادے پر زور دیا۔یاد رہے کہ جمعہ کی نماز کے دوران پرانی پولیس لائنز میں مسجد کے قریب بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے دھماکہ کیا گیا، جس کے بعد مسلح دہشتگرد پولیس کمپاؤنڈ میں داخل ہوئے اور مختلف سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ تقریباً اکیس گھنٹے جاری رہنے والے کلیئرنس آپریشن کے بعد تمام آٹھ دہشتگرد مارے گئے۔ پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم حکام کے مطابق حملے میں 23 افراد شہید ہوئے، جن میں 17 پولیس اہلکار اور چھ شہری شامل ہیں، جبکہ سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ علاوہ ازیںدہشتگردوں نے عبادت گاہ، پولیس اور شہریوں کو ایک ہی کارروائی میں نشانہ بنایا۔سنجیدہ حلقوں کے مطابق کوہاٹ کے شہداء محض اعدادوشمار نہیں بلکہ پاکستان کے امن کیلئے دی جانیوالی بھاری قربانی کی علامت ہیں۔پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر فرائض انجام دیے اور شہری بھی دہشتگردی کی زد میں آئے۔ مبصرین کے مطابق اس حملے کی تحقیقات میں سرحد پار روابط کا پہلو اہم ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک خودکش حملہ آور کی شناخت افغان شہری کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ دیگر حملہ آوروں کے روابط کی تحقیقات جاری ہیں۔یہ امر توجہ کا حامل ہے کہ پاکستان طویل عرصے سے افغانستان سے مطالبہ کرتا آیا ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دی جائے اور مسلح گروہوں کے خلاف قابل تصدیق اقدامات کیے جائیں۔ افغان حکام ایسے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں لیکن پاکستان اس امر کو ٹھوس شواہد، فرانزک تحقیقات اور قابل اعتماد انٹیلی جنس سے ثابت کرتا رہا ہے۔یہ بات قابل غور ہے کہ خیبرپختونخوا کی افغانستان سے طویل سرحد اسے خصوصی سکیورٹی چیلنجز سے دوچار کرتی ہے۔ سرحد پار نقل و حرکت، غیر قانونی آمدورفت، اسلحے کی منتقلی، دہشتگردوں کی ممکنہ پناہ گاہیں اور سہولت کاری کے نیٹ ورکس خطرات کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ اس لیے سرحدی نگرانی کو جدید ٹیکنالوجی سے مضبوط بنانا، حساس مقامات پر نگرانی بڑھانا، غیر قانونی راستوں کی مؤثر مانیٹرنگ اور اداروں کے درمیان بروقت معلومات کا تبادلہ ناگزیر ہے۔ افغانستان کے ساتھ ایسا میکنزم ضروری ہے جس سے دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف فوری کارروائی ممکن ہو ۔ پاکستانی سلامتی کے تناظر میں بھارت سے براہ راست دہشتگردی کا پہلو بھی اہم ہے۔ پاک سیکورٹی حکام مختلف مواقع پر بھارت پر پاکستان میں عسکری سرگرمیوں اور خصوصاً بلوچستان میں مسلح گروہوں کی معاونت کے شواہد دنیا کے سامنے لاتے رہے ہیں۔ پاک وزارت خارجہ نے متعدد مواقع پر بھارت پر افغان سرزمین سے پاکستان مخالف دہشتگرد گروہوں کی معاونت کے دستاویزی ثبوت پیش کیے۔سفارتی ماہرین کے بقول دہشتگردی کے خلاف کامیابی صرف داخلی کارروائیوں سے ممکن نہیں۔ دہشتگرد تنظیموں کے مالی وسائل، مواصلاتی رابطوں، سرحد پار سہولت کاروں، اسلحے کی فراہمی اور بھرتی کے نظام کو بھی توڑنا ہوگا۔ عالمی اداروں کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون، مشتبہ مالی لین دین کی نگرانی اور دہشتگرد نیٹ ورکس سے متعلق معلومات کا بروقت تبادلہ ضروری ہے۔ عالمی برادری کو واضح کرنا چاہیے کہ دہشتگردی کا سب سے بھاری نقصان شہریوں ، پولیس اور سرحدی آبادی کو اٹھانا پڑتا ہے ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پولیس کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ کوہاٹ کا واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو جدید ہتھیاروں، حفاظتی سازوسامان، بلٹ پروف گاڑیوں، فرانزک سہولیات، نگرانی کے جدید نظام اور خصوصی تربیت کی ضرورت ہے۔اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان اپنی خودمختاری، قومی سلامتی، علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ملک کو درپیش دہشتگردی کا خطرہ اب صرف اندرونی مسئلہ نہیں رہا بلکہ سرحد پار موجود عناصر، دہشتگرد نیٹ ورکس اور مبینہ بیرونی معاونت نے اس چیلنج کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بھارت کی مبینہ پراکسی کارروائیاں ہوں یا افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگرد گروہ، ریاست ان خطرات سے نمٹنے کیلئے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لانے کیلئے پرعزم ہے۔یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پہلے ہی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ سکیورٹی فورسز، پولیس اور عام شہریوں کی قربانیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف قومی عزم محض بیانات تک محدود نہیں۔ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی جان و مال، قومی تنصیبات اور ملکی خودمختاری کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنائے۔مبصرین کے مطابق موجودہ حالات میں دہشتگردی کے مقابلے کیلئے سکیورٹی کارروائیوں کے ساتھ مؤثر انٹیلی جنس، سرحدی نگرانی، سفارتی کوششوں اور قانونی اقدامات کو بھی مربوط کرنا ضروری ہے۔ پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور کسی بھی ایسے خطرے کا مقابلہ کرے گا جو ملکی سلامتی اور عوام کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔یاد رہے کہ پاکستانی سرزمین پر دہشتگردی کرنیوالے عناصر اور ان کے سہولت کاروں کیخلاف قانون کے مطابق فیصلہ کن کارروائی ریاستی پالیسی کا بنیادی حصہ ہے ۔ سفارتی ماہرین کے بقول سرحد پار دہشتگردی کے مسئلے پر متعلقہ ممالک کے ساتھ واضح اور مسلسل سفارتی رابطہ بھی برقرار رکھنا چاہیے۔ تاہم کسی بھی سطح پر قومی سلامتی کو داؤ پر نہیں لگایا جا سکتا۔ پاکستان کا واضح پیغام ہے کہ دہشتگردی، تخریب کاری یا دباؤ کے ذریعے وطن عزیز کو کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں