بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 23.3°C
Saturday, 03 October 2026 | پاکستان: 22 ر بیع الثانی 1448

ڈیجیٹل قزاق ۔۔۔!

Friday, 2 October, 2026

قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں 29 اور 30 ستمبر2026 کو سائبر سیکیورٹی کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا مرکزی موضوع سائبر لچک تھا۔ کانفرنس میں حکومت، کاروباری اداروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، سائبر ماہرین اور ہیکر کمیونٹی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ دو روزہ پروگرام میں دس ہزار سے زائد شرکا اور سو سے زیادہ علاقائی و بین الاقوامی مقررین شامل ہوئے ۔ یہ اعداد محض کسی کانفرنس کی کامیابی کی علامت نہیں بلکہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا اب انسانی زندگی کا ایک ایسا حصہ بن چکی ہے جس سے الگ رہنا تقریبا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔بینک اکاؤنٹ، شناختی دستاویزات، کاروبار، رابطے، تصاویر، آواز، تعلیم، سرکاری خدمات اور روزمرہ کی بے شمار ضروریات ایک ایسے نظام سے جڑ چکی ہیں جس کی حفاظت اب صرف کمپیوٹر ماہرین کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ عام شہری کے تحفظ کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔ مصنوعی ذہانت نے اس صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ پہلے کسی شخص کی تصویر یا آواز کی نقل تیار کرنا مشکل کام تھا مگر اب مصنوعی ذہانت کی مدد سے کسی انسان کے چہرے، آواز اور انداز کو اس قدر حقیقت کے قریب بنایا جا سکتا ہے کہ عام شخص کیلئے اصل اور جعل سازی میں فرق کرنا مشکل ہو جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ڈیپ فیک ایک تکنیکی اصطلاح سے نکل کر انسانی زندگی کا عملی خطرہ بن جاتا ہے۔کسی شخص کی جعلی ویڈیو تیار کی جا سکتی ہے، اس کی آواز میں ایسا پیغام بنایا جا سکتا ہے جو اس نے کبھی دیا ہی نہ ہو یا اس کی تصویر اور شناخت استعمال کرکے کسی دوسرے انسان کو دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کوئی جھوٹی تصویر یا ویڈیو گردش کر رہی ہے، اصل خطرہ یہ ہے کہ انسان کی اپنی آنکھ اور کان بھی ہر مرتبہ سچ اور جھوٹ کے درمیان قابل اعتماد فرق کرنے کی ضمانت نہیں دے سکتے ۔ اس لیے آستانہ کی کانفرنس میں ڈیپ فیک، غلط معلومات، ذاتی معلومات کے تحفظ اور مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونیوالے نئے سائبر خطرات پر خصوصی توجہ دی گئی۔ کانفرنس میں محفوظ سافٹ ویئر، ڈیٹا پروٹیکشن، اوپن سورس انٹیلی جنس، نقصان دہ سافٹ ویئر کے تجزیے اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ نئے سائبر خطرات جیسے موضوعات شامل تھے۔سائبر دنیا کا ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ حملہ آور ٹیکنالوجی کے استعمال میں مسلسل نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو غلط مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے تو سائبر حملوں کی رفتار اور پیچیدگی دونوں بڑھ سکتی ہیں ۔ اسی لیے اب دفاع بھی روایتی طریقوں تک محدود نہیں رہ سکتا۔ جس رفتار سے حملہ آور ٹیکنالوجی کو استعمال کر رہے ہیں، اسی رفتار سے دفاعی نظام، نگرانی کے طریقے اور مصنوعی ذہانت پر مبنی حفاظتی ذرائع تیار کرنا ضروری ہو چکا ہے۔ کانفرنس کے پروگرام میں اسی تصور کو عملی انداز میں بھی پیش کیا گیا۔ سائبر کمبیز کے تحت ہیکر ٹیموں کے درمیان ریڈ ٹیم اور بلیو ٹیم کی بنیاد پر مقابلے ہوئے، جہاں حملے اور دفاع کے عملی طریقوں کو آزمایا گیا۔ اس کے ساتھ قازقستان کی قومی ٹیم کے انتخاب کا مرحلہ بھی ہوا جو 2027 میں اٹلی میں ہونے والے بین الاقوامی سائبر سیکیورٹی اولمپیاڈ میں شرکت کریگی ۔ سائبر سیکیورٹی صرف دفاعی دیواریں بلند کرنے کا نام نہیں۔ اس کے لیے ایسے نوجوان ذہن بھی درکار ہیں جو حملہ آور کی سوچ کو سمجھ سکیں، کمزوریاں تلاش کر سکیں اور ان کمزوریوں کو جرم سے پہلے تحفظ میں تبدیل کر سکیں۔ آنیوالے برسوں میں سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کی ضرورت اسی طرح بڑھے گی جس طرح آج ہر ریاست کو ڈاکٹر، انجینئر اور دیگر ماہرین درکار ہیں۔آستانہ میں اسی دوران سی فائیو پلس ون کے پلیٹ فارم پر امریکہ نے وسطی ایشیا کے ڈیجیٹل اور سائبر سیکیورٹی شعبے کیلئے پانچ ملین ڈالر کی معاونت کا اعلان بھی کیا۔ یہ معاونت خطے میں سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل شعبے کی مضبوطی کیلئے استعمال کی جائے گی۔ سائبر سیکیورٹی اب کسی ایک ملک کا داخلی معاملہ نہیں رہی۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک ملک سے ہونے والا حملہ دوسرے ملک کے شہری، ادارے یا کاروبار کو متاثر کر سکتا ہے۔ ڈیجیٹل جرائم کی سرحدیں نہیں ہوتیں، اس لیے ان کا مقابلہ بھی صرف قومی سطح پر نہیں کیا جا سکتا۔ وسطی ایشیا جیسے خطے میں مشترکہ تعاون، معلومات کا تبادلہ، تربیت، محفوظ انفراسٹرکچر اور مالیاتی نظام کا تحفظ اسی وجہ سے اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ بڑی ریاستوں کے پاس ماہرین ہیں، بڑی کمپنیوں کے پاس سائبر سیکیورٹی کے شعبے ہیں اور مالیاتی ادارے اپنے دفاعی نظام بنا سکتے ہیں مگر عام شہری اکثر ایک جعلی فون کال، مشکوک لنک، چوری شدہ شناخت یا مصنوعی آواز کے سامنے تنہا کھڑا ہوتا ہے۔ اس کے پاس نہ سائبر ماہر ہوتا ہے اور نہ یہ جاننے کا کوئی آسان ذریعہ کہ سامنے آنے والی تصویر، آواز یا ویڈیو حقیقت ہے یا مصنوعی ذہانت کی تخلیق ہے۔ جہاں ڈیجیٹل قزاق اور بے بس انسان ایک دوسرے کے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ قزاق کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی ہے اور انسان کے پاس صرف اعتماد ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *