اگر آپ برطانیہ میں رہتے ہیں تو آپ کیلئے یہ ایک قابلِ فخر بات ہے کہ یہاں سیاست، معیشت، تعلیم،روزگار اور ِحتی کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کے یکساں مواقع موجود ہیں۔ ضرورت صرف محنت، قابلیت اور مستقل مزاجی کی ہے۔ برطانوی معاشرے میں بھی نسلی امتیاز، مذہبی تعصب اور معاشی ناہمواری جیسے مسائل موجود ہیں لیکن جمہوری نظام میں مختلف قومیتوں، مذاہب اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کو آگے بڑھنے کے مواقع ملنا ایک حوصلہ افزا حقیقت ہے۔ یہاں کسی شخص کی کامیابی کا راستہ اس کی قابلیت، محنت اور عوامی خدمت سے ہو کر گزرتا ہے نہ کہ سفارش، رشوت اور اقربا پروری سے۔سابق برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر بھی اپنے پیش رو بورس جانسن کی طرح سیاسی تنازعات اور عوامی تنقید کی زد میں رہے۔ رواں سال مئی کے مقامی انتخابات میں لیبر پارٹی کی خراب کارکردگی کے بعد ان پر دبا بڑھا اور بالآخر انہیں وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دینا پڑا۔ ان کے عہدے کی مدت میں ابھی تقریبا دو سال باقی تھے لیکن انہوں نے وزیراعظم کا منصب چھوڑنے کے ساتھ ممبر آف پارلیمنٹ کی نشست بھی خالی کر دی۔ہولبورن اینڈ سینٹ پینکراس کا حلقہ کیئر اسٹارمر کیلئے خاص اہمیت رکھتا تھا جہاں سے وہ مسلسل کامیاب ہوتے رہے۔ ان کی نشست خالی ہونے کے بعد ہونیوالے ضمنی انتخاب نے برطانوی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ لیبر پارٹی نے اس نشست پر صومالیہ سے بچپن میں برطانیہ آنیوالی مسلمان، باحجاب خاتون سگل عبدی ولی کو اپنا امیدوار نامزد کیا۔ ان کے مقابلے میں مختلف جماعتوں کے امیدوار میدان میں اترے، لیکن سب سے زیادہ توجہ گرین پارٹی کے سربراہ زیک پولنسکی پر رہی، جنہوں نے خود انتخاب میں حصہ لیا۔سگل عبدی ولی کا تعلق صومالیہ سے ہے اور وہ بچپن میں اپنے خاندان کے ساتھ برطانیہ آئیں۔ لندن میں مقامی سیاست اور عوامی خدمت کے ذریعے انہوں نے اپنی شناخت بنائی اور کیمڈن کونسل کی سربراہ بھی منتخب ہوئیں۔ اب ان کی پارلیمان تک رسائی اس بات کی مثال ہے کہ مختلف نسلی اور مذہبی پس منظر رکھنے والے افراد بھی برطانوی سیاسی نظام میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ان کی کامیابی صرف ایک مسلمان خاتون کی کامیابی نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کیلئے امید کا پیغام ہے جو محنت اور صلاحیت کے ذریعے معاشرے میں اپنا مقام بنانا چاہتے ہیں۔تاہم اس ضمنی انتخاب کی اصل سیاسی دلچسپی صرف سگل عبدی ولی کی کامیابی تک محدود نہیں تھی۔ اس کا ایک اہم پہلو زیک پولنسکی کا کردار تھا، جو برطانیہ میں فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینی عوام کے حقوق کے نمایاں حامیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں، شہری ہلاکتوں اور انسانی بحران پر کھل کر تنقید کی اور مختلف پلیٹ فارمز پر فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کی۔ ان کے اس مقف کو ایک طرف عوام کے ایک بڑے حلقے میں پذیرائی ملی تو دوسری جانب انہیں شدید سیاسی تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔فلسطین کا مسئلہ اب برطانوی سیاست میں محض خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں رہا بلکہ انسانی حقوق، آزادی اظہار اور سیاسی جماعتوں کی ترجیحات سے بھی جڑ چکا ہے۔ زیک پولنسکی نے اس مسئلے پر واضح موقف اختیار کیا لیکن گرین پارٹی کی ایک متنازع قرارداد نے ان کیلئے مشکلات بھی پیدا کیں۔ جماعت میں صیہونیت کو نسل پرستانہ قرار دینے سے متعلق قرارداد پر برطانوی یہودی تنظیموں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے۔ اس معاملے نے برطانوی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا۔یہاں یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ فلسطینیوں کے حقوق اور آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت ایک جائز سیاسی اور انسانی حقوق کا مقف ہیجبکہ یہودیوں کے خلاف مذہبی یا نسلی نفرت کی مخالفت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ کسی حکومت کی پالیسی پر تنقید اور کسی مذہبی برادری کیخلاف تعصب دو مختلف چیزیں ہیں۔ جمہوری معاشرے میں ان معاملات پر بحث دلیل، شواہد اور باہمی احترام کے ساتھ ہونی چاہیے۔ضمنی انتخاب میں سگل عبدی ولی نے بارہ ہزاردوسوبانوے ووٹ حاصل کیے جبکہ زیک پولنسکی کوآٹھ ہزار نو سو اٹھائیس ووٹ ملے۔ اس طرح لیبر پارٹی کی امیدوار نے تین ہزار تین سوچونسٹھ ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔
(……جاری ہے)






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں