بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 20.1°C
Thursday, 01 October 2026 | پاکستان: 20 ر بیع الثانی 1448

دہشت گردی کیخلاف ریاست پر عزم

Thursday, 1 October, 2026

پاکستان کا مغربی سرحدی علاقہ ایک بار پھر دہشت گردی کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگرد حملوں نے سکیورٹی صورتحال کو چیلنج کیا ہے ۔ حالیہ حملوں میں سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاک افغان سرحد کے اطراف سرگرم شدت پسند گروہ اب بھی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ان واقعات میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا، لیکن ان کے نتیجے میں پاکستانی ریاست کے اس عزم کا بھی اظہار ہوا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور قومی سلامتی کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گی۔کوہاٹ پولیس لائنز پر حملہ، جس میں متعدد پولیس اہلکار اور شہری شہید و زخمی ہوئے، اس حقیقت کی یاد دہانی تھا کہ دہشت گرد تنظیمیں اب بھی پیچیدہ نوعیت کی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں بھی ایسے واقعات سامنے آئے جن میں ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ان حملوں سے پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے حوصلے پست نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے فوری طور پر انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔شمالی وزیرستان، کرم اور سابق قبائلی اضلاع پاکستان کے سکیورٹی نظام میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔دشوار گزار جغرافیہ اور افغانستان سے قربت سرحدی نگرانی کو ایک چیلنج بناتے ہیں، تاہم گزشتہ چند برسوں میں اس حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ جدید نگرانی کے نظام، سرحدی باڑ کی تکمیل اور مختلف سکیورٹی اداروں کے درمیان بہتر رابطے نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت محدود کرنے اور دراندازی کے امکانات کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔بلوچستان کو ایک مختلف مگر اتنا ہی سنگین چیلنج درپیش ہے۔ دہشت گرد اور علیحدگی پسند عناصر سکیورٹی اہلکاروں، بنیادی ڈھانچے اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا کر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔اس کے باوجود صوبے میں سڑکوں، مواصلاتی نظام، تعلیم اور عوامی خدمات کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ یہ اقدامات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ پائیدار امن کیلئے سکیورٹی کے ساتھ ساتھ ترقی بھی ناگزیر ہے۔پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں حالیہ کارروائیوں کے دوران متعدد جوانوں نے دہشت گردوں کا تعاقب کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی نے نہ صرف مزید جانی نقصان کو روکا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ ملکی سکیورٹی فورسز وطن کے دفاع کیلئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔پولیس فورس نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔ بڑے شہروں سے لے کر دور دراز اضلاع تک پولیس اہلکار انتہاپسند تشدد کے خلاف پہلی دفاعی لائن کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مشکل حالات کے باوجود ان کی ثابت قدمی نے عوام کے اعتماد کو مضبوط کیا اور ریاست کی رٹ کو برقرار رکھنے میں مدد دی۔حالیہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں متعدد دہشت گرد سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ کامیابیاں بہتر انٹیلی جنس، بین الادارہ تعاون اور عملی تیاری کا نتیجہ ہیں۔ دہشت گرد منصوبوں کو بروقت ناکام بنانا قومی سلامتی کی حکمت عملی کا ایک اہم جزو بن چکا ہے ۔حکومت کی حکمت عملی صرف عسکری کارروائیوں تک محدود نہیں۔عزمِ استحکام اور دیگر قومی اقدامات کے تحت سکیورٹی، بہتر طرزِ حکمرانی اور سماجی و معاشی ترقی کو یکجا کیا جا رہا ہے ۔ اس پالیسی کا مقصد یہ ہے کہ انتہاپسندی کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، معاشی مواقع اور عوامی شمولیت کے ذریعے بھی کیا جائے۔پاکستان سفارتی محاذ پر بھی متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔ حکومت مسلسل اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ کسی بھی ملک کی سرزمین دہشتگرد گروہوں کیلئے پڑوسی ممالک کیخلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ اسلام آباد سرحدی تحفظ، انسدادِ دہشت گردی تعاون اور علاقائی استحکام کے حوالے سے علاقائی و عالمی شراکت داروں کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایسے مسائل کے حل کیلئے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے جو قومی سرحدوں سے آگے تک اثرات رکھتے ہیں ۔دوسری جانب ترقیاتی منصوبے بھی دیرپا امن کیلئے اہم ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع میں سرمایہ کاری مقامی آبادی کو بااختیار بناتی ہے اور انتہاپسند بیانیوں کے اثرات کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ خاص طور پر پسماندہ علاقوں کی ترقی اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ قومی ترقی کے ثمرات ہر شہری تک پہنچ سکیں۔اس جدوجہد میں معاشرے کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ علما کرام، تعلیمی ادارے، سول سوسائٹی اور میڈیا قومی یکجہتی، اعتدال پسندی اور قانون کی حکمرانی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ عام شہریوں کی جانب سے انتہاپسند نظریات کا مسترد کیا جانا دہشت گردی کیخلاف سب سے موثر دفاعی دیواروں میں سے ایک ہے۔گزشتہ دو دہائیوں کا تجربہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان میں بڑے سے بڑے سکیورٹی چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ مختلف انسدادِ دہشت گردی آپریشنز نے شدت پسند نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا اور ملک کے وسیع علاقوں میں امن بحال کیا۔ اگرچہ دہشت گرد تنظیمیں دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کرتی رہتی ہیں، لیکن آج انہیں پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور باصلاحیت ریاست کا سامنا ہے۔حالیہ حملے اس امر کی یاد دہانی ہیں کہ مسلسل چوکسی وقت کی ضرورت ہے۔ تاہم یہ واقعات سکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، قومی قیادت کے عزم اور عوام کی ثابت قدمی کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی ہر قربانی دہشت گردی کیخلاف قومی عزم کو مزید مضبوط بناتی ہے ۔ آگے بڑھنے کیلئے قومی اتحاد، مثر طرزِ حکمرانی، معاشی ترقی اور سلامتی کے حوالے سے مستقل وابستگی ناگزیر ہے۔ ان تمام عناصر کو یکجا کرکے پاکستان اپنے مغربی محاذ پر امن، استحکام اور ترقی کے ایک محفوظ مستقبل کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔ چیلنجز یقینا موجود ہیں، لیکن ان پر قابو پانے اور ایک محفوظ و خوشحال پاکستان کی تعمیر کا قومی عزم بھی اتنا ہی مضبوط ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *