پاکستان کی معاشی تاریخ کا ایک مستقل اور افسوس ناک باب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پر اس کا بار بار انحصار ہے۔ ہر نئے پروگرام کے ساتھ کچھ عرصے کیلئے آسودگی کی ایک کرن نمودار ہوتی ہے، دنیا کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان اپنے بیرونی مالیاتی واجبات ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کا ایک اور موقع میسر آتا ہے۔ لیکن جب ایک معاہدے کے بعد دوسرا معاہدہ سامنے آتا ہے تو ایک بنیادی سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے؛ آخر پاکستان کو اپنی مالی ضروریات پوری کرنے اور معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے بار بار بیرونی امداد کا سہارا کیوں لینا پڑتا ہے؟یہ مسئلہ محض قرضوں کے بوجھ تک محدود نہیں۔ اس کی جڑیں ان ساختی کمزوریوں میں پیوست ہیں جنہوں نے قرض لینے کو معاشی نظم و نسق کا تقریبا معمول بنا دیا ہے۔ پاکستان کے سامنے اصل چیلنج صرف ایک اور قرض حاصل کرنا یا مالی معاونت کی اگلی قسط وصول کرنا نہیں بلکہ اس معاشی نظام کی اصلاح ہے جو بار بار اسے بیرونی سہارے کا محتاج بنا دیتا ہے۔پاکستان کی صورتِ حال اس اعتبار سے بھی قابلِ غور ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ سے مسلسل رجوع کرنے کے باوجود ہم اس پر انحصار سے مستقل نجات حاصل نہیں کر سکے۔ محدود برآمدات، محصولات کی کمزور وصولی، مسلسل مالیاتی خسارے، توانائی کی بلند قیمتیں اور سرمایہ کاری کی ناکافی سطح نے مل کر ایک ایسا چکر پیدا کر دیا ہے جس سے نکلنا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ جب بھی زرمبادلہ کی قلت شدت اختیار کرتی ہے، حکومت بیرونی مدد کی طرف دیکھنے لگتی ہے؛ اور جب فوری دبا میں کچھ کمی آتی ہے تو بنیادی اصلاحات کی ضرورت اور اہمیت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ یوں وقتی استحکام تو حاصل ہو جاتا ہے، مگر دیرپا حل کی منزل بدستور دور رہتی ہے۔اکتوبر 2026 میں آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام اور لچک و پائیداری سہولت کے جائزوں کے حوالے سے پاکستان اور فنڈ کے عملے کے درمیان ایک ابتدائی معاہدہ طے پایا۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی اضافی مالی معاونت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ یہ رقم مختصر مدت میں معاشی استحکام کو تقویت دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن محض اس معاونت سے اس امر کی ضمانت نہیں ملتی کہ پاکستان کو آئندہ کسی نئے پروگرام کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اس مہلت اور گنجائش سے کس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں جو ہمیں میسر آئی ہے۔ معاشی استحکام ضروری ہے، مگر اسے معاشی تبدیلی کا ہم معنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مہنگائی کو قابو میں رکھنا، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنا اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا یقینا اہم کامیابیاں ہیں۔ تاہم ان کے ثمرات اسی وقت پائیدار ہو سکتے ہیں جب پاکستان اپنی پیداواری صلاحیت بڑھائے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے اور بیرونی دنیا سے زیادہ زرمبادلہ کمانے کے قابل ہو۔ ایک مضبوط معیشت کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی ترقی کے اخراجات اپنی پیداواری سرگرمیوں سے پورے کرے، نہ کہ بار بار بیرونی امداد کی محتاج رہے۔ٹیکس نظام کی اصلاح اس سفر کا پہلا اور ناگزیر قدم ہے۔ ایک منصفانہ اور مثر مالیاتی نظام اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک تنخواہ دار طبقے اور باقاعدہ دستاویزی کاروباروں پر غیر متناسب بوجھ ڈالا جاتا رہے جبکہ معیشت کے بڑے حصے سے اس کی استعداد کے مطابق محصولات وصول نہ کیے جائیں۔آئی ایم ایف نہ تو پاکستان کا کوئی مستقل دشمن ہے اور نہ ہی وہ بہتر معاشی نظم و نسق کا متبادل بن سکتا ہے۔ اس کی مالی معاونت ملک کو وقتی مہلت اور مشکلات سے نکلنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے لیکن اس موقع سے دانشمندی کے ساتھ فائدہ اٹھانے کی ذمہ داری ہماری اپنی قیادت اور قومی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ بار بار قرض لینے کا سلسلہ اسی وقت ختم ہو سکتا ہے جب بنیادی کمزوریوں کا خاتمہ کیا جائے جو ہمیں ہر مرتبہ بیرونی امداد کے دروازے پر لے جاتی ہیں۔بالآخر پاکستان کی کامیابی کا پیمانہ نہ تو کسی نئے معاہدے پر دستخط ہوں گے اور نہ ہی مالی معاونت کی کسی نئی قسط کی آمد۔ اصل کامیابی اس معیشت کی تشکیل میں مضمر ہے جو مسابقتی برآمدات، منصفانہ ٹیکس نظام، پیداواری سرمایہ کاری اور محتاط سرکاری مالیاتی نظم کے ذریعے اپنے واجبات ادا کرنے کے قابل ہو۔ پاکستان کو صرف قرضوں کے موجودہ بوجھ سے نجات حاصل نہیں کرنی، بلکہ ان معاشی عادات اور پالیسیوں کو بھی بدلنا ہے جو بار بار اسے اسی دلدل میں دھکیل دیتی ہیں۔عارضی ریلیف مذاکرات کی میز پر حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن حقیقی اور پائیدار معاشی خودمختاری اپنے ہی وطن میں تعمیر کرنا پڑتی ہے۔ اس کیلئے جرات، مستقل مزاجی اور ان اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے کا حوصلہ درکار ہے جنہیں ہم طویل عرصے سے موخر کرتے چلے آئے ہیں۔ پاکستان کو اگر بار بار کی محتاجی کی جگہ حقیقی معاشی خودمختاری حاصل کرنی ہے تو اسے اسی دشوار مگر ناگزیر راستے پر قدم بڑھانا ہوگاکیونکہ قوموں کی حقیقی آزادی صرف سیاسی خودمختاری سے مکمل نہیں ہوتی؛ اس کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے معاشی فیصلے خود کرنے، اپنے وسائل سے اپنی ضروریات پوری کرنے اور اپنے مستقبل کی تعمیر کیلئے دوسروں کی مالی دستِ نگر ہونے سے نجات حاصل کر لیتی ہیں۔ یہی وہ منزل ہے جس کی طرف پاکستان کو اب پوری قومی سنجیدگی، یکسوئی اور عزم کے ساتھ سفر کرنا ہوگا۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں