خیبر پختونخواہ کے مجموعی حالات پر نظر دوڑائی جائے تو اس میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ خیبر پختونخوانے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ یہاں کے عوام، سکیورٹی فورسز، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وطن عزیز کے تحفظ کیلئے لازوال عزم اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم دہشتگردی کے مسلسل خطرات، امن و امان کی پیچیدہ صورت حال اور عوام کے جان و مال کو لاحق خدشات اس امر کے متقاضی تھے کہ حالات کی سنگینی کے مطابق موثر، بروقت اور فیصلہ کن اقدامات کیے جانے ضروری ہو گئے تھے۔ایسے حالات میں گورنر راج کے نفاذ کو وفاقی حکومت کی جانب سے ایک غیر معمولی انتظامی اقدام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جس کا بنیادی مقصد صوبے میں امن و امان کی بہتری، ریاستی رٹ کی بحالی اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے ۔جب کسی صوبے میں معمول کے انتظامی طریقہ کار کے ذریعے درپیش سنگین چیلنجز سے نمٹنا مشکل ہو جائے تو آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے غیر معمولی اقدامات پر غور کرنا ریاست کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ امن و امان قومی ترجیح بن جایا کرتی ہے۔ دہشت گردی محض چند واقعات یا مخصوص علاقوں تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ یہ قومی سطح پر معاشرتی زندگی، معیشت، تعلیم، صحت اور عوام کے مستقبل کو متاثر کرتی ہے۔ جب کسی علاقے میں شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگیں، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں، تعلیمی اداروں کو خطرات لاحق ہوں اور سرکاری اہلکاروں کو فرائض کی انجام دہی میں مشکلات پیش آئیں تو اس کے اثرات پورے صوبے پر مرتب ہوتے ہیں۔خیبر پختونخوا کے عوام کو بھی وہی محفوظ ماحول، بہتر سہولیات اور ترقی کے مواقع ملنے چاہیں جو ملک کے دوسرے حصوں کے شہریوں کا حق ہیں۔ اس مقصد کیلئے ضروری ہے کہ دہشتگرد عناصر کیخلاف موثر حکمت عملی اختیار کی جائے، ان کے سہولت کاروں کا قانون کے مطابق محاسبہ ہو اور ریاستی اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی پیدا کی جائے۔گورنر راج کے حامی نقط نظر کے مطابق اس غیر معمولی انتظام کے ذریعے وفاقی سطح پر فیصلوں اور عملی اقدامات میں یکسانیت پیدا کرنے، سکیورٹی اداروں کے مابین رابطہ مضبوط بنانے اور امن و امان سے متعلق پالیسیوں پر تیزی سے عمل درآمد کا موقع مل سکتا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کا اصل معیار محض انتظامی ڈھانچے کی تبدیلی نہیں بلکہ زمینی حالات میں حقیقی بہتری ہوتا ہے ۔آئینی اختیار اور جمہوری ذمہ داری کو دیکھا جائے تو پاکستان کا آئین وفاق اور صوبوں کے اختیارات، ذمہ داریوں اور باہمی تعلقات کا تعین کرتا ہے۔ گورنر راج جیسے اقدام کے لیے آئینی تقاضوں، متعلقہ قانونی طریق کار اور جمہوری اصولوں کی مکمل پابندی ضروری ہے۔ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی سے متعلق مخصوص حالات میں صدر مملکت اعلان جاری کر سکتے ہیں جس کیلئے مقررہ آئینی طریق کار اور پارلیمانی نگرانی کی پابندی لازم ہے لہٰذااس کیلئے آج 15 اکتوبر 2026 کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں آئینی قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کی منظوری لی جا چکی ہے جس سے پختون خواہ میں گورنر راج و ایمرجنسی کا آئینی قانونی جواز فراہم کر دیا گیا ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھیہ امر بھی اہم ہے کہ گورنر راج کو سیاسی اختلافات کا حل یا کسی جماعت کو کمزور کرنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہئیے اوراگر اسے دہشتگردی کے خاتمے اور انتظامی بہتری کے مقصد سے نافذ کیا جائے تو اس کے نتائج بھی اسی پیمانے پر جانچے جانے چاہئیں ۔ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ منتخب نمائندوں، سیاسی جماعتوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان اختلافات کے باوجود قومی سلامتی کے معاملے پر مشترکہ لائح عمل اختیار کیا جائے۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ کسی ایک حکومت یا جماعت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری ریاست اور قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔دوسرا یہ کہ دہشتگردی کے خلاف جامع حکمت عملی کے تناظر میںیہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ صرف انتظامی تبدیلی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں کر سکتی۔ اس کیلئے ایک جامع حکمت عملی درکار ہے جس میں سکیورٹی اقدامات کے ساتھ انٹیلی جنس کی بہتری، پولیس کی استعداد میں اضافہ، موثر عدالتی کارروائی، سرحدی نگرانی اور دہشتگردی کی مالی معاونت کی روک تھام شامل ہونے کے علاہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد بھی ضروری ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ خیبر پختونخوا پولیس نے مشکل حالات میں قابلِ قدر قربانیاں دی ہیں جنہیں ثمر آور بنانے کیلئے پولیس اور انسدادِ دہشتگردی کے اداروں کو جدید آلات، تربیت، مناسب وسائل اور ضروری قانونی معاونت فراہم کرنا ناگزیرہو چکا تھا سو یہ بھی کہا جا چکا ہے ۔صوبے میں گورنر راج کیوں ضرورت بن چکا تھا ،اس کی وضاحت تو قارئین کرام کر دی گئی ہے تاہم اس کے باوجود اگر جمہوریت ک کی روح کو دیکھا جائے تو اس سلسلے میں صوبے کے قبائلی مشران، اساتذہ، علما، نوجوانوں اور سول سوسائٹی کو امن کے قیام کی کوششوں میں شریک کیا جانا چاہیے۔ کامیابی کا پیمانہ عوام کا اطمینان ہوا کرتا ہے گورنر راج اگر نافذ کیا جائے تو اس کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جانا چاہیے کہ آیا دہشتگردی کے واقعات میں کمی آتی ہے، شہریوں کی زندگی محفوظ ہوتی ہے، کاروباری سرگرمیاں بحال ہوتی ہیں اور سرکاری ادارے زیادہ موثر انداز میں کام کرنے لگتے ہیں یا نہیں۔ اس مقصد کیلئے واضح اہداف، شفاف نگرانی اور عوام کے سامنے جواب دہی کا نظام ضروری ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں