الفاظ اور اقدامات کے نتائج متوقع اور قابلِ پیمائش ہوتے ہیں،اور جب وہ سامنے آئیں تو ہر فریق کو ان کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔اپنے قافلے کے ساتھ اسلام آباد کی جانب مارچ کرنیوالے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو چیلنج کیا تھا کہ وہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرے ۔ اسلام آباد نے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ایسا ہی کیا۔دارالحکومت کی جانب بار بار ہونیوالے مارچ اور صوبے اور وفاق کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا یہی متوقع نتیجہ تھا۔کوئی بھی حکومت اس قسم کے بین الصوبائی تنازع کو غیر معینہ مدت تک برداشت نہیں کر سکتی،خاص طور پر جب حکومتی امور خود سیاسی ہنگامہ آرائی کے یرغمال بن جائیں۔اگر پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں زیادہ موثر انداز میں حکومت کی ہوتی تو اسے سیاسی عمل اور حکمت عملی کیلئے مزید گنجائش مل سکتی تھی۔اس کے برعکس دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات،بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کیخلاف وفاقی کوششوں میں مکمل تعاون نہ کرنے کے رویے نے مرکز کا صبر ختم کر دیا۔محاذ آرائی پر اصرار نے صوبے کو مزید غیر محفوظ بنا دیا۔آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کا اطلاق کوئی معمولی قدم نہیں ہے۔ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ صوبائی جمہوریت میں شدید خلل کا باعث بنتا ہے،اور کسی کو بھی ایسے اقدامات کا خیرمقدم ہلکے پھلکے انداز میں نہیں کرنا چاہیے ۔ اس کے باوجودوفاقی حکومت نے ایک جرات مندانہ اور دور رس نتائج کا حامل فیصلہ کیا ہے ۔ اب اسے اس کی ذمہ داری بھی اٹھانی ہوگی۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے امن کی مخلصانہ کوششوں کو سبوتاژ کیا ۔ انہوں نے دو روزہ تفصیلی مذاکرات کے انعقاد پر مسلم لیگ(ن)اور پیپلز پارٹی کے اتحادی رہنمائوںکے ساتھ ساتھ ثالثی کرنیوالے مولانا فضل الرحمان کی بھی تعریف کی۔کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بڑھتی ہوئی دہشت گردی سے نمٹنے میں ناکامی پر خیبر پختونخوا حکومت کی مذمت کی اور واضح کیا کہ وفاقی حکومت اب خاموش تماشائی نہیں بنی رہے گی۔وزیراعظم نے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے اضلاع میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جہاں مقامی آبادی دہشت گردوں کے حملوں کا نشانہ بن رہی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کے متاثرین کے حوالے سے صوبائی قیادت کی خاموشی اور ہمدردی کے فقدان کی شدید مذمت کی اور دہشت گردی کیخلاف مشترکہ حکمت عملی کیلئے وفاقی حکومت کی پیشکشوں پر ان کے ردعمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ وفاقی اتحادی جماعتوںاور پی ٹی آئی کے وفد کے درمیان دو روزہ نتیجہ خیز مذاکرات کے باوجود خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے آخری لمحات میں حتمی متفقہ مسودے کو مسترد کر دیا۔ہم ایسی صورتحال میں خاموش نہیں رہیں گے۔قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ایمرجنسی کے نفاذ کے بعدصوبے میں امن وامان کی صورتحال بہترہوگی اورایک مثالی صوبہ بنے گا۔
درآمدات میں دھوکہ دہی
چین سے درآمدات کی’انڈر انوائسنگ'(یعنی اصل قیمت سے کم ظاہر کرنا)محض کوئی الزام نہیں ہے۔یہ پاکستان کی منڈیوں میں ایک کھلا راز ہے ایک ایسی بات جو برسوں سے سب کے علم میں ہے۔ چین سے ریکارڈ کی جانے والی درآمدات اور خود چین کی جانب سے برآمدات کے اعداد و شمار کے درمیان فرق کا تخمینہ کسی بھی ایک سال میں 3.5 سے 5 ارب ڈالر کے درمیان لگایا جاتا ہے۔فیصل آباد میں لومزکے مالکان نے اس عمل کو اپنے کاروبار کے زوال کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔سوت اور کپڑا اس کی نمایاں مثالیں ہیں،لیکن یہ عمل چین سے ہونے والی درآمدی تجارت کے ہر شعبے میں جاری ہے جس میں مشینری کے پرزوں اور کیمیکلز سے لیکر الیکٹرانکس،ٹائرزاور گھریلو سامان تک سب شامل ہیں۔تاجر اصل قیمت کا بہت کم حصہ ظاہر کرتے ہیں،اسی کم حصے پر ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ادا کرتے ہیں،اور پھر ایسی قیمتوں پر مال فروخت کرتے ہیں جن کا مقابلہ کوئی مقامی حریف نہیں کر سکتا۔کسٹمز کے عملے کی ملی بھگت کے بغیر اتنے بڑے پیمانے پر ایسا ہونا ممکن نہیں۔سامان کی مالیت کی جانچ پڑتال بندرگاہ پر کی جاتی ہے۔جب ایک ہی طرح کی مصنوعات،درآمد کنندگان،کلیئرنگ ایجنٹس اور کھیپوں کو کلیئر کرنیوالے افسران کے معاملے میں قیمت کم ظاہر کرنے کا یہ عمل سالہا سال دہرایا جاتا ہے،تو یہ محض غفلت نہیں بلکہ سہولت کاری کی نشاندہی کرتا ہے۔اس سے ہونیوالے نقصان کا اندازہ لگانا آسان ہے۔قومی خزانے کو ہر روز ڈیوٹی اور ٹیکس کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔مقامی مینوفیکچررز کو ایسی مصنوعات کا مقابلہ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے جن کی قیمتیں محض ایک قلم کے جنبش سے کم کر دی گئی ہوں۔ملیں بند ہو جاتی ہیں،لومز فروخت کر دی جاتی ہیں اور مزدور بے روزگار ہو کر گھر بیٹھ جاتے ہیں۔پھر اسی صنعت سے کہا جاتا ہے کہ وہ مسابقتی بنے اور برآمدات میں اضافہ کرے ۔ وہ ایسا نہیں کر سکتی جب کہ اس کی مقامی مارکیٹ کو ٹیکس چوری کے ذریعے نقصان پہنچایا جا رہا ہو ۔ درآمدات کے اعداد و شمار کم ظاہر کیے جاتے ہیں،جس کے نتیجے میں تجارتی خسارے اور محصولات کے فرق کو غلط بیان کیا جاتا ہے اور پالیسی غلط اعداد و شمار کی بنیاد پر تشکیل دی جاتی ہے۔اس کیلئے درکار نظام پہلے سے موجود ہے۔پاکستان اور چین اپنے کسٹمز کے محکموں کے درمیان الیکٹرانک ڈیٹا کا تبادلہ کرتے ہیںاور اسلام آباد نے بیجنگ سے فوری ڈیٹا فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔ اگر اسے صرف ٹیکسٹائل ہی نہیں بلکہ ہر کھیپ پر لاگو کیا جائے اور چینی برآمدی ڈیکلریشن کا موازنہ پاکستانی گڈز ڈیکلریشن سے کیا جائے تو مالیت اور مقدار میں تضاد فورا سامنے آ جائے گا۔اس طرح کے بڑے فرق کا مطلب تحقیقات،جرمانے اور قانونی کارروائی ہونا چاہیے۔یہ اس بات کا مطالبہ ہے کہ قانون کے تحت جو رقوم پہلے ہی واجب الادا ہیں،وہ سب سے یکساں طور پر وصول کی جائیں۔سستی بجلی اور قرضوں کی آسان دستیابی اس پیداواری ادارے کیلئے بے معنی ہے جسے سرحد پرانڈر پرائسنگ کا سامنا ہو۔حکومت نے لوم مالکان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے مسائل حل کئے جائیں گے۔پاکستان اور چین کی سرحد پر’انڈر انوائسنگ’کی روک تھام ایک اچھا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
گنجائش سے زیادہ بھرے ہوئے جیل خانے
پاکستان کی گنجائش سے زیادہ بھرے ہوئے جیل خانے قید کے اصل مقصد یعنی اصلاحِ احوال، تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی فراہمی کو مسخ کر دیتے ہیں۔نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس اورجسٹس پروجیکٹ پاکستان کی جانب سے مرتب کردہسالانہ جیل ڈیٹا رپورٹ دوہزارچھبیس سے انکشاف ہوتا ہے کہ طویل قید،مقدمات میں تاخیر اور ضمانت کے حصول میں درپیش مشکلات جیسے معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت طویل عرصے سے نظر انداز کی جا رہی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی جیلیںجو اڑسٹھ ہزارآٹھ سوبتیس افراد کی گنجائش کیلئے تعمیر کی گئی تھیں ، اپنی گنجائش سے ایک سوساٹھ فیصد سے زائد بوجھ اٹھا رہی ہیں۔اس وقت جیل کے نظام میں گنجائش سے اکتالیس ہزارچھ سواَسی افراد زیادہ موجود ہیں۔نتیجے کے طور پر ایک لاکھ دس ہزارپانچ سوتیرہ افراد تنگ اور انتہائی غیر صحت بخش مقامات پر ٹھنسے ہوئے ہیں۔ہر چار میں سے تین قیدی قانونی تعطل کا شکار ہیں اور اپنے مقدمات کی سماعت کے منتظر ہیں۔قیدی سونے کیلئے باری مقرر کرنے پر مجبور ہیں۔تشویشناک بات یہ ہے کہ جیلوں میں خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوہزارچوبیس کے بعد سے ان کی تعداد میں چھیالیس فیصد اضافہ ہوا ہے اور بڑی تعداد میں بچے بھی مقدمات کی سماعت کے منتظر ہیں۔یہ حالات ظاہر کرتے ہیں کہ شہری کتنی آسانی سے شہری آزادیوں سے محروم کر دیے جاتے ہیں۔دہائیوں سے اس میں کوئی خاص اور بامعنی تبدیلی نہیں آئی ہے۔حراستی اقدامات پر ضرورت سے زیادہ انحصار نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔اگرچہ جیل کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے مختلف اقدامات قابلِ ستائش ہیں،لیکن ضمانت اور مچلکوں کے عمل میں مکمل اصلاحات اور مقدمات کی تیز رفتار سماعت ہی زیرِ سماعت قیدیوں کی تعداد میں حقیقی کمی لا سکتی ہے۔دریں اثنا،صحت کے سنگین مسائل بھی عام ہیں،جن میں ہیپاٹائٹس، ایچ آئی وی اور ذیابیطس کے کیسز کی اطلاعات شامل ہیں۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں