بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 16.7°C
Friday, 23 October 2026 | پاکستان: 13 جمادی الاول 1448

انسانی حقوق کی آڑ میں پاکستان مخالف مہم

Friday, 23 October, 2026

یہ بات کسی سے بھی پوشیدہ نہیں کہ فتنہ الہندوستان اور کابل رجیم نے خارجی ٹولے کی معاونت سے پاک فوج کیخلاف زہر اگلنے کا لامتناہی سلسلہ کر رکھا ہے ۔ااسی ضمن میں قابل ذکر ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے حوالے سے بھارتی ہائی کمیشن لندن، کالعدم ایکشن کمیٹی اور برطانیہ میں قائم جموں و کشمیر ہیومن رائٹس آبزرویٹری سے متعلق سامنے آنیوالی تفصیلات ایک منظم پاکستان مخالف مہم کی نشان دہی کرتی ہیں۔رابطوں کی تفصیلات، ملاقاتوں، واٹس ایپ کالز اور تنظیم کی رجسٹریشن سے متعلق معلومات اس پورے معاملے کی اہم کڑیاں ہیں۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں بھارتی ہائی کمیشن لندن اور کالعدم کشمیر ایکشن کمیٹی کے درمیان رابطے، جبکہ جون میں بھارتی ہائی کمیشن کے عہدیدار پرمود کھیم چندانی اور بھارتی نشریاتی ادارے ٹائمز ناؤ سے وابستہ زکا جیکب کی ملاقات، اس معاملے کے اہم پہلو ہیں۔یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ ان رابطوں کا تعلق آزاد جموں و کشمیر سے متعلق پاک مخالف مخصوص بیانیے کو بین الاقوامی سطح پر فروغ دینے کی کوششوں سے تھا۔ یہ سرگرمیاں اس امر کی نشان دہی کرتی ہیں کہ پاکستان مخالف بیانیے کو سیاسی روابط اور میڈیا تشہیر کے ذریعے آگے بڑھانے کی مکروہ کوشش کی گئی۔اسی حولے سے اظہر احمد، یاسر شفاعت اور ڈاکٹر اشتیاق خالق سے متعلق تفصیلات بھی اسی معاملے کا اہم حصہ ہیں۔آزاد ذرائع کے مطابق، 24 جون 2026 کو ان افراد کو آزاد جموں و کشمیر سے متعلق پاک مخالف مخصوص بیانیے کو تقویت دینے کیلئے متحرک کیا گیا، جبکہ زکا جیکب کو میڈیا کے ذریعے اس مؤقف کی تشہیر سے منسلک کیا گیا۔ مزید یہ کہ جون کے دوران بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے ان تین افراد کو 17 واٹس ایپ کالز کیے جانے کی تفصیل بھی سامنے آچکی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نظرانداز کرنے کا نہیں بلکہ اس میں شامل روابط اور سرگرمیوں کو بے نقاب کرنے کا ہے۔ کسے معلوم نہیں کہ انسانی حقوق کے نام پر پاکستان مخالف پروپیگنڈا، بیرونی مداخلت اور ریاستِ پاکستان کے خلاف منظم سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں۔علاوہ ازیں 30 جولائی 2026 کو برطانیہ میں جموں و کشمیر ہیومن رائٹس آبزرویٹری کی رجسٹریشن اور اس کے بعد آزاد جموں و کشمیر سے متعلق رپورٹس کی اشاعت بھی غالبا اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، رجسٹریشن دستاویزات میں پرمود کھیم چندانی کا نام درج ہے، جبکہ تنظیم کی رپورٹس کو کالعدم ایکشن کمیٹی کے بیانیے سے ہم آہنگ قرار دیا گیا ہے۔ تنظیم کے قیام، اس کے روابط اور اس کی رپورٹوں کے مندرجات کو یکجا کرکے دیکھنے سے اس کے کردار اور مقاصد پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔کیوں کہ انسانی حقوق کے نام پر قائم کسی پلیٹ فارم کو پاکستان مخالف سیاسی مہم کیلئے استعمال کرنا قابلِ قبول نہیں۔اس پاک مخالف جے کے ایچ آر او کی رپورٹس کو دی انڈیپنڈنٹ، ٹائمز ناؤ اور کشمیر ٹائمز سمیت مختلف ذرائع ابلاغ میں جگہ ملنے سے اس بیانیے کو بین الاقوامی سطح پر تشہیر ملی۔ اس ضمن میں پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ اسے درپیش دہشت گردی کا ایک اہم حصہ سرحد پار موجود نیٹ ورکس، تربیتی مراکز، سہولت کاروں اور بیرونی معاونت سے جڑا ہوا ہے۔اس حولے سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے بھارت کی مبینہ معاونت کے معاملے کو صرف سیاسی بیانات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اس ضمن میں ٹھوس اور نا قابل تردید شواہد عالمی اداروں اور مختلف ممالک کے سامنے رکھے ہیںیہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کیخلاف یک طرفہ بیانیے کو پھیلانے اور مخصوص سیاسی مؤقف کو عالمی رائے عامہ پر مسلط کرنے کی کوششوں کا مؤثر جواب دینا ضروری ہے۔ ذرائع ابلاغ کو پاکستان مخالف مہم کا ذریعہ بنانے کی کسی بھی کوشش کو بے نقاب کیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کیوں کہ پاکستان اپنی ساکھ کے دفاع میں خاموش تماشائی نہیں بن سکتا، خصوصاً جب معاملہ ریاستی مفادات اور قومی سلامتی سے جڑا ہو۔اس تمام صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مؤقف قطعی اور غیر متزلزل ہے اور بھارت کی جانب سے پاکستان مخالف سرگرمیوں، بیرونی مداخلت اور منظم پروپیگنڈے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا۔علاوہ ازیں متعلقہ رابطوں، تنظیمی دستاویزات اور میڈیا سرگرمیوں کی تفصیلات کو یکجا کرکے برطانوی حکام اور بین الاقوامی فورمز پر بھرپور انداز میں پیش کیا جانا چاہیے۔ پاکستان مخالف مہم چلانیوالوں کو یہ واضح پیغام ملنا چاہیے کہ ریاستِ پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کیلئے ہر متعلقہ سفارتی اور قانونی راستہ اختیار کرے گی کیونکہ پاکستان کیخلاف منظم پروپیگنڈا محض ذرائع ابلاغ کی سرخیوں کا معاملہ نہیں؛ یہ قومی وقار، خودمختاری اور سلامتی کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔ پاکستان کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ انسانی حقوق کے نام پر اس کیخلاف سیاسی محاذ کھولے، مخصوص بیانیہ پھیلائے اور بیرونی مداخلت کو معمول بنانے کی کوشش کرے ۔ قومی مفادات کے تحفظ کیلئے واضح مؤقف، مؤثر سفارتکاری اور فیصلہ کن اقدامات ناگزیر ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *