بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 21.3°C
Tuesday, 06 October 2026 | پاکستان: 25 ر بیع الثانی 1448

میانوالی ملتان موٹر وے ۔۔۔!

Tuesday, 6 October, 2026

میانوالی سے ملتان کا فاصلہ291کلومیٹر ہے۔ میانوالی،بھکر، لیہ کوٹ ادو ، مظفر گڑھ اور ملتان کا خطہ اپنی ثقافتی تنوع، قدیم تاریخ اور مہمان نوازی کی وجہ سے پاکستان میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے،جو صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا کے سنگم پر واقع ہے، یہاں سرائیکی اور پشتون ثقافت کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ یہاں کی اکثریتی زبان سرائیکی ہے لیکن پشتو بھی بڑے پیمانے پر بولی جاتی ہے۔ میانوالی کو موسیقی کی دھرتی بھی کہا جاتا ہے۔ عطا اللہ خان عیسی خیلوی جیسے لیجنڈ گلوکار کا تعلق اسی مٹی سے ہے، جن کے لوک گیت پورے پاکستان میں مقبول ہیں ۔ میانوالی اور ضلع بھکر بغلگیر ہیں۔بھکر شہر کی بنیادپندرہ ویں صدی کے آخر میں ایک بلوچ سردار خان بلوچ نے رکھی تھی جس نے اپنے پیارے بیٹے بکھر خان کے نام پر اس کا نام بھکررکھا۔ بھکر کے دلکشا باغ، صوفیانہ مرکز خانقاہ حمیدیہ اور اندرون شہر کی سرخ اینٹوں سے بنی ہندو و سکھ دور کی حویلیاں قابل دید ہیں۔یہ مقامات نہ صرف شہنشاہ ہمایوں کے سفر اور صوفی سنتاں کی روایات کے امین ہیں بلکہ اس خطے کے منفرد سرائیکی طرز تعمیر اور متنوع مذہبی و تاریخی ورثے کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ ان قدیم مزارات، باغات اور حویلیوں کے آثار دریا خان اور بھکر کے اردگرد ماضی کی خوبصورتی کی داستان سناتے ہیں۔بھکر اور لیہ کے اضلاع صحرائے تھل کا حصہ ہیں جس کی وجہ سے یہاں کا طرز زندگی سادگی اور جفا کشی پر مبنی ہے۔ یہاں سرائیکی زبان کا تھلوچی لہجہ بولا جاتا ہے۔ لوگ انتہائی سادہ، محنتی اور مہمان نواز ہیں۔ یہاں میلہ کروڑ لعل عیسن اور دیگر درگاہوں پر سالانہ عرس بہت جوش و خروش سے منائے جاتے ہیں جہاں جھومر روایتی رقص، نیزہ بازی اور اونٹوں کی دوڑ کے مقابلے ہوتے ہیں۔ صحرائی علاقہ ہونے کی وجہ سے روایتی طور پر یہاں مٹی کے گھر اور کھجور کے پتوں سے بنی اشیا چٹائیاں اور ٹوکریاں بہت مشہور ہیں۔ ضلع بھکر کے وسیب میں ضلع لیہ ہے، ماضی میں اس صحرائی خطے میں ایک خاص قسم کی جنگلی چھوٹے قد کی خوشبودار جھاڑی کثرت سے اگتی تھی جسے مقامی زبان میں لئی یا لئیان کہا جاتا تھا۔ اسی مناسبت سے یہ علاقہ لیہ کہلانے لگا۔ لیہ شہر کی بنیاد 1550 میں بلوچ حکمران کمال خان میرانی نے رکھی تھی۔ بعد میں یہ جسکانی بلوچوں اور سکھوں کے زیر اثر بھی رہا۔ لیہ شہر کے مرکز میں واقع ایک شاندار تاریخی عمارت سکھ اور برطانوی دور کے ایک انتہائی امیر اور بااثر ہندو رئیس رائے بہادر تلوک چند کا بنگلہ ہوا کرتا تھا۔ اپنی خوبصورت سرخ اینٹوں اور قدیم طرز تعمیر کی وجہ سے یہ عمارت منفرد حیثیت رکھتی ہے اور آج کل یہاں گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی اسکول لیہ قائم ہے۔ لیہ شہر سے تقریبا 18 کلومیٹر دور چک ساہو والا میں واقع ایک نہایت قدیم ہندو مندر ہے۔ یہ 1526 میں تعمیر ہوا تھا۔ اپنی قدیم محرابوں اور طرز تعمیر کی وجہ سے یہ محققین اور تاریخ دانوں کیلئے گہری دلچسپی کا حامل ہے۔ لیہ شہر کے اندرونی حصے میں سکھ مت کی روایات سے جڑا ایک قدیم اداسی ڈیرا اور مندر واقع ہے۔لیہ کے قرب میں ضلع کوٹ ادو جغرافیائی اور اقتصادی طور پر بہت اہم شہر ہے۔ کوٹ ادو پاکستان کے عظیم صوفی اور لوک گلو کار پٹھان خان کا مسکن رہا ہے۔ ان کا گایا ہوا کلام میڈا عشق وی توں آج بھی سرائیکی موسیقی کی پہچان ہے۔ یہاں پاکستان کا ایک بڑا پاور پلانٹ اور پاک عرب ریفائنری واقع ہیں۔ کوٹ ادو کے قریب دریائے سندھ پر واقع تونسہ بیراج ایک بہترین پکنک پوائنٹ ہے۔ سردیوں میں یہاں سائبیریا سے آنیوالے مہاجر پرندے اور دریائے سندھ کی نایاب اندھی ڈولفن سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتی ہیں۔ مظفر گڑھ کی بنیاد نواب مظفر خان کے نام پر رکھی۔ 1794 میں ملتان کے افغان گورنر نواب مظفر خان سدوزئی نے دریائے چناب اور دریائے سندھ کے درمیان اس اسٹریٹجک مقام پر ایک مضبوط قلعہ تعمیر کروایا۔اس جگہ پر پہلے موسن ہٹی نامی ایک مشہور دکان اور چھوٹی سی آبادی ہوا کرتی تھی جو ملتان سے ڈیرہ غازی خان جانیوالے راستے پر تھی۔ نواب مظفر خان نے دفاعی مقاصد کیلئے یہاں ایک بڑا قلعہ بنوایا جس کے نام پر یہ شہر مظفر گڑھ کہلایا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اور آبادی بڑھنے کی وجہ سے قلعے کی اصل فصیلیں اور برج تو منہدم ہو چکے ہیں لیکن آج کا پرانا شہر اندرون شہر اسی قلعے کی حدود کے اندر بسا ہوا ہے۔ اس پرانے حصے کی تنگ گلیاں اور قدیم طرز تعمیر اب بھی اس کے قلعہ بند ماضی کی گواہی دیتے ہیں۔ نواب مظفر خان کے دور میں ان کی بہن خان بی بی نے خان گڑھ میں اور ان کے بھائی نواب غضنفر خان نے غضنفر گڑھ میں بھی قلعے تعمیر کروائے تھے جن کے آثار آج بھی میں پائے جاتے ہیں۔ جون 1818 میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سکھ فوج نے ایک خونی معرکے کے بعد ملتان اور مظفر گڑھ پر مکمل قبضہ کر لیا تھا جس میں نواب مظفر خان بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ اس کے بعد یہاں سکھ سلطنت قائم ہوئی۔ رنجیت سنگھ نے دیوان ساون مل کو اس پورے خطے ملتان اور مظفر گڑھ کا گورنر مقرر کیا۔ ساون مل کے دور میں مظفر گڑھ اور کوٹ ادو میں بہت سی انتظامی عمارتیں، نہری نظام اور حفاظتی چوکیاں تعمیر ہوئیں جنہیں مقامی لوگ آج بھی سکھ دور کی نشانیاں کہتے ہیں۔ مظفر گڑھ کے مختلف قصبوں جیسے خان گڑھ ، ست پور اور کوٹ ادو کے دیہی علاقوں میں سکھ اور ہندو اشرافیہ کی بڑی بڑی حویلیاں موجود تھیں۔ ان حویلیوں میں چھوٹی سرخ اینٹ گٹھی اینٹ، لکڑی کے خوبصورت جھروکے اور نقش و نگار والے دروازے سکھ طرز تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں۔ تقسیم ہند سے قبل یہاں سکھ اور ہندو برادری کی بڑی تعداد آباد تھی، اس لیے اس دور کے کئی گوردوارے اور مندر اس علاقے میں بنے۔ اگرچہ ان میں سے زیادہ تر اب خستہ حالی کا شکار ہیں یا رہائشی مقاصد کیلئے استعمال ہو رہے ہیں لیکن ان کے گنبد اور محرابیں دور سے ہی پہچانی جاتی ہیں۔ ملتان کی طرح مظفر گڑھ کے آم خاص طور پر چونسہ، انور رٹول اور لنگڑا اپنی مٹھاس اور خوشبو کی وجہ سے پوری دنیا میں ایکسپورٹ کیے جاتے ہیں۔ یہاں کی خواتین ہاتھ کی کڑھائی گھولی اور تار کشی کے کام میں مہارت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں خس ایک خوشبودار گھاس سے بنے روایتی پنکھے اور چٹائیاں بنائی جاتی ہیں۔ قارئین کرام!دائود خیل انٹرچینج (میانوالی) سے ملتان تک موٹروے تعمیر ناگزیر ہے کیونکہ یہ محض ایک سڑک نہیں بلکہ پورے خطے کی تقدیر بدلنے والا ایک بڑا گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔جب یہ پراجیکٹ مکمل ہو کر آپریشنل ہو جائے گا تو اس سے نہ صرف میانوالی، بھکر، لیہ، کوٹ ادو، اور مظفر گڑھ کے کروڑوں مقامی لوگوں کو بہترین اور تیز ترین سفری سہولت ملے گی بلکہ یہ بین الاقوامی سیاحوں اور سرمایہ کاروں کیلئے بھی ترقی کے نئے دروازے کھول دے گا۔ ماضی میں سڑکوں کے طویل اور کٹھن سفر کی وجہ سے غیر ملکی سیاح ان علاقوں کا رخ کرنے سے کتراتے تھے لیکن موٹروے بننے سے یہ تمام اہم مقامات دنیا کے سامنے آ جائیں گے۔ صحرائے تھل میں دبئی کی طرز پر ڈیسریٹ سفاری اور تھل جیپ ریلی کو بین الاقوامی سطح پر فروغ ملے گا۔ موٹروے کے ذریعے غیر ملکی سیاح چند گھنٹوں میں اسلام آباد سے سیدھے تھل کے ریتلے ٹیلوں تک پہنچ سکیں گے۔ ملتان کے عظیم مزارات، کروڑ لعل عیسن کا تاریخی دربار اور لیہ و مظفر گڑھ کے قدیم مندر بین الاقوامی محققین اور مذہبی سیاحوں کے لیے انتہائی سستی اور آسان رسائی میں آ جائیں گے۔یہ موٹروے میانوالی سے ملتان تک کے پورے بیلٹ کو پسماندگی کے اندھیروں سے نکال کر بین الاقوامی سطح کی اقتصادی اور سیاحتی سرگرمیوں کا مرکز بنا دے گی۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *