محترم نذیر احمد غازی صاحب!آپ نے اپنے والد گرامی حضرت میاں جی کی یادوں کے ذریعے ایسے دور کی جھلک دکھائی ہے جہاں تربیت، عبادت، سادگی، شفقت اور اخلاق زندگی کا حصہ تھے۔ آپ کی تحریر مبارک باد کی مستحق ہے، کیونکہ ایسی تحریریں ہمیں اپنی جڑوں کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتی ہیں۔ آپ کا کالم پڑھ کر ماضی کی وہ یادیں تازہ ہو گئیں جب خاندان دکھ درد بانٹنے، چھوٹوں کو سینے سے لگانے، بڑوں کا احترام اور ایک دوسرے کے حقوق کی حفاظت کرنے کا نام تھا۔آپ نے اپنے والدین، خصوصاً حضرت میاں جی کی تربیت، قرآن کریم سے محبت، سادگی، شفقت اور اعلیٰ اخلاق کا خوبصورت ذکر کیا ہے۔ ایسی تحریریں انسان کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت دیتی ہیں۔ نذیر احمد غازی صاحب میرے لیے محترم بزرگ ہیں۔ ان کی تحریر یاد دلاتی ہے کہ خاندانوں کی اصل دولت جائیداد یا کاروبار نہیں، بلکہ وہ اخلاقی اقدار ہیں جن کے سہارے نسلیں جڑی رہتی ہیں۔ اقدار ختم ہوں تو بڑے خاندان بھی کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔وہ زمانہ تھا جب خاندان کا کوئی فرد مشکل میں پڑتا تو دوسرے اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے۔ پریشانی، بچے کی تعلیم، بیٹی کی شادی یا بیمار بزرگ کے علاج میں رشتے دار اپنی استطاعت کے مطابق مدد کرتے تھے۔ ہر چیز کا حساب نہیں رکھا جاتا تھا، کیونکہ رشتوں کی قدر پیسے سے زیادہ ہوتی تھی۔آج خاندانی روایات رفتہ رفتہ دم توڑ رہی ہیں۔ جن بچوں کو ہم نے کھلایا، چلنا سکھایا اور جن کی تعلیم، تربیت اور مستقبل کے لیے اپنی خوشیاں قربان کیں، وہی بڑے ہو کر بعض اوقات اپنے محسنوں سے یوں پیش آتے ہیں جیسے کوئی تعلق ہی نہ رہا ہو۔ بعض اپنے بزرگوں کا وقار بھی مجروح کرتے ہیں۔ یہ ہر خاندان کی کہانی نہیں، لیکن ایسے واقعات ضرور دکھائی دیتے ہیں جہاں احسان کا جواب بے رخی اور بدتمیزی سے دیا جاتا ہے۔بزرگ سمجھانے کی کوشش کریں تو ان کی بات سننے کے بجائے انہیں زبان اور لہجے کے طعنے دیے جاتے ہیں، گویا عمر بھر کی محبت اور قربانی کی کوئی قیمت نہیں۔ اختلاف ہر انسان کا حق ہے، مگر اختلاف کے نام پر کسی کی عزت پامال کرنا کہاں کی شرافت ہے؟ اگر بزرگوں کی ہر نصیحت میں غلطی تلاش کرنی ہے تو سوال ہے کہ ہم نے نئی نسل کو دیا کیا ہے؟ تعلیم دی، مگر برداشت بھی سکھائی؟ دولت کمانا بتایا، مگر حلال و حرام کا فرق سمجھایا؟ اپنے حقوق مانگنا سکھایا، مگر دوسروں کے حقوق ادا کرنا بھی؟خاندان کی تباہی کئی مرتبہ گھر کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ جب حق دار کو اس کا حق نہ ملے، رشتوں کو مفادات کے ترازو میں تولا جائے، خاموشی کو کمزوری سمجھا جائے اور جائیداد کی خاطر بھائی بھائی سے یا اولاد بزرگوں سے الجھنے لگے تو بنیادوں میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔ وراثت میں کسی کا جائز حق دبانا، کمزور رشتے دار کو حصے سے محروم رکھنا اور مجبوری سے فائدہ اٹھانا رشتوں کو کمزور کرتا ہے۔بعض اوقات خاندان کی عزت بچانے کے لیے ایک شخص اپنے بچوں کے جائز حقوق قربان کر دیتا ہے، اس امید پر کہ رشتے سلامت رہیں گے۔ وہ اپنی خواہشات دبا لیتا ہے، لیکن جب قربانی کے باوجود دوسرے فریق کا رویہ نہ بدلے اور نرمی کو کمزوری سمجھا جائے تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ وہ ان بچوں کو کیا جواب دے گا جن کے حقوق کی حفاظت اس کی ذمہ داری تھی؟ خاندان کو بچانا نیکی ہے، لیکن اس نام پر کسی کا حق کھانا یا بچوں کے جائز حقوق قربان کرتے رہنا دانش مندی نہیں۔ صلح اور درگزر قابلِ احترام ہیں، مگر انصاف کے بغیر صلح دیرپا نہیں ہوتی۔ محبت کا تقاضا نہیں کہ ایک شخص ہمیشہ قربانی دے اور دوسرا فائدہ اٹھائے۔ رشتہ تبھی خوب صورت رہتا ہے جب دونوں طرف احترام، انصاف اور احساسِ ذمہ داری ہو۔بزرگوں کی خاموشی کو اکثر غلط سمجھ لیا جاتا ہے۔ کوئی فساد سے بچنے یا رشتہ بچانے کیلئے تلخ بات پی جائے تو بعض لوگ اسے بے بس سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ اپنی تربیت اور خاندان کی عزت کو انا پر مقدم رکھتا ہے۔ کسی کی شرافت کو کمزوری سمجھنا خود اپنے کردار کی کمزوری ہے۔ میں اپنی بساط کے مطابق لوگوں کو سمجھانے، خاندانوں کو جوڑنے اور ناراض دلوں میں صلح کی گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ کبھی بات سننے کے بجائے نصیحت کرنے والے کا مذاق اڑایا جاتا ہے، لیکن اگر میری بات سے کوئی بھائی حق واپس کر دے، کوئی بھتیجا چچا کی عزت کرے یا کوئی بیٹا والدین کی قربانیوں کو یاد کر لے تو میری کوشش کامیاب ہے۔ مشکل پیش آنے یا رہنمائی درکار ہونے پر کبھی وہی لوگ اس شخص کو تلاش کرتے ہیں جس کی بات پہلے سنجیدگی سے نہیں سنی تھی۔ میں اسے شکایت کے بجائے انسانی رویوں کا سبق سمجھتا ہوں۔ مخلص شخص کی قدر اس وقت بھی کرنی چاہیے جب اس کی ضرورت نہ ہو۔ ہر خیرخواہ کی بات ماننا ضروری نہیں، لیکن اس کی نیت سمجھے بغیر اسے حقیر جاننا بھی درست نہیں۔ بعض جگہ رشتے بھی حساب مانگنے لگے ہیں: کس نے کتنا دیا اور کس کو کتنا ملا؟ یہ سوال اہم ہیں، خصوصا قانونی اور شرعی حقوق کے معاملے میں، لیکن جب ہر تعلق لین دین تک محدود ہو جائے تو محبت کے لیے جگہ نہیں رہتی۔ خاندان مشترکہ جائیداد نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی عزت، دکھ درد اور حقوق کی حفاظت کا عہد ہے۔ بچوں کے سامنے اختیار کیے جانے والے رویے خاندانی روایت بن جاتے ہیں۔ بڑوں کو حقوق کا احترام کرتے دیکھ کر بچوں میں انصاف پیدا ہوتا ہے، لیکن طاقت ور کو کمزور کا حق دباتے دیکھ کر وہ بھی اسے درست سمجھنے لگتے ہیں۔ یوں غلط رویہ اگلی نسلوں تک پہنچتا ہے۔ بچوں کو دولت کیساتھ کردار کی میراث بھی دینی چاہیے۔ بڑا ہونا چھوٹوں کیلئے شفقت اور بڑوں کیلئے احترام کا نام ہے۔ ہمارے والدین نے ہماری اچھی تربیت کی، لیکن ہم اپنی کمزوریوں کے باعث بعض اوقات اس پر پورا نہیں اترتے۔ مختلف خاندانوں سے میل جول نے یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ اپنے خاندان میں شادی کے بھی فوائد ہیں اور باہر رشتہ کرنے کے بھی۔ تاہم اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان بزرگوں کی تربیت، رشتوں کی حرمت اور خاندان کی عزت کو مقدم رکھے ۔ اپنی قوم، عزیزوں، بھائیوں، بھتیجوں اور نئی نسل سے گزارش ہے کہ رشتوں کو انا، مفاد اور جائیداد کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ بڑوں کی قدر کریں، چھوٹوں پر شفقت کریں اور کسی کا حق نہ کھائیں۔ زیادتی ہو تو نفرت کے بجائے انصاف کا راستہ اختیار کریں۔ درگزر کریں، مگر حق و انصاف کو زندہ رکھیں۔ بزرگ کی بات غلط ہو تو احترام سے سمجھائیں اور نوجوان کی رائے درست ہو تو قبول کریں۔ اختلاف ہو سکتا ہے، بدتمیزی ضروری نہیں۔رشتوں کو ذاتی مفاد یا اناّ کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ ہر شخص اپنے کردار اور ذمہ داری سے پہچانا جائے؛ کسی کے نام یا نسبت کو فائدے کیلئے استعمال کرنا اخلاقا درست نہیں۔ دولت تقسیم اور گھر الگ ہو سکتے ہیں، لیکن دلوں میں احترام باقی ہو تو رشتے زندہ رہتے ہیں۔ محبت ختم ہو جائے تو ایک چھت کے نیچے رہنے والے بھی اجنبی بن جاتے ہیں۔ خاندان کی اصل میراث زمین، مکان یا دولت نہیں، بلکہ عزت، تربیت اور اخلاق ہیں جو ایک نسل دوسری نسل کو منتقل کرتی ہے۔ یہ میراث کھو جائے تو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں بچتا؛ اسے بچا لیا جائے تو تنگ دستی میں بھی خاندان امیر رہتا ہے۔ خاندان کردار، وفاداری، انصاف اور احترام سے قائم رہتے ہیں۔ جو نسل بزرگوں کی عزت اور دوسروں کے حقوق کی حفاظت کرتی ہے، وہی خاندانی میراث کی امین بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے خاندانوں میں محبت، انصاف، برداشت اور احترام پیدا فرمائے، حق داروں کو ان کے حقوق دلائے، بزرگوں کو عزت اور بچوں کو اچھی تربیت نصیب فرمائے، اور ہمیں ایسا کردار عطا کرے کہ آنیوالی نسلیں ہمارے نام پر فخر کر سکیں، شرمندہ نہ ہوں۔ آمین





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں