بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 16.4°C
Thursday, 15 October 2026 | پاکستان: 5 جمادی الاول 1448

تبصرہ کتاب دارالا سلام پٹھان کوٹ

Thursday, 15 October, 2026

(گزشتہ سے پیوستہ)
ان میں١۔ مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودی ۔ ٢ ۔ مستری محمد صدیق ۔٣۔سید محمد شاہ۔٤۔مولانا صدرالدین۔٥،سیدعبدالعزیز شرقی۔چالیس ارکان فراہم ہونے تک عارضی طور پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی امیر کے فرائض انجام دیں ۔ چودھری نیاز علی خان صاحب دارالا سلام کو درس و تبلیغ قرآن تک محدود رکھنا چایتے تھے۔ اس جگہ سیاست کے حق میں نہیں تھے۔چناں چہ مجلس شوریٰ کی قرارداد کے مطابق ادارہ دارالا سلام کا مرکز جنوری ٣٩، لاہور منتقل ہو گیا۔لاہور میں ١٩٤١ء میں ٧٥ افر اد کی شرکت اور ٧٥روپے کچھ آنے کے فنڈ سے جماعت تشکیل پائی۔کلمہ شہادت کی تجدیدکرکے سب نے جماعت اسلامی کے رکن کی حیثیت سے حلف اُٹھا کر جماعت اسلامی میں شریک ہوئے ۔ مولانا مودودی نے ارکان کو مسلمانوں کی پستی کی وجوعات اور جماعت اسلامی قائم کرنے کی وجہ تفصیل سے بتائی۔اگلے روز کے اجتماع میںبہ اتفاق کلی ارکان نے سید ابو الااعلیٰ مودودی کو اپنا امیر منتخب کرلیا’۔ دارالاسلام پٹھان کوٹ سے لاہور منتقل ہونے کے بارے سید مودودی کا بیان ہے۔لکھتے ہیں’ہمیں کسی زمین کی خاک سے کوئی دلچپی نہیںہے۔محبت اس نصب العین سے ہے کہ اللہ کاحکم سب حکموں پراس کاکلمہ سب کلموںپراور اس کا قانون سب قوانین سے بلاتر ہو۔اس لیلائے مقصودکی پیچھے جہاں جہاںکی ضرورت ہو گی جائیں گے اور جس جس سرزمین کی خا ک چھاننی پڑے گی چھانے گے۔’چودھری نیاز علی خان نے کوشش کی یہ کسی عالم کو لگا کر اس ادارے کو چلائیں۔ لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا، اُدھر جماعت اسلامی کی شوریٰ نے جنگ عظیم کی وجہ سے ملک میں افراتفری کی فضا کو دیکھتے ہوئے، کہیں پر امن جگہ ہیڈ کواٹر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔اسی اثناء میں سید مودودی نے چودھری نیاز علی کا عندیہ پا کران سے بات کی ۔چودھری صا حب دارا لاسلام ٹرسٹ کو سید مودودی کے حوالے کرنے پر تیار ہو گئے۔شوریٰ نے منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔لکھتے ہیں سید صاحب اس فیصلہ پر فرمایا ترجمان کے اشارت میں فرمایا’یہ نقل مکانی عارضی ہے ۔سردست صرف زمانہ جنگ کیلئے اس جگہ کو جماعت کا مرکز بنایاہے کہ آ ئندہ اللہ کی جو مشیت ہوگی ۔انشاء اللہ۔١٥جون تک اپنے چند رفقاء سمیت منتقل ہو جائوں گا اور دفتر ترجمان القرآن بھی اب وہاں رہے گا۔’میاں طفیل احمد کے حوالے سے لکھتے ہیں’سب لوگ دار الاسلام میں اپنے سارے کام خود کرتے تھے اپنے سر گندم کی بوریاں اُٹھا کر قریبی پن چکی پر آٹا پسوانے کیلئے جاتے اور ایک ڈیڑھ میل کی دو ری پر ایک آرا مشین سے ایندھن کی لکڑیاں اپنی پیٹھ پر لاد کر لاتے، مسجد کے کنویںسے سب لوگ اپنے گھر کیلئے پانی خود بھر کر لاتے اور چار میل کے فاصلے پر پٹھان کوٹ اکثر پیدل چل کر اپنا سودہ سلف لاتے۔’ ان میں کوئی عالم دین ہوتے کوئی اعلیٰ جدید تعلیم یافتہ ہوتے، کوئی بھی شرم محسوس نہیں کرتا۔یہ درد مند لوگ تھے۔اللہ کیلئے ایک دوسرے سے ملتے تھے کسی کو کسی سے کوئی غرض نہیں تھی، آپس میںصرف دین کی محبت تھی۔اس بستی کیلئے جسٹس ملک غلام علی بتاتے ہیں۔’ وہ ایسا ماحول تھا کہ ہمیںدوبارا نصیب نہ ہو سکا۔وہاں ہماری ایک اپنی بستی تھی، اپنی فضا تھی اوربہت ہی باقاعدگی مولانا امین اصلاحی درس قرآن اور مولانا سید مودودی درس حدیث دیتے تھے۔ روسی انقلاب کے بعد ترکستان سے اعظم عاشمی آئے ۔ تفتہ بیگ آئے ۔ عاشمی صاحب نے بتایا ان کے والد دادا،نانا سب عالم تھے انہیں پھانسی دے دی گئی ۔ ان مظالم کو سن کر سید مودودی کی آنکھوں میں آنسو آئے۔’نعیم صدیقی کا بیان’ہم لوگوں کیلئے ممکن نہیں کہ دارالاسلام کے مختصر سے دور ا خذ و اکتساب کو زندگی کے کسی بھی مرحلے میں بھلا سکیں آگے’لکھتے ہیں’ ١٩٤٢ء تا١٩٤٧ء تک تینوں اجتماع اہم تھے۔ ١٩٤٧ء میں عام تعلیم یافتہ غیر مسلم کے علاوہ عام میںآریہ سماج اور جن سنگھ لیڈراور سکھ رہنما بھی تھے۔سید نقی علی کے الفاظ میں آتش فشاں کے دہانے کھڑے ہوئے لوگ مسلم و غیرمسلم حق بات سننے کیلئے جمع ہو گئے تھے۔بنائو و بگاڑ کے عنوان سے مشہور تقریر سید صاحب اسی جلسہ عام میں کی تھی۔سید صاحب نے غیر مسلم سے فرمایا، ملک تقسیم ہوجائے گا۔ ایک مسلمان اکثریت دوسرا غیر مسلم اکثریت میں۔وہ اپنے بزرگوں ،رام چندر جی،کرشن جی،بودھ مہاراج، گرونانک اور دوسرے رشیوں اور مینوں کی تعلیم اور سیرتوں کا جائزہ لیں۔ ویدوں اورپرانوں، شاتروں اورگرنتھوں کو بھی دکھیں اگر ان میںزمانہ حال کی ایک ترقی پذیر ریاست کا نظام چلانے کیلئے کوئی مفصل ہدایات تمھیں ملتی ہیں،م تمھیں کہیں گے کہ اپنے ہندوستان کی ریاست کا نظام اسی پر قائم کیجیے۔ لیکن اگر آپ اپنے ہاںایسا کوئی مفصل ہدایت نامہ نہ پائیں تو اس کے معنی یہ نہیں کہ وہ خدا نے آپ کے ہاں نہیں بھیجا تھا، بلکہ اس کے معنی صرف یہ ہیںکہ اپنی طویل تاریخ کے انقلابات میں اس کے بڑے حصے کو آپ کھوبیٹھے ہیں ، وہی چیز اُسی خدا کی بھیجی ہوئی ہم آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں یہ آپ کی ہی کھوئی ہوئی چیز ہے جو ایک دوسرے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے آپ کے پاس واپس آئی ہے۔ آپ اسے پہچاننے کی کوشش کریں اور اسے جانچیں پرکھیں اور برت کر دیکھیں کہ اس میں واقعی آپ کی اور دنیا کی فلاح ہے یا نہیں۔یہ دنیا جس خدا نے بنائی ہے وہ چوپٹ راج نہیں ہے کہ اس کی نگری اندھی نگری ہو۔خداکے قانون کی سب سے اہم دفعہ یہ ہے کہ وہ بنائو کوپسند کرتاہے اور بگاڑ کوپسند نہیں کرتا۔ان میں صرف وہ لوگ خدا کی نظر انتخاب میں مستحق ٹھہرتے ہیں جن کے اندر بنانے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے پھر وہ دیکھتا رہتاہے کہ یہ لوگ بناتے کتنا اور بگاڑتے کتنا ہیںجب وہ کم بناتے ہیں اور زیادہ بگاڑنے لگتے ہیں خدا انہیں اُٹھا کر پھینک دیتا ہے اور د وسرے امیدواروںکی اسی شرط پر انتظام سونپ دیتا ہے ۔ ‘لکھتے ہیں’٣١ اگست ١٩٤٧ء تک دارالاسلام میں ہی رہے ۔ علامہ اسد،سید مودودی اور مسلم لیگی رہنما چودھری نیاز علی خانکی مشترکہ کوششوں سے محفوظ سفر کا بندو بست کیا گیا اور٢ ستمبر١٩٤٧ء کو قافلہ مولانا مودودی کی قیادت میں یہ لوگ مہاجرین کے کیمپ واقع والٹن لاہور پہنچ گئے ۔ ‘واپسی کیلئے علامہ اسد نے بہت اہم کردار ادا کیا ۔ ظفراللہ قادیانی کی خواہش کے مطابق ، قادیانی ، ہندو اور انگریز کی سازش سے دارالاسلام ہندوستان میں رہ گیا’۔ یہ کتاب ‘ دارالاسلام پٹھان کوٹ’ جماعت اسلامی کے کارکنوں کیلئے معلومات کاخزانہ ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *