پاکستان میں ریاست اور حکومت دو الگ الگ تصورات ہیں، مگر بدقسمتی سے پچھلے کئی عشروں سے ان دونوں کو ایک ہی سکے کے دو رخ نہیں، بلکہ ایک ہی رخ بنا دیا گیا ہے۔ حکمران جب اقتدار میں آتے ہیں تو وہ خود کو ریاست سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کے نزدیک ریاست کا مفاد ان کی ذات، ان کی کرسی اور ان کے خاندان کا مفاد ہے۔ اسی غلط سوچ کو بچانے کے لیے وہ ان اداروں کو استعمال کرتے ہیں جن کو عوام کے جان و مال، عزت و آبرو کے تحفظ کے لیے بنایا گیا تھا۔پولیس، انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے، یہ سب عوام کے ٹیکس سے تنخواہ لیتے ہیں۔ آئین میں ان کا کام واضح ہے کہ وہ نظم و ضبط قائم کریں، مظلوم کو انصاف دیں، ظالم کو روکیں۔ لیکن جب یہی ادارے کسی سیاسی یا مذہبی تحریک کے پرامن کارکنوں پر تشدد کریں، انہیں گھروں سے اٹھا لیں، جعلی مقابلوں میں مار دیں، ان کی چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کریں، تو یہ صرف قانون کی خلاف ورزی نہیں، یہ غیر شرعی فعل ہے، یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ اسلام میں حکمران کے لیے سب سے بڑی آزمائش عدل ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ دریائے فرات کے کنارے اگر ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو عمر سے پوچھا جائے گا۔ جب حکمران ان اداروں کو اپنا ذاتی محافظ دستہ بنا لیتے ہیں تو سب سے پہلے اداروں کے اندر سے اصول ختم ہوتا ہے۔ ایک ایس ایچ او جب جانتا ہے کہ اس کی ترقی اس کی کارکردگی سے نہیں، بلکہ حکمران کی خوشنودی سے ہوگی، تو وہ قانون کی کتاب بند کر کے حکمران کی خواہش کی کتاب کھول لیتا ہے۔ پہلا نقصان یہ کہ ادارے کا اپنا مورال ختم ہو جاتا ہے۔ اچھا، قابل، ایماندار افسر سائیڈ لائن ہو جاتا ہے اور خوشامدی، نااہل اور ظالم افسر ہیرو بن جاتا ہے۔دوسرا نقصان یہ کہ عوام اور اداروں کے درمیان نفرت کی ایک گہری خلیج پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ پولیس جو عوام کی محافظ تھی، وہی عوام کو اغوا کرتی نظر آتی ہے تو عوام کے دل میں اس وردی کی عزت ختم ہو جاتی ہے۔ یہ خلیج کسی دشمن کے میزائل سے زیادہ خطرناک ہے۔ تیسرا نقصان معاشرے پر ہوتا ہے۔ جب انصاف بکتا نظر آئے، جب طاقتور کے لیے ایک قانون اور کمزور کے لیے دوسرا قانون ہو، تو معاشرے سے سچ، انصاف اور محنت کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ نوجوان سمجھتا ہے کہ اس ملک میں زندہ رہنے کے لیے ڈگری نہیں، کسی طاقتور کی پرچی چاہیے۔ یہی مایوسی ملک سے ہجرت، جرائم اور انتہا پسندی کو جنم دیتی ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں اپوزیشن اور حکومت، دونوں نے سیاست کو عبادت نہیں، انتقام بنا لیا ہے۔حکمران جب اپوزیشن میں ہوتا ہے تو وہ آئین، قانون اور جمہوریت کی باتیں کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ نیب کا قانون کالا ہے، پولیس سیاسی ہو گئی ہے، میڈیا پر پابندی ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ اقتدار میں آتا ہے، وہی کالا قانون اسے سفید لگنے لگتا ہے۔ وہی پولیس اسے مسیحا لگنے لگتی ہے۔ وہی میڈیا پر پابندی اسے ملکی مفاد لگنے لگتی ہے۔وہ پچھلی حکومت کے تمام منصوبے بند کر دیتا ہے، ان کے وزرا پر جھوٹے مقدمے بناتا ہے، ان کے کارکنوں کو جیلوں میں ڈالتا ہے۔ پھر جب وہ دوبارہ اپوزیشن میں جاتا ہے تو دوسری پارٹی یہی کچھ اس کے ساتھ کرتی ہے۔یہ بات ہمیں ماننی پڑے گی کہ فوج اگر سیاستدان کو استعمال کر رہی ہے تو اس میں غلطی صرف فوج کی نہیں ہے۔ غلطی سیاستدان کی بھی ہے۔ وہ اتنا کمزور، اتنا نااہل، اتنا بے اصول کیوں ہے کہ کوئی اسے استعمال کر لے؟ ایک مضبوط، باکردار، اصولوں والا سیاستدان کسی کے ہاتھ میں کھلونا نہیں بنتا۔ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63۔ یہ آرٹیکل کہتے ہیں کہ رکن پارلیمنٹ صادق اور امین ہونا چاہیے کتنا خوبصورت اصول ہے لیکن اس کا استعمال کیسے ہوا؟ اسے ایک ہتھیار بنا دیا گیا۔ اور ایک اور ظلم دیکھیے۔ جس چیز کو روکنا تھا اسے آئینی تحفظ دے دیا گیا۔ میں بات کر رہا ہوں فلور کراسنگ کی۔ ہارس ٹریڈنگ، ضمیر فروشی، لوٹا کریسی، یہ جمہوریت کے لیے کینسر ہیں۔ دنیا بھر میں اسے روکا جاتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں اسے آئینی تحفظ دے کر خرید و فروخت کے لیے باقاعدہ راستہ نکالا گیا ہے۔ ایک رکن جو پارٹی ٹکٹ پر، پارٹی منشور پر ووٹ لے کر آتا ہے، وہ راتوں رات اپنا ضمیر بیچ دیتا ہے اور قانون کہتا ہے کہ ٹھیک ہے۔ یہ جمہوریت نہیں، یہ منڈی ہے۔حکمرانی کو آزمائش کی بجائے حق سمجھنا، یہ سب سے بڑی ذہنی بیماری ہے۔ اسلام میں حکمرانی حق نہیں، بہت بڑی آزمائش اور بوجھ ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد پہلا خطبہ دیا تو کہا کہ اگر میں ٹھیک چلوں تو میرا ساتھ دینا، اگر ٹیڑھا چلوں تو مجھے سیدھا کر دینا۔ آج کا حکمران کہتا ہے کہ میں ٹیڑھا بھی چلوں تو تمہیں سیدھا چلنا پڑے گا۔ یہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ریاست کو یہ ماننا پڑے گا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ کسی سیاسی یا مذہبی کارکن کو صرف اس لیے غائب کر دینا، مار دینا، یا اس کی عزت لوٹ لینا کہ وہ آپکی پالیسی سے اختلاف کرتا ہے، یہ ریاست کو کمزور کرتا ہے، مضبوط نہیں۔ اختلاف کو طاقت سے نہیں، دلیل سے ختم کیا جاتا ہے۔آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ یہ ملک عوام کا ہے۔ یہ ادارے عوام کے ہیں۔ حکمران آتے جاتے رہیں گے۔ یہ کرسیاں کسی کی جاگیر نہیں ہیں۔ اگر آج ہم نے اداروں اور عوام کے درمیان نفرت کی یہ خلیج ختم نہ کی، تو کل یہ خلیج اتنی گہری ہو جائے گی کہ اسے بھرنا ناممکن ہو جائے گا۔ اور جب عوام کا ریاست سے اعتماد اٹھ جاتا ہے، تو ریاستیں صرف نقشے پر رہتی ہیں، دلوں پر نہیں۔ہمیں ریاست کو دلوں پر دوبارہ زندہ کرنا ہے، اور اس کا واحد راستہ عدل، انصاف اور عوام کی حکمرانی ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں