ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں ۔ قطر اور پاکستان کی ثالثی کے زریعے جنگ بندی کی 7 ایرانی شرائط امریکہ تک پہنچا دی گئیں ۔ ایران چاہتا ہے کہ ہر محاذ پر جاری جنگ بند ہو ایران کے اثاثے بحال ہوں امریکہ کی طرف سے ابنائے ہر مز کی ناکہ بندی ختم ہو ۔ صدر ٹرمپ فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ ایران پر بمباری کرنی چاہئے یا مزاکرات ۔ ٹرمپ نے دنیا بھر میں ایرانی فلائیٹس پر پابندی لگا دی ہے۔ یو این اجلاس کی سائیڈ لائین پر ہونے والے ایران امریکہ مزاکرات کامیاب نہ ہوسکے ان مزاکرات میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مریکہ کے کشنز اور وٹکوف سر جوڑ کر بیٹھے لیکن امریکی ہٹ دھرمی کی وجہ سے گھینٹوں جاری رہنے والے ان مزاکرات کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ اب دونوں جانب سے دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ٹرمپ ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی دے رہے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ایران سے معاہدہ ہو جائے گا ۔ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے جنرل اسمبلی کے خطاب کے دوران 77 ممالک کے مندوبین کا اسمبلی سے بائیکاٹ ظاہر کرتا ہے کہ دنیا کی اکثریت غزہ میں فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم اور نسل کشی کے خلاف ہے ۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ ٹرمپ ایک بار پھر ایران پر حملہ کریں اور اسے سبق سکھاہیں پہلے بھی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے کہنے پر 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا لیکن شکست آیت اللہ علی خامنائی سمیت کئی سیاسی رہنماں اور سائنس دانوں کو ہلاک کیا میناب سکول کے 200 بے گناہ معصوم بچوں کی ہلاکت کا کوئی جواز پیش نہ کر سکا اور نہ ہی تحقیقاتی رپورٹ کانگرس میں پیش کی جا سکی۔ ایرانی صدر پزشکیان نے UN کی جنرل اسمبلی کے خطاب میں امریکہ کی سر زمین پر کھڑے ہو کر امریکہ کو للکارا اور دہشت گرد قرار دیا۔ انہوں نے آیت اللہ علی خامنائی اور میناب سکول کی تباہ شدہ عمارت اور بچوں کی تصاویر لہرائیں۔ ایک طرف صدر ٹرمپ ایران مخالف بیانات دے رہے ہیں دوسری طرف عباس عراقچی، پارلیمنٹ کے سپیکر قالیباف اور پاسداران انقلاب کے ترجمان بھی سخت جواب دے رہے ہیں ۔ ان کا دعوی ہے کہ اگر اب امریکی نے ایران پر حملہ کیا تو اس۔ کا جواب پہلے سے زیادہ سخت اور خوفناک یوگا۔ آبنائے ہرمز کا کنٹرول اب بھی ایران کے ہاتھوں میں ہے اور اس کی مرضی کے بغیر کوئی جہاز ہرمز سے گزر نہیں پا رہا لیکن ایسی خبریں بھی آرہی ہیں کہ ہرمز پر ایران کی گرفت کمزور ہو رہی ہے اور سعودی عرب قطر اور دیگر خلیجی ممالک کے جہاز بھی آبنائے ہر مز سے گزر رہے ہیں ۔ چین کے صدر شی کا امریکہ میں ریڈ کارپٹ استقبال ہوا صدر ٹرمپ اور انکی اہلیہ روایت کے خلاف ائر پورٹ پر استقبال کے لئے موجود تھے چینی صدر نے ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر واپس آئیں اور ایران کے ساتھ معاملات طے کریں ۔ ایسا لگ رہا ہے کہ انہوں نے چینی صدر کے مشورے کو نہیں مانا اور وہ ابھی تک نیتن یاہو کے مشوروں پر عمل کرنا چاہ رہے ہیں۔ ایران پر سخت ترین آخری حملے کی باتیں ہو رہی ہیں اور پاکستان اور قطر کی طرف سے سفارت کاری بھی جاری ہے ثالثی کے سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی بھی بہت متحرک نظر آ رہے ہیں وہ چین کے کئی دورے کر چکے ہیں لیکن ٹرمپ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بات آگے نہیں بڑھ رہی۔ سپکر قالیباف نے کہا کہ اگر ایران اپنا تیل فروخت نہیں کر سکتا تو کوئی ملک بھی فروخت نہیں کر سکے گا ہم انفراسٹرکچر تباہ کر دیں گے ۔ صدر ٹرمپ دلدل میں پھنس چکے ہیں نہ وہ مزاکرات کر سکتے ہیں نہ جنگ جاری رکھ سکتے ہیں۔ وال سٹریٹ جنرل کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایرانی گرفت کمزور ہونے کی وجہ سے خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل بڑھ گئی ہے۔ پاسداران انقلاب نے ایک کھلے خط میں امریکی عوام سے اپیل کی ہے وہ موجودہ حکومت کو تبدیل کر دیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ آیت اللہ خامنائی زندہ ہیں اس لئے ایران سے مزاکرات ہو سکتے ہیں ۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد اور سوئٹزرلینڈ میں امریکی وفد کو لیڈ کرکے اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا وہ شروع سے جنگ کے خلاف اور سفارت کاری کے حق میں ہیں ۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اگلے انتخابات میں صدارت کے امیدوار ہیں ایران جنگ کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ قطری ثالتوں نے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے بارے میں امریکہ کا جواب ایرانی قیادت کو پہنچا دیا ہے ۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس بارے میں جلد پیشرفت ہو گی۔ ایرانی صدر پرشکیان نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت نے ہماری عزت رکھی اور امریکہ کو بھی پابند کیا۔ یو این سیکرٹری جنرل جنگیں بند کرنے کی بات کرتے ہیں چین نے بھی ٹرمپ کو اسلام آباد معاہدے کی طرف واپسی کی بات کی ہے پاکستان کی عسکریہ اور سول قیادت دونوں ممالک کے درمیان سفارت کاری کر رہی ہے ۔ ادھر امریکی وزیر دفاع ہیگستھ نے اعلان کیا ہے کہ چالیس سال بعد امریکہ میں یہ بڑی چھانی بنوائی جا رہی ہے جس میں جدید ٹیکنالوجی استعمال ہوگی ۔ فوجیوں کے بچوں کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں دی جائیں گی۔ اس امریکی Base میں 15 سے 25 ہزار فوجیوں کے رہنے کی گنجائش ہو گی ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ بھرپور جنگی تیاریاں کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے AI سربراہوں سے ملاقات کی روشنی میں ایلن مسک اور دیگر ماہرین کو ڈرونز کی تیاری میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر 120 روز کے اندر رپورٹ تیار کرنے کے لئے کہا ہے۔ ایرانی شرائط کے امریکی جواب پر امید پیدا ہوئی ہے کہ ایران امریکہ تنازع جلد حل ہو جائے ہرمز کھل جانے سے تیل کی قیمتیں نیچے آئیں گی اور دنیا بھر میں مہنگاء کا خاتمہ ہو گا ۔ آہستہ آہستہ برف پگلنا شروع ہوئی ہے آنے والے دنوں میں مثبت پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں