وطن عزیز میں سوشل میڈیاکا استعمال جس تیز ی سے فروغ پذیر ہے وہ ایک طرف تو امید افزا ہے جبکہ دوسری جانب اس کے مضر اثرات سے بھی انکار ممکن نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ معلومات تک رسائی بہرکیف ذ مہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔اس پس منظر میں ہمارے ہاں آئے روز ایسے واقعات رونما ہورہے جس میں جھوٹ اور مبالغہ آرائی سیکام لیتے ہوئے افراد ہی نہیں قومی اداروں کی کردار کشی کا سلسلہ بھی جاری وساری ہے۔ سماجی رابطوں کی مختلف سائٹس پر ہمارے ہاں جھوٹ پر مبنی مواد کی ہمہ وقت موجودگی اس سچائی پر مہر تصدیق ثبت کررہی کہ اصلاح احوال کے لیے سنجیدہ اقدمات اٹھائے جانے کی ضرورت بدرجہ اتم موجود ہے۔ حوصلہ افزا ہیکہ حکومت درپیش چیلنج کی موجودگی سے نہ صرف مکمل طور پر باخبر ہے بلکہ اس کی روک تھام کے لیے موثر حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔اس ضمن میں 2025 میں پیکا ایکٹ میں ترمیم کی گی ۔مذکورہ ترمیم کے تحت آن لائن جرائم اور بعض غیر قانونی مواد کو روکنے قانونی ، انتظامی اور تکینکی اقدمات اٹھائے گے۔آج پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی انٹرنیٹ پرموجود غیر قانونی مواد کا اقوائد وضوابط کی روشنی میں موثر سدباب کرتی ہے۔نیشنل سابئیر کرائم انو یسٹی گیشین ایجنسی آن لائن فراڈ سائبر ہراسانی ، بلیک میلنگ اور دیگر جرائم کی تحقیقات کا سلسلہ بھی جاری وساری ہے۔ حکومتی اداریتسلسل کے ساتھ عوام کو آگاہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ غیر مصدقہ خبریں ، گمراہ کن اطلاعات بغیر تصدیق کے شئیر نہ کریں بلکہ سوشل میڈیا پر آنے والے ہر امیج او ر خبر کی مصدقہ ذرائع سے جانچ پڑتال کریں ۔اس ضمن میں عام آدمی کی آگہی کیلیے پرنٹ ، الیکڑنک اور سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی باور کروایا جاتا ہیکہ ہر خاص وعام اپنی ملی ذمہ داریوں سے آگاہ رہے۔ بلاشبہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی نے جہاں ہر شعبہ زندگی کو متاثر کیا ہے وہی اب یہ معلومات تک رسائی سے آگے بڑھ پروپگینڈا تک جاپہنچا ہے۔ نہیں بھولنا چاہے کہ عصر حاضر میں سوشل میڈیا کے زریعہ بیانیہ کی جنگ لڑی جارہی ہے ۔ حریف ریاستیں اپنے دیرینہ مقاصد کی تکمیل کے ایسا مواد تخلیق کرتی ہیں جس کے نتیجے میں بنا جنگ کیے ہی مطلوبہ مقاصد حاصل کرلے جائیں۔وطن عزیز کا معاملہ یہ ہے کہ ہماری آبادی کا 65فیصد حصہ نوجوانون پر مشتمل ہے۔ جن کی عمریں 30 سال سے کم ہیں۔ اعداد وشمار کے مطابق دنیا بھر میں نوجوانوں کی تعداد1.8 بلین سے تجاوز کرچکی ہے۔ ان میں سے 87فیصد ترقی پذیر ممالک میں رہتیہیں۔ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بڑی عمر کے لوگوں سے کہیں زیادہ ہے۔اس صورت حال میں ہمارے صاحب رائے افراد کے لیے لازم ہے کہ وہ نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کے مضمرات بارے مکمل آگاہ ی فراہم کریں۔ بلاشبہ سوشل میڈیا سماجی اور سیاسی شعور سے آگہی فراہم کرتا ہے مگر معاملہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعے علاقائی اور عالمی طاقتیں اس سیحریف ریاستوں کے خلاف بیانیہ تخلیق یا پھر تشکیل کرنے کا کام لے رہی ہیں۔ ماضی قریب میں یہ کام پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا سے لیا جاتا رہا۔ مثلا سابق امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے 5 فرور ی 2003 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدام حسین ایٹمی ہتھیار سمیت وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار وں کی تیار ی میں مصروف ہے ۔” سابق امریکہ وزیر خارجہ کیاس بیان کو امریکی حکومت کے زیر اثر میڈیا نے بھرپور کوریج دی۔ جس کے نتیجے میں امریکی عوام عراق کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرنے کے لیے اپنے ملک کے ہمنوا بن گے۔ عصر حاضر میں ایک طرف پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے ہاتھوں میں روایتی ہتھیار کی شکل میں موجود ہے تو ساتھ سوشل میڈیا جدید ترین ٹیکنالوجی کی بنیاد پر موثر پروپیگنڈا ٹول کا کردار نبھا رہا ہے۔ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے کیاس کھیل میں لازم ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی اپنے قومی تقاضو ں کو ملحوظ خاطر رکھے۔ بدخواہوں کے مقابلہ میں ہمارا قومی اتفاق واتحاد ہی کامیابی وکامرانی کا باعث بن سکتا ہے۔ یادرکھنا چاہے کہ سوشل میڈیا کا ازخود استعمال فتنہ وفساد کی وجہ نہیں ۔ اس کے برعکس معاملہ یہ ہیکہ اگر بنا تصدیق جھوٹی خبریں پھیلائی جائیں ، کسی خاص طبقہ یا فرد کی ہتک کی جائے، مذہبی منافرت کو ہوا دی جائے تو یقینا اس کے مضمرات سامنے آسکتے ہیں ۔ قومی اداروں اور اہم شخصیات کے خلاف مواد کو بنا جانچ پڑتا ل کیے آگے فاروڈ کردیا جائے تو یقینا فرد یا گروہ کے خلاف قانون حرکت میں آسکتا ہے۔ اس کے برعکس سماج میں اتفاق واتحاد کے فروغ کے لیے کسی امیج یا تصویر کو شئیر کرنا ۔ تعلیم ، صحت اور انسانی حقوق کے حوالے سے آگہی پھیلانا ، مثبت سوچ کو فروغ دینا ، کسی خاص ہنر سے متعلق معلومات فراہم کرنا یقینا سودمند ثابت ہوسکتا ہے۔سوشل میڈیا میں ایک ہی مسلہ بارے مختلف لوگ مختلف آرا رکھ سکتے ہیں ۔ مہذب شہری کی حییثت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم اختلاف رائے کا احترام کریں۔ بحث مباحثہ میں باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ فکر انگیز یہ ہے کہ عصر حاضر میں سوشل میڈیا نوجوانوں ہی میں نہیں بلکہ پختہ عمر کے مرد وخواتین میں بھی مقبول ہوچکا۔ یوں لازم ہے کہ سوشل میڈیا کے لییوقت مقرر کیا جائے تاکہ مثبت اور تعمیری سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے کر ملک ، قوم اور معاشرے کی بہتری میں اپنا بھرپو ر حصہ ڈالا جاسکے۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں