دیکھا جائے تو قوم کی حقیقی طاقت اس کے وسائل، عمارتوں یا معاشی اعداد و شمار سے زیادہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ نوجوان نسل کسی ملک کا مستقبل ہی نہیں بلکہ اس کا حال بھی ہوتی ہے۔ پاکستان ایک نوجوان آبادی رکھنے والا ملک ہے، اس لیے قومی ترقی، امن و استحکام اور سماجی ہم آہنگی کے قیام میں نوجوانوں کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ آج دنیا ہی کو انتہا پسندی، عدم برداشت، نفرت انگیزی اور تشدد جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، پاکستان کے نوجوان مثبت سوچ، علم، برداشت اور ذمہ دارانہ کردار کے ذریعے معاشرے کو امن کی طرف لے جانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔انتہا پسندی صرف ایک مخصوص نظریے یا گروہ کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جو اختلافِ رائے کو دشمنی میں بدل دیتی ہے۔ جب برداشت کم ہوجائے، مکالمے کی جگہ الزام تراشی لے لے اور اختلاف کو تشدد کے ذریعے حل کرنے کی سوچ پیدا ہوجائے تو معاشرے کا امن متاثر ہوتا ہے ۔ اس صورتحال کا مقابلہ صرف ریاستی اقدامات سے ممکن نہیں۔ خاندان، تعلیمی ادارے، مذہبی مراکز، میڈیا، سول سوسائٹی اور خصوصا نوجوانوں کو مل کر ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں دلیل، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ حاصل ہو۔نوجوانوں کا سب سے موثر ہتھیار علم اور شعور ہے۔ تعلیم انسان کو مختلف نظریات کو سمجھنے، درست اور غلط معلومات میں فرق کرنے اور جذباتی فیصلوں سے بچنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ آج سوشل میڈیا نوجوانوں کی زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ ایک غیر مصدقہ خبر، اشتعال انگیز ویڈیو یا نفرت پر مبنی پیغام چند لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتا ہے۔ نوجوان اگر معلومات کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق کو اپنی عادت بنالیں تو وہ معاشرے میں فیک نیوز، افواہوں اور نفرت انگیز مواد کے پھیلا کو روکنے میں موثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ڈیجیٹل دنیا میں نوجوانوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ سوشل میڈیا کو نفرت پھیلانے کے بجائے مثبت مکالمے، تعلیم، آگاہی اور قومی یکجہتی کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ نوجوان ایسی تحریریں، ویڈیوز اور پیغامات تخلیق کرسکتے ہیں جو امن، برداشت، احترام اور انسان دوستی کا درس دیں ۔اگر لاکھوں نوجوان اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو مثبت سوچ کے فروغ کیلئے استعمال کریں تو معاشرے کے فکری ماحول میں نمایاں تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔تعلیمی ادارے بھی نوجوانوں کی فکری تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں صرف نصابی تعلیم کافی نہیں بلکہ طلبہ کو مکالمے، برداشت، شہری ذمہ داری اور اختلافِ رائے کے آداب بھی سکھانے کی ضرورت ہے۔ مباحثے، مطالعاتی نشستیں، ثقافتی سرگرمیاں، کھیل اور رضاکارانہ خدمات نوجوانوں میں تعاون، نظم و ضبط اور دوسروں کے نقط نظر کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں ۔یہی خصوصیات ایک پرامن اور متوازن معاشرے کی بنیاد بنتی ہیں۔پاکستان کے نوجوان مختلف صوبوں، زبانوں، ثقافتوں اور علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ تنوع ہماری کمزوری نہیں بلکہ قومی قوت ہے ۔ نوجوان اگر ایک دوسرے کی ثقافت، زبان اور روایات کا احترام کریں تو باہمی فاصلے کم ہوسکتے ہیں۔ قومی یکجہتی اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب شہری اپنے اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کو عزت دیں اور مشترکہ قومی مفاد کو مقدم رکھیں۔ نوجوان اس عمل میں پل کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں بھی نوجوانوں کی ذمہ داری اہم ہے۔ اسلام امن، عدل، رواداری اور انسانی احترام کا پیغام دیتا ہے۔ نوجوان مذہب کے نام پر نفرت یا تشدد کے بجائے علم، اخلاق اور حسنِ کردارکو اپنا شعار بنائیں۔ مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ احترام اور مثبت مکالمہ معاشرے میں اعتماد کو مضبوط کرسکتا ہے۔ مذہبی تعلیمات کو وسیع تر انسانی بھلائی کے تناظر میں سمجھنا بھی انتہا پسندانہ سوچ کے سدباب میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے ۔ نوجوانوں کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ امن صرف دہشت گردی یا تشدد کے خاتمے کا نام نہیں۔ امن ایک ایسا اجتماعی ماحول ہے جہاں شہریوں کو تعلیم، روزگار، انصاف، عزت اور ترقی کے مواقع میسر ہوں۔ غربت، بے روزگاری، محرومی اور سماجی ناانصافی بھی بعض اوقات نوجوانوں میں مایوسی پیدا کرسکتی ہے۔ اس لیے ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو ہنر، تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ ان کی توانائیاں مثبت قومی سرگرمیوں میں استعمال ہوں ۔ رضاکارانہ سرگرمیاں بھی نوجوانوں کو معاشرے سے جوڑنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ قدرتی آفات، سیلاب، زلزلوں، صحت عامہ کی مہمات، صفائی، شجرکاری اور مستحق افراد کی مدد جیسے کاموں میں نوجوان بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکتے ہیں۔ جب ایک نوجوان کسی ضرورت مند کی مدد کرتا ہے تو اس کے اندر احساسِ ذمہ داری، ہمدردی اور انسان دوستی فروغ پاتی ہے ۔ یہی اقدار انتہا پسندی کے مقابلے میں ایک مضبوط سماجی حصار بناتی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو مسئلے کا حصہ سمجھنے کے بجائے مسئلے کے حل کا اہم فریق سمجھا جائے۔ انہیں قومی پالیسی سازی، سماجی سرگرمیوں، تعلیمی منصوبوں اور امن کے فروغ سے متعلق پروگراموں میں موثر نمائندگی دی جائے۔ نوجوانوں کی آواز سنی جائے، ان کے سوالات کا جواب دیا جائے اور ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کیا جائے۔ ایک بااختیار، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان نسل کسی بھی ملک کیلئے سب سے بڑا اثاثہ ہوتی ہے۔آج پاکستان کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو مایوسی کے بجائے امید، نفرت کے بجائے محبت، تشدد کے بجائے مکالمہ اور تقسیم کے بجائے اتحاد کا راستہ اختیار کریں۔ اگر نوجوان اپنی توانائی علم، تحقیق، خدمت، کھیل، فن، کاروبار اور قومی تعمیر کیلئے وقف کردیں توانتہا پسندی کیلئے معاشرے میں جگہ محدود ہوتی چلی جائے گی ۔ امن کا سفر طویل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ اس سفر کی کامیابی کیلئے ریاستی اقدامات کے ساتھ معاشرتی شعور بھی ضروری ہے، اور اس شعور کے سب سے موثر سفیر ہمارے نوجوان ہوسکتے ہیں۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں