بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 19.2°C
Tuesday, 13 October 2026 | پاکستان: 3 جمادی الاول 1448

بھارت میں اقلیتوں سے ناروا سلوک پر اظہار تشویش

Tuesday, 13 October, 2026

بین الاقوامی مذہبی آزادی کے بارے میں امریکی کمیشن نے بھارت کی جانب سے مذہبی اقلیتوں سے ناروا سلوک پر ایک بار پھر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیشن نے امریکی حکومت پر زور دیا کہ وہ بھارتی حکام پر جگتار سنگھ جوہل کی حراست اور ان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کی مکمل تحقیقات کرانے کیلئے دباؤ ڈالے اور بالخصوص ایسی سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ دار افراد کو بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ کے مطابق جواب دہ ٹھہرائے ۔اقوام متحدہ نے بھارت میں دلتوں، قبائلی برادریوں، اور نسلی و مذہبی اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانیوالے سلوک اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ہاتھوں مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔دلت، قبائلی برادریاں، بنگالی بولنے والے مسلمان، روہنگیا، تارکین وطن اور پناہ کے متلاشی افراد کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتیں، تشدد اور بدسلوکی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ شناختی دستاویزات کی چیکنگ کے دوران نسلی پروفائلنگ کی بنیاد پر قانونی تقاضوں کے بغیر گرفتاریاں اور حراست میں لیا جانا، بین الاقوامی تحفظ کے حق دار افراد کو زبردستی واپس بھیجنے یا ملک بدر کرنے کے معاملات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان اقلیتوں کیخلاف امتیازی سلوک، نفرت انگیز تقاریر اور تشدد کے واقعات کی روک تھام کرے۔بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے، جہاں آئے روز کشمیریوں پر ظلم و جبر میں اضافہ ہو رہا ہے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق سلب کیے جا چکے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں انسانی المیہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ دوسری جانب بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ بھی غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے یو ایس سی آئی آر ایف کی تازہ رپورٹ عالمی برادری کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔رپورٹ میں بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہاں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد، امتیازی قوانین اور سماجی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کو عدم تحفظ کا سامنا ہے۔کمیشن نے اپنی رپورٹ میں پہلی بار ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کیخلاف سخت اقدامات کی سفارش کی ہے، جن میں اثاثے منجمد کرنے اور ذمہ دار افراد پر سفری پابندیاں عائد کرنے پر غور شامل ہے۔ بھارت کی ریاستی پالیسیوں اور بعض قوانین نے اقلیتوں کیلئے ایک غیر محفوظ ماحول پیدا کر دیا ہے جبکہ بعض ریاستوں میں مذہب کی تبدیلی کیخلاف سخت قوانین کے تحت اقلیتی افراد کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم خطے کے امن و سلامتی کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ مودی سرکار کی انتہاپسندانہ پالیسیوں اور اقلیتوں کیخلاف کارروائیوں کا فوری نوٹس لے جبکہ کشمیری عوام کو بھی ان کے بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے جائیں۔ عالمی طاقتیں آخری کشمیری کے مرنے کا انتظار نہ کریں۔ بھارت میں اقلیتی حقوق کے متعلق خدشات میں مذہبی آزادی پر پابندیاں، ہجوم کے تشدد (موب لنچنگ) اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کے واقعات شامل ہیں۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی جیسی بین الاقوامی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے ادارے ان مسائل کو حکومتی نظریات سے جوڑ کر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹس کے مطابق، مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت دیگر اقلیتوں کو توہین مذہب کے الزامات، ہجوم کے تشدد اور عبادت گاہوں پر حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ متنازعہ شہریت ترمیمی ایکٹ جیسے قوانین کے نفاذ پر اقلیتی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے کڑی تنقید کی جاتی ہے، جنہیں امتیازی قرار دیا جاتا ہے۔ حکمران جماعت کے نظریات اور بعض رہنماؤں کے بیانات کی وجہ سے اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے، جس سے سیکولرازم کی بنیادی اقلیتوں کے حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے۔ آئینِ ہند کا آرٹیکل 29 اقلیتوں کو اپنی زبان، رسم الخط اور ثقافت کے تحفظ کا پورا حق دیتا ہے ۔اس کے باوجود انسانی حقوق کے عالمی ادارے اکثر حکومت پر الزام لگاتے ہیں کہ ان آئینی حقوق پر اکثریت کی پالیسیاں حاوی ہو رہی ہیں۔دوسری جانب، بھارتی حکومت ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتی ہے۔ بھارتی حکام کا موقف ہے کہ آئینِ ہند تمام شہریوں کو یکساں حقوق کی ضمانت دیتا ہے اور اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے۔آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے پر قائم مودی حکومت کے دور میں اقلیتوں پر مبینہ مظالم میں اضافے کی نشاندہی کی جا رہی ہے، جبکہ بی جے پی حکومت پر الزام ہے کہ وہ ہندوتوا کو سیاسی بیانیے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت دیگر اقلیتوں کو ہجوم کے تشدد اور عبادت گاہوں پر حملوں کا سامنا ہے۔ ایسے واقعات کو انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے بھارتی مسیحیوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، خصوصاً اوڑیسہ میں ایک پادری پر تشدد کے واقعے نے صورتحال کو مزید نمایاں کیا۔ کمیشن کے مطابق مذہب کی جبری تبدیلی کے الزامات کے تحت اقلیتوں کو غیر قانونی حراست اور حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *