ذرا تصور کیجیے اسلام آباد میں ایک گھر ہے۔ رات کے گیارہ بجے ہیں۔بچے سو رہے ہیں باورچی خانے میں چولہا جل رہا ہے پنکھا چل رہا ہے اور گھر کا سربراہ اطمینان سے یہ سمجھ رہا ہے کہ صبح بھی زندگی اسی طرح چلتی رہے گی۔ اسے کیا معلوم کہ اس کے گھر کے چولہے کی ایک ڈور ہزاروں میل دور سمندر میں تیرتے ہوئے ایک ایسے راستے سے بندھی ہوئی ہے جس کا نام شاید اس نے صرف جغرافیہ کی کتاب میں پڑھا تھا۔پھر اچانک اس راستے پر جہاز رک جاتے ہیں۔اور دنیا کے ایک کونے میں پیدا ہونے والا بحران دوسرے کونے میں ایک عام آدمی کے گھر کا حساب بدل دیتا ہے۔یہ راستہ آبنائے ہرمز ہے۔نقشے پر یہ ایک تنگ سی آبی گزرگاہ ہے مگر عالمی معیشت کے لیے یہ کسی شہ رگ سے کم نہیں۔ اس کے راستے سے توانائی کی ایک بڑی مقدار دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچتی ہے۔ اس کی روانی میں خلل پڑے تو صرف سمندر خاموش نہیں ہوتا مارکیٹ بھی شور مچانے لگتی ہے۔وائی ورلڈ نیوز نے بلومبرگ کے حوالے سے بتایا ہے کہ قطر انرجی نے پاکستان اور بنگلہ دیش کو آگاہ کر دیا ہے کہ ایل این جی کارگوز کی منسوخی نومبر تک جاری رہ سکتی ہے۔ وجہ امریکا اور ایران کی جنگ کے بعد آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی شدید بحری رکاوٹ ہے۔بظاہر یہ ایک خبر ہے۔مگر اس خبر کے پیچھے بھی ایک عدد کھڑا ہے۔اور وہ عدد معمولی نہیں۔509۔گزشتہ سال اسی چھ ماہ کے دوران قطر نے 509 ا یل این جی کارگوز بھیجے تھے مگر جنگ کے پہلے چھ ماہ میں یہ تعداد گھٹ کر صرف 18 رہ گئی۔509 سے 18 یہ عالمی توانائی کے نظام کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ہماری مشکل یہ ہے کہ ایل این جی ہمارے لیے صرف گیس نہیں۔ یہ بجلی ہے، صنعت ہے، کھاد ہے، روزگار ہے اور بالآخر گھر کا بجٹ ہے۔قطر سے آنے والا ایل این جی کارگو جب بندرگاہ پر پہنچتا ہے تو صرف ایک جہاز نہیں اترتا اس کے ساتھ بجلی گھروں کیلئے ایندھن، صنعت کیلئے توانائی اور معیشت کیلئے ایک سہارا بھی پہنچتا ہے۔اور جب وہ جہاز نہیں پہنچتا تو مسئلہ بھی صرف بندرگاہ پر نہیں رکتا۔وہ آگے بڑھتا ہے۔بجلی کے پلانٹ تک ۔ فیکٹری تک۔بازار تک اور آخر میں عام آدمی کی جیب تک۔پاکستان پہلے ہی درآمدی توانائی پر بھاری انحصار رکھتا ہے۔ اب اگر خلیج کے اندر ہی سپلائی متاثر ہو جائے تو متبادل حاصل کرنا آسان کام نہیں۔کیونکہ عالمی مارکیٹ کوئی ایسی دکان نہیں جہاں جا کر کہا جائے کہ قطر کی گیس نہیں مل رہی کوئی دوسری دکھا دیں۔دنیا بھر کے خریدار اسی دکان کے سامنے کھڑے ہیں۔یورپ کو گیس چاہیے۔چین کو چاہیے۔جاپان کو چاہیے۔جنوبی کوریا کو چاہیے۔بھارت کو چاہیے۔بنگلہ دیش کو چاہیے۔اور پاکستان بھی اسی قطا ر میں کھڑا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ ملکوں کے پاس زیاد ہ پیسہ ہے اور کچھ کے پاس کم۔مارکیٹ میں جب مال کم اور خریدار زیادہ ہوں تو دو چیزیں یقینی ہوتی ہیں۔قطار لمبی ہوتی ہے اور قیمت بڑھ جاتی ہے۔پاکستان نے حالیہ بحران میں اس کا ذائقہ چکھ بھی لیا ہے۔ ایک اسپاٹ ایل این جی کارگو کے لیے تقریباً 21.88 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ادا کیے گئے۔ جنگ سے پہلے جس گیس کی قیمت نسبتاً کم سطح پر تھی وہ بحران کے دوران کئی گنا دباؤ کا شکار ہوئی۔یہ اضافی قیمت آخر کون ادا کرے گا۔ریاست بجلی کا شعبہ یا صنعت۔یا وہ عام شہری جو پہلے ہی بجلی، پٹرول، آٹا اور بچوں کی فیس کے درمیان اپنا بجٹ تقسیم کرتے ہوئے تھک چکا ہے۔اگر گیس مہنگی ہوگی تو بجلی کی پیداواری لاگت بڑھے گی۔بجلی مہنگی ہوگی تو صنعت کی لاگت بڑھے گی۔ صنعت مہنگی ہوگی تو مصنوعات مہنگی ہوں گی۔مصنوعات مہنگی ہوں گی تو مہنگائی بڑھے گی۔اور مہنگائی بڑھے گی تو تنخوا ہ وہی رہے گی مگر مہینے کے دن زیادہ مشکل محسوس ہونے لگیں گے۔غریب آدمی کیلئے مہنگائی صرف قیمت میں تبدیلی کا نام نہیں اچھے وقت کی امید کم ہوتے رہنے کا نام ہے ۔ سردی میں گیس کی طلب بڑھتی ہے اور پاکستان کو نو مبر دسمبر اور جنوری کے لیے اضافی ایل این جی کارگوز درکار ہوں گے۔ اگر قطر کی سپلائی معمول پر نہ آئی تو حکومت کو عالمی مارکیٹ سے متبادل گیس خریدنا پڑ سکتی ہے۔لیکن سوال پھر وہی ہے۔گیس ملے گی کس قیمت پر ۔ اور اگر قیمت ہماری برداشت سے باہر ہوئی تو ۔ یہیں سے ایک معمولی تجارتی مسئلہ قومی سلامتی کے مسئلے میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ جس ملک کی صنعت توانائی کے بغیر نہیں چل سکتی اس کیلئے توانائی صرف معاشی ضرورت نہیں رہتی۔وہ قومی سلامتی بن جاتی ہے۔بعض عالمی ماہرین کا خیال ہے کہ ایل این جی کی عالمی مارکیٹ کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں 2028 تک وقت لگ سکتا ہے۔ہم پاکستانی کب تک ایک راستے ایک خطے یا چند سپلائرز پر انحصار کرتے رہیں گے۔ ہم کب تک بحران آنے کے بعد متبادل تلاش کرتے رہیں گے۔ہم کب تک یہ سوچتے رہیں گے کہ اگلی بار حالات بہتر ہوں گے۔ حالات ہمیشہ بہتر نہیں ہوتے۔قومیں حالات بہتر ہونے کا انتظار نہیں کرتیں اپنے نظام بہتر کرتی ہیں۔پاکستان کے پاس سورج ہے ۔ ہوا ہے۔پانی ہے۔کوئلہ ہے۔قابلِ تجدید توانائی کے امکانات ہیں۔مگر وسائل اور حکمتِ عملی میں وہی فرق ہے جو خزانے اور چابی میں ہوتا ہے۔ خزانہ موجود ہو اور چابی نہ ہو تو دولت ہاتھ نہیں آتی۔آبنائے ہرمز نے ہمیں ایک بار پھر ہماری کمزوری دکھا دی ہے۔ہماری توانائی کی ڈور ابھی بھی دوسروں کے ہاتھ میں ہے۔اور تاریخ کا اصول بڑا سادہ ہے۔ جس قوم کی بنیادی ضرورت کسی دوسرے کے فیصلے سے جڑی ہو وہ مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتی۔ آبنائے ہرمز کی یہ کہانی صرف قطر، ایران، امریکا یا ایل این جی کی کہانی نہیں۔یہ پاکستان کے مستقبل کی کہانی ہے۔یہ ہماری ترجیعات کی کہانی ہے اور شاید اس پوری داستان کا سب سے خوفناک جملہ یہ ہے۔اگر دنیا کے نقشے پر ایک تنگ سی آبی گزرگاہ ہماری معیشت کی اتنی بڑی کمزوری بن سکتی ہے تو ہمیں سمندر سے پہلے اپنی پالیسیوں میں راستہ تلاش کرنا ہوگا۔کیونکہ اگلی بار شاید سوال یہ نہ ہو کہ قطر کا جہاز کب آئے گا۔سوال یہ ہوگا۔کیا پاکستان نے اس وقت تک اپنے لیے کوئی دوسرا راستہ بنا لیا ہوگا۔اور اگر جوا ب نہیں ہوا تو یاد رکھیے سمندر کبھی کسی ملک کا انتظار نہیں کرتا مگر تاریخ ضرور کرتی ہے وہ انتظار کرتی ہے کہ قومیں بحران سے سبق سیکھتی ہیں یا بحران کے ختم ہونے کے ساتھ اپنا سبق بھی بھول جاتی ہیں۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں