دنیا بدل رہی ہے، حکومتیں بدل رہی ہیں،عہدے بدل رہے ہیں موسم بدل رہے ہیں، انسان بدل رہے ہیں مگر اج یہ میرا کالم صرف اور صرف موسمیاتی تبدیلی پر ہے جو میرے نزدیک سب سے اہم ہے۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کے حوالے سے آٹھ اکتوبر کو کالم لکھ چکا ہوں۔ مزید اس پر لکھنے کے بجائے موسمیاتی ایشو پر لکھنا مناسب سمجھتا ہوں۔ جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا ساری میں ہر جگہ موسم بدل رہے ہیں۔ اسی طرح سمندر اپنی حدود سے آگے بڑھ رہے ہیں، پہاڑوں پر جمی برف پگھل رہی ہے اور آسمان سے برسنے والی بارشیں کبھی رحمت کے بجائے زحمت بن جاتی ہیں۔اس سال ہم نے دیکھا کہ کہیں انسان گرمی کی شدت سے بے حال ہوئے ، کہیں خشک سالی نے زمین کو بنجر کر دیا اور کہیں سیلاب بستیاں، فصلیں بہا کر لے گیا۔ یہ محض موسم کی تبدیلی نہیں، بلکہ انسانی زندگی، معیشت اور مستقبل کے لیے ایک بڑا عالمی چیلنج ہے، جسے ہم موسمیاتی تبدیلی یا کلائمیٹ چینج کے نام سے جانتے ہیں۔یہ تبدیلی سب کیلیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان میں گرمی کی شدت عام آدمی کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔گو کہ اب ہم گرمی سے گزر پر موسم سرما کی طرف رواں دواں ہیں۔ہیٹ ویو کے دوران مزدور کسان، وکلا ٹریفک پولیس اہلکار اور سڑکوں پر کام کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔بجلی کی طلب بڑھنے سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی تھیں اور غریب خاندانوں کے لیے گرمی سے بچا بھی ایک مہنگا مسئلہ بن چکا ہے۔ دوسری طرف پانی کی قلت پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ آبادی میں اضافہ، زیرِ زمین پانی کا بے دریغ استعمال، ناقص آب پاشی اور پانی ذخیرہ کرنے کی محدود صلاحیت پہلے ہی مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
زراعت پاکستان کی معیشت اور عوام کے روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔ اگر کبھی بے وقت بارشیں فصلیں تباہ کریں، کبھی خشک سالی زمین کو پانی سے محروم کر دے اور کبھی شدید گرمی پیداوار کم کر دے تو اس کا اثر صرف کسان تک محدود نہیں رہتا۔سارا ملک اس کی لپیٹ میں اتا ہے۔ گندم، چاول، سبزیوں اور دیگر غذائی اجناس کی کم پیداوار سے قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، جس کا سب سے زیادہ بوجھ کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے۔یوں موسمیاتی تبدیلی کا ایک رخ ماحولیاتی ہے، دوسرا معاشی، اور تیسرا انسانی بقا سے تعلق رکھتا ہے اس کا قصوروار ہم صرف قدرت کو ٹھہراتے ہیں۔ ایسا کر کے کیا ہم اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں؟ اگر دریاں کے قدرتی راستوں اور سیلابی میدانوں میں غیر قانونی تعمیرات ہوں، جیسے اسلام آباد کے بعض سیکڑ ہیں۔جو برساتی نالوں پر قبضوں سے اور جنگلات کے کاٹ جانے سے،نکاسی آب کا نظام بارشوں کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ ہونے سے نقصان کی شدت بڑھنا فطری عمل ہے۔ سچ یہ ہے کہ قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں، لیکن بہتر منصوبہ بندی، بروقت انتباہ اور مثر انتظام سے انسانی جانوں اور املاک کے نقصان میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں موسمیاتی پالیسیوں اور منصوبوں کی کمی سے زیادہ اہم سوال ان پر عمل درآمد کا بھی ہے۔ کیا ترقیاتی منصوبے بناتے وقت موسمیاتی خطرات کو سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے؟ کیا شہروں کی تعمیر میں آئندہ کئی دہائیوں کے درجہ حرارت اور بارشوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے؟ کیا مکانات موسم کے مطابق تعمیر کئے جاتے ہیں۔ ان سوالات کے جواب حکومتی بیانات سے نہیں، عملی اقدامات سے ملنے چاہیں۔ عالمی سطح پرموسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پیرس معاہدے سمیت متعدد بین الاقوامی کوششیں موجود ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد عالمی حدت کو محدود کرنا، اخراج کم کرنا اور متاثرہ ممالک کو موسمیاتی اثرات سے نمٹنے میں مدد دینا ہے۔پاکستان جیسے ممالک کے لیے موسمیاتی انصاف کا تصور خاص اہمیت رکھتا ہے۔ جن ممالک نے صنعتی ترقی کے طویل سفر میں گرین ہاس گیسوں کا زیادہ اخراج کیا، ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو مالی وسائل، ٹیکنالوجی اور استعداد بڑھانے میں مدد فراہم کریں۔لیکن موسمیاتی انصاف کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی ذمہ داریوں سے دست بردار ہو جائیں۔ ہمیں اپنے وسائل کا بہتر استعمال، جنگلات کا تحفظ، صاف توانائی کی ترقی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ خود بھی کرنا ہوگا۔
پاکستان کو عالمی موسمیاتی فنڈز اور بین الاقوامی تعاون سے فائدہ اٹھانے کیلئے شفاف منصوبہ بندی، مثر اداروں اور قابلِ پیمائش نتائج کو یقینی بنانا چاہیے۔ صرف امداد کے وعدے کافی نہیں؛ اس امداد کو متاثرہ لوگوں کی زندگیوں میں حقیقی بہتری لانی چاہیے۔یاد رہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کسی ایک حکومت ادارے یا سیاسی جماعت کے بس کی بات نہیں۔اس کیلئے قومی سطح پر مسلسل پالیسی اور مشترکہ کوشش درکار ہیں سب سے پہلے پانی کے ذخیرے، آب پاشی کے جدید طریقے اور زیرِ زمین پانی کے تحفظ کو ترجیح دی جائے۔ شہروں میں برساتی نالوں کو تجاوزات سے پاک کیا جائے اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ سیلابی میدانوں میں غیر محفوظ تعمیرات کی حوصلہ شکنی کی جائے اور خطرے سے دوچار آبادیوں کیلئے پیشگی اطلاع اور محفوظ انخلا کا نظام مضبوط بنایا جائے۔دوسرا، جنگلات اور قدرتی ماحول کا تحفظ محض شجرکاری کی تصویروں تک محدود نہ رہے۔ مقامی درخت لگائے جائیں، ان کی نگہداشت کی جائے اور جنگلات کی غیر قانونی کٹائی روکی جائے۔تیسرا، شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی،صاف ٹرانسپورٹ اور صنعتی آلودگی میں کمی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ کسانوں کو بدلتے موسموں کے مطابق فصلوں، بیجوں اور آب پاشی کے بہتر طریقوں سے آگاہ کیا جائے۔چوتھا، اسکولوں، جامعات، ذرائع ابلاغ اور قانونی اداروں میں موسمیاتی آگاہی کو فروغ دیا جائیموسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ صرف ماحولیات کے ماہرین کی نہیں، ہرشہری کی ذمہ داری ہے۔ آج کا ایک بچہ جب بیس یا تیس سال بعد ہم سے سوال کرے گا کہ جب درجہ حرارت بڑھ رہا تھا، پانی کم ہو رہا تھا سیلاب بستیاں اجاڑ رہے تھے اور زمین کا قدرتی توازن بگڑ رہا تھا، تو حکمرانوں نے کیا کیا تھا ؟ کیا ہم اسے یہ جواب دیں گے کہ ہم نے مسئلے پر سیمینار کیے، اجلاس بلائے اور بیانات جاری کیے تھییا یہ فخر سے کہہ سکیں گے کہ ہم نے جنگلات بچائے، پانی محفوظ کیا، شہروں کو بہتر بنایا اور انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کیے؟ تاریخ قوموں کو صرف ان کے نعروں سے نہیں، ان کے فیصلوں اور عملی کردار سے یاد رکھتی ہے۔موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا اندیشہ نہیں، ہمارے حال کی حقیقت ہے۔ یہ ہمیں خبردار کر رہی ہے کہ ترقی کا وہ تصور جو قدرتی وسائل کو بے دریغ استعمال کرے اور ماحول کے تحفظ کو نظر انداز کرے، زیادہ دیر تک انسانیت کا ساتھ نہیں دے سکتا۔پاکستان کیلئے یہ وقت محض خطرے کا نہیں، اپنی ترجیحات درست کرنے کا بھی ہے۔ ہمیں قدرتی آفات کے بعد امداد تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ ایسی منصوبہ بندی بھی کرنی ہوگی جو تباہی کے امکانات اور نقصانات کو کم کرے۔ترقی یافتہ ممالک کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی، پاکستان کو اپنے وسائل، قوانین اور اداروں کو مثر بنانا ہوگا۔ کیونکہ جب دریا بپھرتے ہیں تو وہ کسی سیاسی جماعت کا نام نہیں پوچھتے، جب گرمی کی لہر چلتی ہے تو وہ امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتی، اور جب زمین کا توازن بگڑتا ہے تو اس کی قیمت آنے والی نسلیں بھی ادا کرتی ہیں۔سوال یہ نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کو متاثر کرے گی یا نہیں، سوال یہ ہے کہ ہم اس حقیقت کو تسلیم کر کے بروقت اقدامات کریں گے یا ہر نئی تباہی کے بعد صرف افسوس اور تبصرے ہی کرتے رہیں گے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں