کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر اقتدار میں رہنے کے لیے ایک ایسے الیکشن کمیشن کے خواہاں ہیں جو محض ‘ربڑ اسٹیمپ کا کردار ادا کرے۔ ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی مہم کے تحت اب تک 13 کروڑ 30 لاکھ رائے دھندگان کے نام خارج کر دیے گئے ہیں، جوایک شخص، ایک ووٹ کے اصول کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ الیکشن کمیشن نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شواہد کے ساتھ اٹھائے گئے ای وی ایم اور ووٹر فہرستوں میں ردوبدل سے متعلق خدشات کو نظر انداز کیا اور اس کے بجائے ‘ایس آئی آر’ کا سہارا لیا، جس سے حقیقی ووٹرز حقِ رائے دہی سے محروم ہو گئے۔ کھرگے نے چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دو ساتھی کمشنروں نے 10 ماہ کے دوران 14 بار انہیں خط لکھ کر ان کی دیانتداری پر سوال اٹھائے تھے۔انہوں نے 2023 کے اس قانون کا بھی حوالہ دیا جس کے تحت چیف جسٹس کو الیکشن کمیشن کے انتخابی پینل سے ہٹا دیا گیا اور چیف الیکشن کمشنر و دیگر کمشنروں کو مکمل استثنیٰ دے دیا گیا۔ سپریم کورٹ خود یہ مشاہدہ کر چکی ہے کہ انتخابی کمیٹی میں کابینہ کے وزیر کی شمولیت سے اپوزیشن لیڈر کی موجودگی محض ”نمائشی” رہ جاتی ہے، اور یہ کہ الیکشن کمیشن کا نہ صرف آزاد ہونا ضروری ہے بلکہ اسے آزاد نظر بھی آنا چاہیے۔ کئی ریاستوں میں ووٹر لسٹوں سے مخالف ووٹوں کا صفایا کرنے کے بعد بھارت پر قابض ہندوتروا کے بجاریوں کا الیکشن کمیشن اب اتراکھنڈ میں ووٹر لسٹوں سے مودی کے مخالف ووٹروں کو چن چن کر نکال رہا ہے۔ 95 ہزار ووٹروں کے ووٹ منسوخ کئے جانے کی شکایات سامنے آ چکی ہیں۔ اب اتراکھنڈ کی ووٹر لسٹ تنازعہ سامنے آ رہا ہے، 95 ہزار سے زیادہ ووٹر نااہل قرار دیئے جا چکے ہیں۔ کئی دوسری ریاستوں مین ووٹر لسٹوں میں مسلمانوں اور دوسری مذہبی اقلیتوں اور دلت برادریوں کے ووٹوں کی بھاری تعداد کو نکال دیئے جانے پر بھی اپوزیشن کانگرس اور دوسری اپوزیشن پارٹیوں نے احتجاج اور واویلا کیا تھا لیکن کوئی انصاف نہیں ملا تھا، اب اتراکھنڈ میں ووٹر لسٹوں کے اندر گھس کر دھاندلا کرنے کا آغاز ہوا ہے تو یہاں بھی کانگرس اور دوسری پارٹیوں نے شور مچانے کا آغاز کر دیا ہے۔ کانگرس پارٹی کی لیڈر کماری شیلجا نے الزام لگایا کہ 42,030 فارمـ7 درخواستیں اے ای آر او کے نام پر اور 22,443 درخواستیں ای آر او کے نام پر درج ہوئی ہیں، جبکہ یہ تمام ووٹرز پہلے سے ڈرافٹ لسٹ میں شامل تھے۔چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو لگاتار تنقید کا سامنا ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس نے ایسے انکشافات کیے ہیں، جس سے الیکشن کمیشن آف انڈیا کٹہرے میں کھڑا نظر آ رہا ہے۔ اب اتراکھنڈ میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی تنازعہ کا شکار ہو گئی ہے۔ چیف الیکشن افسر کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ 14 جولائی 2026 کو جاری کی گئی ڈرافٹ ووٹر لسٹ پر دعوے اور اعتراضات کی سماعت ابھی جاری ہے اور حتمی فہرست 3 اکتوبر 2026 کو جاری کی جائے گی۔ اس دوران تقریباً 1 لاکھ 73 ہزار فارمـ7 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے 95 ہزار سے زیادہ ووٹرز کو ‘اَن ایلیجبل’ یعنی نااہل کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اس معاملے پر کانگریس نے سوال اٹھایا ہے۔واضح طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی کے زیر اثر الیکشن دفتر کے مطابق جن ووٹرز کو نااہل قرار دیا گیا ہے، وہ یا تو سماعت کے وقت طلب کی گئی دستاویزات پیش نہیں کر سکے یا خود یا خاندان کے کسی رکن کے ذریعہ سماعت میں شامل ہی نہیں ہوئے۔ ایسے معاملات میں متعلقہ ای آر او یا اے ای آر او نے ایـسائن کے ذریعہ ووٹروں کو نااہل قرار دے دیا، جس کے بعد سسٹم نے خود بخود فارمـ7 تیار کر کے اس نام کو فہرست سے ہٹانے کے لیے نشان زد کر دیا۔ اسی دوران کانگریس کی اتراکھنڈ کی انچارج کماری شیلجا نے الزام لگایا کہ 42,030 فارمـ7 درخواستیں اے ای آر او کے نام پر اور 22,443 درخواستیں ای آر او کے نام پر درج ہوئی ہیں، جبکہ یہ تمام ووٹرز پہلے سے ڈرافٹ لسٹ میں شامل تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جس افسر کو فیصلہ کرنا ہے، درخواست اسی کے نام سے کیسے درج ہو گئی۔ انہوں نے اتراکھنڈ اور پنجاب کے اعداد و شمار میں فرق پر بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ کیا یہ فارم خود الیکٹورل سافٹ ویئر کے ذریعے تیار ہو گئے؟قابل ذکر بات یہ ہے کہ الیکشن آفس نے یقین دلایا ہے کہ حتمی ووٹر لسٹ جاری ہونے کے بعد بھی فارمـ6 کے ذریعے نیا نام شامل کرایا جا سکے گا۔ اس کے لیے ضروری دستاویزات پیش کرنے ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی نئے اہل ووٹرز کے نام شامل کرنے کیلئے خصوصی مہم چلانے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔مودی دور حکومت میں انتخابی عمل اور ووٹر فہرستوں میں مبینہ ہیرا پھیری کے تناظر میں بھارت بھر میں احتجاج اور استعفوں کے مطالبات شدت اختیار کر گئے ، بھارتی انتخابی نظام عالمی سطح پر بھی شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور ماہرین نے بھارت میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔عالمی جریدے “دی سٹریٹس ٹائمز” کے مطابق چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے کانگریس مظاہرین پر بھارتی پولیس نے شدید آنسو گیس کی شیلنگ کی اور طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔ دوسری جانب ہانگ کانگ کے اخبار “ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ” نے رپورٹ کیا ہے کہ ووٹر فہرستوں میں دھاندلی اور سنگین بے ضابطگیوں پر سیاسی حلقوں کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے ووٹر لسٹوں کی خرابیوں کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ اور عام شہریوں کو ہراساں کیا اور درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا۔ ملکی و بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کے متنازع ہونے سے بھارت میں نام نہاد جمہوری ساکھ اور شفاف انتخابات کے دعوے بے نقاب ہو گئے ہیں۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں