انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل سٹریٹجک سٹڈیز کے زیر انتظام لندن میں سیمینار کے دوران بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور علاقائی بالادستی کی سوچ کو جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔ بھارت کی ہندوتوا پالیسی پر مبنی سیاست خطے میں بدامنی کا باعث ہے، بھارت کی جارحانہ عسکری سوچ اور جوہری صلاحیتوں میں تیز رفتار اضافہ جنوبی ایشیا کے سٹریٹجک استحکام کیلئے خطرہ ہے۔ بھارت کی جانب سے جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی کے دعوے پر سوالیہ نشان ہے، بھارت کے میزائل پروگرام اور دوہری صلاحیتوں کے حامل ہتھیار خطے میں تصادم کا خطرہ بڑھا رہے ہیں۔ مئی 2025 کے بحران میں بھارتی جارحیت نے جنوبی ایشیا کو جوہری تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا تھا، پاکستان نے بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے بعد ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپناتے ہوئے کشیدگی مزید نہیں بڑھائی۔ پاکستان کی پالیسی واضح ہے، جارحیت کرنے والے کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی، پاکستان کا جوہری اور فل سپیکٹرم ڈیٹرنس خطے میں سٹریٹجک توازن برقرار رکھنے کا اہم ستون ہیں۔ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل سے گریز کرکے فوجی طاقت اور جارحیت کے ذریعے تنازع دبانے کی کوشش کر رہا ہے، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیلئے بھارت کو سیاسی مکالمے کا راستہ اپنانا ہوگا۔ بھارت میں ہندوتوا ایک سیاسی و نظریاتی نظریہ ہے جو بھارت کو ایک خالص ہندو ریاست (ہندو راشٹر) بنانے پر زور دیتا ہے۔ مودی حکومت کے دور میں اس پالیسی کو ملکی اور خارجہ دونوں سطحوں پر خاصی اہمیت دی گئی ہے۔ آر ایس ایس اور حکمران حلقوں کے بیانات کے مطابق، بھارت میں مقیم مسلمانوں اور مسیحیوں کو بھی ہندو ثقافت، بھارتی روایات اور آباواجداد کو تسلیم کرنے کی شرط سے جوڑا جاتا ہے۔ جموں و کشمیر کے حوالے سے سخت اور یکطرفہ اقدامات کیے گئے ہیں، جسے انسانی حقوق کی تنظیمیں اور حریت رہنما خطے میں جبر اور آبادیاتی تبدیلی کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ مزید تفصیلات کیلئے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان ملاحظہ کریں۔ بھارتی جریدوں اور مبصرین کے مطابق، ہندوتوا کے انتہا پسند نظریے نے بھارت کی خارجہ پالیسی اور علاقائی سفارت کاری کو بھی متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے کئی ممالک کے ساتھ اس کے اسٹریٹجک تعلقات میں تناؤ دیکھا گیا ہے۔ امریکی اخبارنیویارک ٹائمزنے ایک رپورٹ میں خبردار کیاہے کہ مودی حکومت نے مغربی بنگال میں منظم دھاندلی اور مسلمان مخالف جذبات ابھار کر نام نہاد جمہوری انتخابات کا ڈھونگ رچایا۔ رپورٹ کے مطابق بھارت عملی طور پر ایک ایسی سیاسی صورتحال کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں ایک ہندوتواتنظیم کی بالادستی جمہوری توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔ مودی حکومت کے دور میں اپوزیشن کی سیاسی گنجائش مسلسل محدود ہوتی جا رہی ہے۔ رپورٹ اور سیاسی مبصرین کے مطابق مغربی بنگال جیسے اہم اپوزیشن گڑھ میں بھی بی جے پی کی جارحانہ انتخابی حکمت عملی نے سیاسی ماحول کو شدید کشیدہ بنایا۔ ریاستی اداروں اور انتخابی نظام کو اپوزیشن جماعتوں پر دبا ئوڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔مخالف سیاسی حلقوں نے الزام عائد کیاہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن نے بہار اور مغربی بنگال میں ووٹر فہرستوں سے مسلم ووٹرز کے بڑی تعداد میں نام خارج کرنے جیسے اقدامات کے ذریعے انتخابی شفافیت کو متاثر کیا۔ ان کے مطابق ووٹر لسٹوں میں تبدیلیاں اور مذہبی بنیادوں پر سیاست کو ہوا دے کر ہندو ووٹ بینک کو متحرک کرنے کی کوشش کی گئی۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے دور میں ہندو قوم پرستی کے بیانیے کو ریاستی سیاست میں نمایاں حیثیت دی گئی ہے، جس کے باعث بھارت میں اقلیتوں، خصوصا مسلمانوں، کے تحفظات میں اضافہ ہوا ہے۔مودی سرکار ملک بھر میں ہندو انتہا پسندی پر مبنی ہندوتوا پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے، جس نے سیکولر ازم کا بھارتی دعویٰ بے نقاب ہوگیا۔بین الاقوامی میڈیا میں بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی کے کٹھ پتلی وزیراعظم کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کی رپورٹس شائع ہوئی ہیں۔ 2014 میں مودی کے دور اقتدار کے آغاز ہی سے بھارت کا سماجی اور سیاسی مکالمہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے نظریے سے متاثر ہے۔ مودی کے ہندوتوا اقدامات میں تین طلاق پر پابندی، آرٹیکل 370 کا خاتمہ، شہریت ترمیمی ایکٹ،نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کی قانون سازی اور رام جنم بھومی منصوبہ شامل ہیں۔علاوہ ازیں ہندوتوا کے نئے مرحلے میں اب شہروں اور شہری زندگی پر کام کیا جارہا ہے، جہاں سماجی، ثقافتی اور مکانی طور پر ہندوتوا نظریہ کو لاگو کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کے گھروں کو اجتماعی سزا کے طور پر منظم طریقے سے مسمار کرنا شہروں پر ہندوتوا پالیسیوں کے رائج ہونے کی واضح مثال ہے۔ سمبھال مسجد کا واقعہ بھی مودی کی انتہا پسندی کی تازہ ترین مثال ہے۔ بھارت میں ”منی پاکستان” کا نام مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں کو توہین آمیز انداز میں پیش کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح گھیٹوائزیشن کے تصور کا استعمال کرتے ہوئے مودی سرکار نے مسلمانوں کو کم ترقی یافتہ اور بدحال علاقوں میں دھکیل دیا ہے، جہاں بنیادی ضروریات، تعلیم اور اقتصادی مواقع بھی موجود نہیں۔ یہ علاقے سرکاری اور قانونی تحفظات سے محروم ہیں اور غیر رسمی طور پر وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ پچھلی ایک دہائی میں ہندوتوا سرکار صرف مسلمانوں کو ان ”گھیٹوں” میں دھکیلنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ شہروں کو ہم آہنگ ہندوتوا شہر میں ڈھالنے کیلئے بھی کام کیا جا رہا ہے۔ہندوتوا شہروں میں پانچ نمایاں خصوصیات دیکھی جاسکتی ہیں جن میں محو کرنا، روزگار میں خلل ڈالنا، مستثنیٰ شہری مسماری و تعمیر نو کی اسکیمیں اور مقامی سطح پر عوامی تحریکیں شامل ہیں۔ 1990ء کی دہائی میں شروع ہونے والی ڈی کالونائزیشن نے ممبئی، چنئی اور کولکتہ کے بعد اب مسلمانوں کے نام پر بنائی جانے والی سڑکوں اور شہروں کے نام بھی تبدیل کردیے ہیں۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں