گیارہ اکتوبر 2026، صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم شہباز شریف کی کابینہ کی سفارش پر دستخط کیے اور خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہو گیا۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ فارغ، اور صوبے کی باگ ڈور اب گورنر فیصل کریم کنڈی کے ہاتھ میں ہے۔آئین کے آرٹیکل 48 کے تحت صدر کابینہ کی ایڈوائس کا پابند ہوتا ہے؛ وہ اسے ایک بار نظرثانی کے لیے لوٹا تو سکتا ہے، مگر روک نہیں سکتا۔ اور یہ بات بھی ریکارڈ پر رہنی چاہیے کہ محض دو روز پہلے، نو اکتوبر کو، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں صاف کہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی “ایٹم بم” ہے، جسے صرف آخری چارے کے طور پر سوچا جانا چاہیے، اور یہ کہ “ہم نہیں چاہتے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کا آخری آپشن استعمال ہو۔” انہوں نے تحریک انصاف کو پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آنے کا مشورہ دیا تھا اور مولانا فضل الرحمن کو ثالث بنانے کی تجویز بھی دی تھی۔ مشورہ دیا گیا، سنا نہیں گیا۔یہ گورنر راج پاکستان کی تاریخ کا کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ 1949 سے اب تک وفاق ایک درجن کے قریب مرتبہ منتخب صوبائی حکومتوں کو معطل کر چکا ہے، اور اس گنتی میں وہ چار مارشل لا شامل نہیں جب سارے صوبے ایک ساتھ فوجی گورنروں کے حوالے ہو گئے تھے۔ابتدائی برسوں میں گورنر جنرل گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کی دفعہ 92-اے کے تحت یہ اختیار استعمال کرتے تھے، کیونکہ یہی نوآبادیاتی قانون پاکستان کا عبوری آئین تھا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو 1973 کا متفقہ آئین دیا، جو آج بھی اس ملک کی واحد مشترکہ بنیاد ہے۔ اس کا آرٹیکل 234 صدر کو اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی صوبے کا انتظام سنبھال لے جب وہاں کی حکومت “آئین کی دفعات کے مطابق نہ چلائی جا سکے”، جبکہ آرٹیکل 232 جنگ، بیرونی جارحیت یا اندرونی خلفشار کی صورت میں ایمرجنسی کی بات کرتا ہے۔ آئین میں طریقہ کار واضح ہے کہ گورنر راج دو ماہ بعد خود بخود ختم ہو جاتا ہے الا یہ کہ پارلیمان کا مشترکہ اجلاس اس میں توسیع کرے، اور یہ کسی صورت چھ ماہ سے آگے نہیں چل سکتا۔ یہی وہ حفاظتی دیوار ہے جو بھٹو کے آئین نے بنائی تھی۔پاکستان کا پہلا گورنر راج آزادی کے صرف سترہ ماہ بعد آیا۔ 25 جنوری 1949 کو گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے، وزیر اعظم لیاقت علی خان کے دبا پر، مغربی پنجاب کے پہلے وزیر اعلی نواب افتخار حسین ممدوٹ کی مسلم لیگی حکومت برطرف کر کے اسمبلی توڑ دی۔ وجہ مسلم لیگ کے اندر ممدوٹ اور ممتاز دولتانہ کی تباہ کن رقابت تھی۔ لیاقت علی خان اس نتیجے پر پہنچے کہ ممدوٹ کا اکثریت کا دعوی حقائق سے میل نہیں کھاتا، اور پھر بدانتظامی کے الزامات آئے۔ صوبے کے گورنر سر فرانسس موڈی تھے، یوں پاکستان کی پہلی منتخب مسلم لیگی حکومت کی معطلی کا انتظام، کم از کم ابتدا میں موڈی اور پھر سردار عبدالرب نشتر صوبہ چلاتے رہے، یہاں تک کہ اپریل 1951 کے انتخابات کے بعد دولتانہ وزیر اعلی بنے۔ یہ وہ پہلا زخم تھا جس نے مرکز اور صوبے کے رشتے میں بے اعتمادی کی بنیاد رکھی۔غلام محمد کے گورنر جنرل بننے کے دو ماہ بعد، مرکز نے 29 دسمبر 1951 کو سندھ کے مسلم لیگی وزیر اعلی محمد ایوب کھوڑو کو بدعنوانی اور بدانتظامی کے الزامات کے تحت برطرف کر دیا۔ گورنر میاں امین الدین تقریبا سترہ ماہ صوبہ چلاتے رہے، یہاں تک کہ 22 مئی 1953 کو انتخابات کے بعد مسلم لیگ کے پیرزادہ عبدالستار وزیر اعلی بنے۔ یہ دوسرا موقع تھا جب ایک منتخب حکومت کو کرپشن کے الزام پر ہٹایا گیا، اور اس کے بعد گورنر راج کو ایک انتظامی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی روایت پختہ ہو گئی۔مارچ 1954 کے صوبائی انتخابات میں جگتو فرنٹ، یعنی اے کے فضل الحق کی کرشک سرامک پارٹی، عوامی لیگ اور ان کے اتحادیوں نے حکمران مسلم لیگ کا صفایا کر دیا۔ فضل الحق کی وزارت 3 اپریل کو حلف اٹھا سکی اور آٹھ ہفتوں کے اندر رخصت کر دی گئی۔ اس کے خلاف تین واقعات استعمال ہوئے۔ اپریل کے آخر میں کلکتہ کی ایک تقریر جس میں فضل الحق نے دونوں بنگالوں کے رشتوں کا ذکر کیا؛ 15 مئی کو آدم جی جوٹ ملز میں بنگالی اور غیر بنگالی مزدوروں کے فسادات جن میں سینکڑوں جانیں گئیں؛ اور فیصلہ کن طور پر 24 مئی کو نیویارک ٹائمز کی وہ رپورٹ جس میں فضل الحق سے یہ بات منسوب کی گئی کہ ضرورت پڑی تو مشرقی بنگال الگ ہو جائے گا۔ فضل الحق نے اسے “سراسر جھوٹ اور حقائق کی تحریف” کہا، مگر 30 مئی کو گورنر جنرل غلام محمد نے ان کی کابینہ برطرف کی، گورنر راج نافذ کیا اور سیکرٹری دفاع اسکندر مرزا کو گورنر بنا کر ڈھاکہ بھیج دیا۔ وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نے فضل الحق کے مبینہ بیان کو غداری قرار دیا۔ فضل الحق نظر بند ہوئے اور جگتو فرنٹ کے تقریبا سولہ سو کارکن، جن میں تیس ارکانِ اسمبلی بھی تھے، گرفتار کر لیے گئے۔ گورنر راج 5 جون 1955 تک رہا، جب ابو حسین سرکار وزیر اعلی بنے۔ ڈھاکہ میں جو مینڈیٹ 1954 میں معطل ہوا، وہ سترہ برس بعد، 1971 میں، پورا صوبہ ساتھ لے کر رخصت ہوا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہے کہ گورنر ہاس سے صوبے چلائے جا سکتے ہیں، دل نہیں جیتے جا سکتے۔مشرقی پاکستان میں ایک مختصر وقفہ جون 1958 میں بھی آیا، جب عطا الرحمن خان کی عوامی لیگ وزارت 19 جون کو عدم اعتماد کی تحریک سے گری اور ابو حسین سرکار کی متبادل حکومت چند ہی دنوں میں بکھر گئی۔ مرکز نے گورنر راج لگا دیا، یہاں تک کہ 25 اگست کو عطا الرحمن واپس آئے۔ چھ ہفتے بعد مارشل لا نے پورا نظام ہی لپیٹ دیا۔15 فروری 1973 کو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے بلوچستان میں وزیراعلی سردار عطا اللہ مینگل کی حکومت کی برطرفی اور گورنر راج کا نفاذ محض ایک اندرونی سیاسی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ اس کے پسِ پردہ گہری بین الاقوامی اور علاقائی مداخلت کارفرما تھی۔ اس اقدام کا سب سے بڑا محرک 10 فروری 1973 کو اسلام آباد میں عراقی سفارت خانے پر پڑنے والا وہ چھاپہ تھا جہاں سے سوویت ساختہ جدید ترین اسلحے کی بڑی کھیپ برآمد ہوئی، اور وفاقی حکومت کا موقف تھا کہ عراق اور سوویت یونین مل کر بلوچ قوم پرستوں کو مسلح کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، افغانستان میں سردار داد خان کی حکومت نے بھی اس کشمکش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بلوچ جنگجوں کو اپنے ہاں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں۔یہ وہ واقعہ ہے جس کے غیر ملکی پہلوں کی دستاویزات سب سے زیادہ ہیں، اور ان کی کہانی سیدھی نہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے بیورو آف انٹیلی جنس اینڈ ریسرچ کا ایک تجزیاتی نوٹ، جو چند دن بعد لکھا گیا اور اب امریکی حکومت کے سرکاری فارن ریلیشنز آف دی یونائیٹڈ سٹیٹس سلسلے میں شائع ہو چکا ہے، یہ رائے دیتا ہے کہ اسلحہ غالبا ایران کے بلوچ قبائل کے لیے تھا، کیونکہ بغداد اس وقت شاہِ ایران کے مخالفین کو اسلحہ پہنچانے کا ریکارڈ رکھتا تھا، یا شاید پاکستان کے بلوچوں کے لیے۔ یہی نوٹ یہ بھی کہتا ہے کہ اسلام آباد کو بظاہر کھیپ کا پہلے سے علم تھا، اس نے اسے کراچی میں کسٹم سے گزرنے دیا اور صحافیوں کی موجودگی میں چھاپہ مارا؛ نوٹ کے الفاظ میں حکومت نے اس واقعے کو “زیادہ سے زیادہ اثر کے لیے احتیاط سے منظم کیا”۔ یہ امریکی تجزیہ کاروں کی رائے تھی۔ مگر اسی دستاویز سے یہ بھی عیاں ہے کہ سفارتخانے میں اسلحہ حقیقی تھا، اور جو رہنما ابھی ڈھاکہ کا سقوط دیکھ چکا ہو، اس کے لیے ایک غیر ملکی سفارتخانے میں سوویت ساختہ ہتھیاروں کا ذخیرہ معمولی بات نہیں ہو سکتی تھی۔ مینگل کے سخت حریف نواب اکبر بگٹی گورنر بنے۔ بلوچستان میں براہِ راست حکمرانی 27 اپریل 1973 تک رہی، جب جام غلام قادر خان نے پیپلز پارٹی کی قیادت میں وزارت بنائی۔ 8 فروری 1975 کو پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور صوبے کے سابق گورنر حیات محمد خان شیرپا پشاور یونیورسٹی میں ٹائم بم کے دھماکے میں شہید ہو گئے۔ اسی شام ولی خان لاہور میں گرفتار ہوئے۔ 10 فروری کو نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگی اور اس کے اثاثے ضبط کر لیے گئے، اور بعد میں ولی خان اور ان کے تقریبا اسی ساتھیوں پر حیدرآباد سازش کیس چلا۔ 16 فروری کو وزیر اعظم بھٹو نے پیپلز پارٹی کے اپنے وزیر اعلی سردار عنایت اللہ خان گنڈاپور کی قیادت والی مخلوط حکومت برطرف کر کے گورنر راج نافذ کیا، قابلِ غور بات یہ ہے کہ بھٹو نے اپنی ہی جماعت کی صوبائی حکومت قربان کرنے سے گریز نہیں کیا۔ یہ اقدام آرٹیکل 232 کے تحت ہوا، اور حکام نے “مقامی کنٹرول سے باہر بیرونی خلفشار” کا حوالہ دیا۔ 3 مئی 1975 کو پیپلز پارٹی کے نصراللہ خان خٹک وزیر اعلی بنے، اور 30 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے نیپ پر پابندی کو برقرار رکھا، یعنی یہ فیصلہ عدالت کی کسوٹی سے بھی گزرا۔ کم بیان کی جانے والی حقیقت یہ ہے کہ بھٹو وہ پہلے حکمران تھے جنہوں نے کابل کو اسی کی زبان میں جواب دیا۔ جولائی 1975 میں، شیرپا کی شہادت کے پانچ ماہ بعد، پاکستانی انٹیلی جنس نے بھٹو اور نصیراللہ بابر کی ایما پر وادی پنجشیر میں احمد شاہ مسعود کی قیادت میں ایک بغاوت کی پشت پناہی کی، جو صدر داد کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میزپر لے آئی۔
(……جاری ہے)





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں