بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کی 636 سالہ تاریخی مسجد بھی بی جے پی کی مسلمْ کش پالیسی کا نشانہ بن گئی،قدیم شاہی مسجد کو رات کی تاریکی میں شہید کرنے کی کوشش کی گئی۔پولیس کی موجودگی میں 636 سالہ تاریخی مسجد کو رات گئے بلڈوزر کارروائی کی کوشش مسلمانوں نے ناکام بنادی۔ مدھیہ پردیش کی تاریخی شاہی مسجد کو بچانے کے لیے سینکڑوں مسلمان مسجد میں جمع ہوگئے۔ مسلمانوں کا مسجد بچاؤ احتجاج گزشتہ دو ہفتوں سے جاری ہے۔ مسلمانوں کا مسجد کو انہدام سے بچانے کے لیے شفٹوں میں مسجد میں موجود رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہندووں کے مذہبی اجتماع سمہاستھا کمبھ سے قبل سڑک کشادہ کرنے کے لیے مسجد کا بڑا حصہ مسمار کیا جارہا ہے۔ توسیعی منصوبے کے تحت تاریخی شاہی مسجد کا ہال اور مینار منہدم کیا جائے گا۔بھارت میں عدالتی نظام بھی مسلمانوں کو تحفظ فراہم نہیں کر رہا۔ ہائی کورٹ نے مسجد کے تحفظ کی درخواستیں مسترد کردیں۔ شاہی مسجد کو وقف جائیداد قرار دیا گیا ہے، جس کے تحت حکومت اسکے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔بھارت میں مودی حکومت مسلمانوں کی مذہبی شناخت مٹانے کی منظم مہم چلا رہی ہے۔دو روز قبل دارالحکومت دہلی کے شالیمار باغ میں مدینہ مسجد رات کی تاریکی میں حکام نے مسمار کردی۔ سہارنپور کی 150 سالہ قدیم مسجد کو 5 ستمبر 2026 کو علی الصبح منہدم کر دیا گیا۔مہرولی کی 700 سالہ اخوندجی مسجد اور وارانسی کی 200 سالہ ازغیب شہید مسجد بھی حال ہی میں شہید کی گئیں۔ گزشتہ تین برس کے دوران بی جے پی کے زیر حکومت 9ریاستوں میں 861مساجد اور مسلم وقف املاک منہدم کر چکی ہے۔ ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کے مطابق، صرف 2025 میں 69 مسلم مذہبی مقامات مسمار یا غیر قانونی قرار دیے گئے۔ اتراکھنڈ میں 2023 سے 2026 تک تقریبا 538 سے 572 مزارات تجاوزات کی آڑ میں منہدم کی گئیں۔ اتر پردیش میں 37 مساجد، 225 مدارس، 25 مزارات اور 6 عیدگاہیں منہدم ہوئیں۔ مہاراشٹر میں 5، گجرات میں 4، راجستھان میں 5 اور مدھیہ پردیش میں 3مسلم مذہبی مقامات مسمار کی گئیں۔ اْترپردیش میں قائم تاریخی مسجد کو سڑک چوڑی کرنے کے بہانے شہید کردیا گیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔یہ مسجد 16ویں صدی میں شیر شاہ سوری کے دور میں تعمیر کی گئی تھی۔اِس حوالے سے امام مسجد کا کہنا ہے کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت تھا اور 16 جنوری کو کیس کی سماعت ہونا تھی۔ عدالت میں سماعت کے لیے تاریخ مقرر ہونے کے باوجود گزشتہ روز پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے بھاری مشینری کے ذریعے مسجد کو سڑک چوڑا کرنے کے بہانے شہید کردیا۔واضح رہے کہ 1976ء کے بھارتی آئین میں 42ویں ترمیم کے بعد ہندوستان کو ایک سیکولر ملک قرار دیا گیا لیکن پیپلز یونین فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ کے مطابق صرف گجرات میں 500 کے قریب مساجد اور عبادت گاہوں کو مسمار کیا گیا جس سے بھارت کے سیکولرسٹیٹ ہونے کا نام نہاد دعویٰ بے نقاب ہوگیا۔ سخت گیر ہندو تنظیمیں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف کافی عرصے سے مہم چلا رہی ہیں اور اب اْن کی مساجد و مدارس اْن کے نشانے پر ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف اِس طرح کا رویہ اب عام ہوتا جا رہا ہے۔ چند روز پہلے ہی کی بات ہے کہ دارالحکومت دہلی میں منعقدہ ہندوؤں کے جلسے میں مسلم مخالف اور انتہائی منافرت آمیز تقریریں کی گئیں۔اِس جلسہ ء عام میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان پرویش سنگھ ورما نے مسلمانوں کا مکمل سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی تھی اور وہاں موجود لوگوں سے اْس کا حلف بھی لیاتھا۔ مسلمانوں کے مقدس مذہبی مقامات کی بے حرمتی کے ایک اور قابل مذمت واقعہ میں انتہاء پسند ہندو گروہوں کی جانب سے نماز جمعہ کی ادائیگی کے مقامات پر گائے کا گوبر پھینکنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔عالمی برادری کی جانب سے تشویش کے اظہار کے باوجود تری پورہ میں مسلمانوں،اْن کی عبادت گاہوں، گھروں اور کاروباری مقامات پر قابل مذمت حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بی جے پی جن ریاستوں میں برسراقتدار ہے، وہاں سینکڑوں افراد کو ”غیرقانونی سرگرمیاں (امتناع) ایکٹ” جیسے سیاہ قانون کے تحت گرفتار کیاگیا ہے جن میں نامور وکلاء اور صحافی بھی شامل ہیں۔یہ وہ افراد ہیں جو اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے انسانی حقوق کی سنگین اور منظم انداز میں خلاف ورزیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں۔ریاست اْترپردیش کے ہندو مذہبی قصبے متھورا کی مقامی عدالت نے نئی درخواستوں کی اجازت دے دی ہے لیکن 2020ء میں دائر کی گئی اِس درخواست پر سماعت تاحال شروع نہیں کی جو 17 ویں صدی میں تعمیر ہونے والی شاہی عیدگاہ مسجد کے اندر سروے کرنے اور ویڈیو بنانے کی اجازت کی غرض سے دائر کی گئی تھی۔ہندوؤں کا کہنا ہے کہ ہمیں شک ہے کہ شاہی عیدگاہ مسجد کے اندر ہندوؤں کی نشانیوں کو ہٹایا جاسکتا ہے، اِسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ عدالت مسلمانوں کا داخلہ بند کردے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں