ہماری ریاست بڑی معصوم ہے۔ ہر بحران اسے اچانک آتا ہوا دکھائی دیتا ہے ، ہر سیاسی بے چینی کے پیچھے اسے کوئی دوسرا ہاتھ نظر آتا ہے، ہر احتجاج کسی اور کی شرارت محسوس ہوتا ہے اور ہر ناکامی کی ذمہ داری بھی عموماً کسی دوسرے کے دروازے پر جا کر رک جاتی ہے۔ مگر عوام کا سوال کچھ اور ہے۔ وہ یہ نہیں پوچھتے کہ الزام کس پر ہے، وہ یہ پوچھتے ہیں کہ حالات اس مقام تک پہنچے کیسے؟ وہ حکومتی بیانیے سے زیادہ اپنی زندگی دیکھتے ہیں۔ بازار میں قیمتیں، اپنی آمدن، بچوں کا مستقبل اور گھر کا بجٹ دیکھتے ہیں اور پھر سوال کرتے ہیں کہ آخر یہ بے یقینی کب ختم ہوگی؟ یہ سوال اب محض سیاسی نہیں رہا، روزمرہ زندگی کا سوال بن چکا ہے کہ عوام کو ریسکیو کون کرے گا، اس ملک میں بہتری کون لائے گا۔جب ریاستی اور حکومتی فیصلوں کے بارے میں مسلسل غیر یقینی ہو، پالیسی کا رخ بار بار بدلتا محسوس ہو اور حکومت و ریاستی اداروں کے بیانات سے اعتماد پیدا ہونے کے بجائے مزید سوالات جنم لیں تو سب سے پہلے اس کا بوجھ عام آدمی اٹھاتا ہے۔ جس کے پاس سرمایہ ہے وہ انتظار کر سکتا ہے، جس کے پاس وسائل ہیں وہ راستہ نکال سکتا ہے، مگر جسکے پاس صرف اپنی روزی ہے یا وہ مانگ تانگ کے زندگی گھسیٹ رہا ہے، جو زندہ لاش ہے، اس کیلئے ہر نئی بے یقینی زندگی کی ایک نئی قیمت لے کر آتی ہے۔یہاں ریاستی ذمہ داری کا بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا اختیار صرف فیصلہ کرنے کا نام ہے یا ذمہ داری قبول کرنے کا بھی؟ ہمارے ہاں اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فیصلہ کرنے کا اختیار حکومت اور ریاستی نظام کے پاس رہتا ہے، مگر فیصلوں کے نتائج کی ذمہ داری کہیں اور تلاش کی جاتی ہے۔ بحران پیدا ہو تو سیاسی مخالفین کا ذکر شروع ہو جاتا ہے، معاشی مشکلات ہوں تو عالمی حالات، سابقہ حکومتیں یا بیرونی عوامل سامنے آ جاتے ہیں، سیاسی بے چینی ہو تو انتشار کا الزام لگایا جاتا ہے، مگر یہ سوال کم سنائی دیتا ہے کہ موجودہ فیصلوں نے حالات کو بہتر بنانے میں کیا کردار ادا کیا اور اگر حالات مزید پیچیدہ ہوئے تو اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟یہ سوال کسی ایک جماعت یا ایک حکومت کیخلاف نہیں، اقتدار کے ہر مرکز کے سامنے کھڑا ہونا چاہیے۔ جسکے پاس اختیار زیادہ ہے، اس سے جواب بھی زیادہ مانگا جانا چاہیے۔ ماضی کی غلطیاں اپنی جگہ، لیکن موجودہ اختیار رکھنے والے ہمیشہ ماضی کو اپنے فیصلوں کا جواز نہیں بنا سکتے۔ اختیار جہاں ہے، سوال بھی وہیں ہونا چاہیے۔اعتماد کسی بھی ریاست کی اصل دولت ہوتا ہے۔ حکومت کے پاس وسائل کم ہو سکتے ہیں، مشکلات بے شمار ہو سکتی ہیں، مگر اگر عوام کو یقین ہو کہ فیصلے شفاف ہیں، قانون سب کیلئے یکساں ہے اور حکومت اپنے فیصلوں کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرتی ہے تو مشکل وقت بھی برداشت کیا جا سکتا ہے۔ اسکے برعکس جب اعتماد کم ہو جائے تو معمولی فیصلہ بھی شک پیدا کرتا ہے۔ حکومت کوئی اعلان کرے تو لوگ اس کے پیچھے اصل پالیسی تلاش کرتے ہیں، معاشی قدم اٹھایا جائے تو بازار اسے غیر یقینی کی نظر سے دیکھتا ہے اور سیاسی فیصلہ سامنے آئے تو اس کے اگلے مرحلے کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ یوں بے یقینی خود ایک معاشی اور سماجی قوت بن جاتی ہے۔ کاروبار، سرمایہ کاری، روزگار اور عام آدمی کے فیصلے اس سے متاثر ہوتے ہیں۔سیاست بھی صرف حکومت کا نام نہیں، اس میں عوام، پارلیمان، اپوزیشن، میڈیا، سول سوسائٹی اور ادارے سب شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے پالیسی جتنی زیادہ مرکزی اور یک طرفہ ہوگی، غلطی کی صورت میں نقصان کا دائرہ بھی اتنا ہی وسیع ہو سکتا ہے۔یہاں ایک بنیادی سوال پھر سامنے آتا ہے، کیا عوام کو صرف سرکاری بیانات چاہئیں یا وہ اپنے حالات میں تبدیلی بھی دیکھنا چاہتے ہیں؟ اگر حکومت کہے کہ سب کچھ درست سمت میں جا رہا ہے مگر عام آدمی اپنی زندگی میں مسلسل دباؤ محسوس کرے تو سرکاری بیانیے اور عوامی تجربے کے درمیان ایک خلا پیدا ہوتا ہے۔ یہی خلا رفتہ رفتہ اعتماد کے فقدان میں بدل جاتا ہے۔عوام پہلے ہی زندہ رہنے کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں سیاسی کشیدگی صرف ٹیلی وژن کی خبر نہیں رہتی، اس کا اثر گھر کے چولہے تک پہنچتا ہے۔ یہ اس مزدور کا مسئلہ ہے جسے معلوم نہیں کہ اگلے مہینے کام ملے گا یا نہیں، اس نوجوان کا مسئلہ ہے جو تعلیم مکمل کر کے روزگار کی تلاش میں ہے، ان والدین کا مسئلہ ہے جو بچوں کی فیس اور گھر کے اخراجات میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس چھوٹے کاروباری کا مسئلہ بھی ہے جو ہر نئی پالیسی کے ساتھ اپنا حساب دوبارہ بناتا ہے۔ اس لیے کسی ایک سیاسی فریق کو تمام مسائل کا ذمہ دار قرار دینا شاید سب سے آسان راستہ ہے، مگر آسان راستہ ہمیشہ درست راستہ نہیں ہوتا۔ اصل سوال اقتدار سے ہونا چاہیے۔ جسکے پاس آج فیصلہ سازی کا اختیار ہے، اسے آج کے حالات کی وضاحت بھی دینی ہوگی۔ جمہوری ریاست میں آئینی اور پرامن دائرے میں سوال اٹھانا دراصل ریاستی صحت کی علامت ہو سکتا ہے۔ اگر حکومت اپنے ہر فیصلے کو قومی مفاد اور ہر اختلاف کو قومی خطرہ سمجھنے لگے تو اعتماد مزید کمزور ہوگا۔ قومی مفاد کی مضبوط بنیاد یہی ہے کہ عوام کو محسوس ہو کہ ریاست ان کی زندگی کو سمجھتی ہے اور حکومت اپنے فیصلوں کے لیے جواب دہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ عوام کب تک غیر یقینی میں زندہ رہیں گے؟ ملک کب تک سیاسی کشیدگی، بدلتے بیانیوں اور پالیسی کے اتار چڑھا کے درمیان اپنی معاشی سمت تلاش کرتا رہے گا؟ کاروبار کب تک انتظار کرے گا، نوجوان کب تک مستقبل کے بارے میں سوال کرتا رہے گا اور گھرانے کب تک اپنے بجٹ میں نئی مشکل کے لیے جگہ نکالتے رہیں گے؟یہ کہنا آسان ہے کہ ملک کے مسائل کی وجہ کوئی دوسرا ہے، مگر اصل قیادت وہ ہوتی ہے جو مشکل وقت میں ذمہ داری لینے سے نہ گھبرائے۔ اگر پالیسی درست ہے تو اس کے نتائج عوام کو نظر آنے چاہئیں، اگر اس میں خامی ہے تو اس پر نظر ثانی ہونی چاہیے، اگر فیصلوں سے نقصان ہوا ہے تو اس کی وضاحت ہونی چاہیے اور اگر عوام نے اس کی قیمت ادا کی ہے تو حکومت کو بتانا ہوگا کہ اس قیمت کو کم کرنے کیلئے کیا کیا جا رہا ہے۔ یہی جواب دہی ہے اور یہی ریاستی اعتماد کی پہلی شرط بھی۔ہمیں ایسی ریاست نہیں چاہیے جو ہر بحران کے بعد اپنی معصومیت ثابت کرنے لگے۔ ہمیں ایسی ریاست چاہیے جو اپنے اختیار کو اپنی ذمہ داری سمجھے۔ ایسی حکومت چاہیے جو پالیسی کو اجارہ داری کے بجائے مشاورت کا عمل بنائے، اختلاف کو دشمنی نہ سمجھے اور عوامی مشکلات کو محض اعداد و شمار کے بجائے انسانی زندگی کے تناظر میں دیکھے۔ کیونکہ ریاست کی اصل طاقت اس بات میں نہیں کہ وہ ہر سوال کو خاموش کرا دے، اصل طاقت اس میں ہے کہ وہ سوال سن سکے اور جواب دے سکے۔ آخر یہ کس کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں اعتماد بحال ہو؟ یہ کس کی ذمہ داری ہے کہ بے یقینی کی فضا ختم ہو؟ یہ کس کی ذمہ داری ہے کہ عام آدمی کو ہر صبح ایک نئی پریشانی کے ساتھ نہ جاگنا پڑے؟ یہ سوال اب کسی ایک جماعت، کسی ایک رہنما یا کسی ایک ادارے تک محدود نہیں رہا۔ جس کے پاس اختیار ہے، اسکے پاس ذمہ داری بھی ہے اور جس کے فیصلوں کا اثر کروڑوں لوگوں کی زندگی پر پڑتا ہے اسے ان فیصلوں کا حساب بھی دینا ہوگا۔ورنہ گونجتے سوال بڑھتے جائیں گے، اعتماد کم ہوتا جائے گا اور بے یقینی کی یہ فضا ملک کے اجتماعی مستقبل پر سایہ ڈالتی رہے گی۔ آخر سوال وہی ہے کہ یہ بے یقینی کب ختم ہوگی؟ عوام کو کب معلوم ہوگا کہ کل آج سے بہتر ہوگا؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا ہماری معصوم ریاست کبھی آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر یہ سوال خود سے بھی کرے گی کہ اس بحران میں اس کی اپنی ذمہ داری کتنی ہے؟ شاید اسی سوال کا دیانت دار جواب اعتماد کی واپسی کا پہلا قدم ہو۔ ورنہ عوام اب اس پورے نظام سے مکمل مایوس ہو چکی ہے جس میں اجارہ داری اور اقتدار کی جنگ کے علاوہ کسی اور مقصد کے آثار مفقود ہیں۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں